Tuesday, May 19, 2026 | 01 ذو الحجة 1447
  • News
  • »
  • کاروبار
  • »
  • کیا ڈیزل اور پٹرول مزید ہوگامہنگا ؟ بھارت اب نہیں خرید سکے گا روسی تیل! امریکہ کی چھوٹ ختم

کیا ڈیزل اور پٹرول مزید ہوگامہنگا ؟ بھارت اب نہیں خرید سکے گا روسی تیل! امریکہ کی چھوٹ ختم

    Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: sahjad mia | Last Updated: May 18, 2026 IST

 کیا ڈیزل اور پٹرول مزید ہوگامہنگا ؟ بھارت اب نہیں خرید سکے گا روسی تیل! امریکہ کی چھوٹ ختم
آبنائے ہرمز میں ناکہ بندی کی وجہ سے دنیا بھر میں تیل کا بحران گہرا ہوتا جا رہا ہے، لیکن اس کا کوئی حل نظر نہیں آ رہا۔ ابتدائی طور پر امریکہ نے کچھ ممالک پر عائد تیل کی برآمدات پر پابندیاں ہٹا دی تھیں، جس میں روس بھی شامل تھا۔ اسی وجہ سے بھارت مسلسل روس سے سستا تیل خریدتا رہا اور ملک میں تیل کی سپلائی برقرار رہی۔  لیکن اب بھارت کے لیے یہ راستہ بھی بند ہوتا نظر آ رہا ہے کیونکہ امریکہ نے بھارتی کمپنیوں کو روسی تیل خریدنے کے لیے دی گئی چھوٹ میں توسیع نہیں کی ہے۔
 
ٹرمپ انتظامیہ کا یہ فیصلہ بظاہر صرف کاغذ پر نظر آتا ہے، لیکن بھارت کے انرجی سیکٹر کے لیے یہ ایک بہت بڑا جھٹکا ہے۔ آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کی آمد و رفت سست ہو گئی ہے اور انشورنس کے اخراجات بڑھ گئے ہیں۔ دنیا بھر میں خام تیل کی قیمتیں، جو جنگ شروع ہونے سے پہلے تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھیں، اب بڑھ کر 105 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی ہیں۔
 
 بھارت کے پاس اب کیا آپشنز ہیں؟
 
بھارت اس وقت دوہری مشکل میں پھنس چکا ہے،مشرق وسطیٰ سے تیل کی سپلائی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔روس سے ملنے والے سستے تیل پر دوبارہ پابندیوں کے بادل منڈلا رہے ہیں۔یہ صورتحال ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب حال ہی میں بھارت میں ایندھن کی قیمتوں میں تقریباً 3 روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ اب یہ بڑا سوال اٹھ رہا ہے کہ کیا بھارت میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں مزید بڑھیں گی؟ اور اب بھارت کے پاس اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے کیا متبادل باقی ہیں؟
 
 روسی تیل پر بھارت کا انحصار:
 
یوکرین اور روس کی جنگ کے بعد امریکہ نے روسی تیل کی برآمد پر پابندیاں عائد کی تھیں، لیکن بھارت اور چین مسلسل تیل خریدتے رہے، جس کے بدلے روس نے دونوں ممالک کو رعایتی قیمت پر خام تیل فراہم کیا۔تقریباً دو سال تک یہ سستا تیل بھارت کے لیے مہنگائی سے بچنے کا سب سے بڑا ہتھیار بنا رہا۔بھارتی ریفائننگ کمپنیوں نے اس دوران اچھا منافع کمایا اور وقت کے ساتھ ساتھ روس، بھارت کا سب سے بڑا خام تیل فراہم کرنے والا ملک بن گیا۔
 
 خلیج فارس میں بڑھتا ہوا تناؤ:
 
بعد ازاں، امریکہ اور اسرائیل کے ایران کے ساتھ بڑھتے ہوئے تناؤ کے بعد خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے آس پاس صورتحال مزید خراب ہو گئی۔ اس ناکہ بندی اور کشیدگی کی وجہ سے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں اور یہ خدشہ بھی بڑھ گیا ہے کہ سعودی عرب، عراق، کویت اور متحدہ عرب امارات (UAE) سے ہونے والی سپلائی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔ اگر ایسا ہوا تو بھارت کو متبادل ذرائع تلاش کرنے کے لیے سخت تگ و دو کرنی پڑے گی۔