ایران اور امریکہ کے درمیان پاکستان میں ہونے والی امن بات چیت ناکام ہو گئی ہے۔ دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر ضد والا رویہ اپنانے اور شرائط نہ ماننے کا الزام لگایا ہے۔ اس کے بعد مغربی ایشیا کی صورتحال میں بحران مزید گہرا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اشارے دیے ہیں کہ وہ ایران پر سمندری ناکہ بندی سمیت دیگر آپشنز پر غور کر رہے ہیں۔ آئیے سمجھتے ہیں کہ آگے کیا ہو سکتا ہے۔
کیا دونوں ممالک دوبارہ بات چیت کریں گے؟
ایرانی فارس نیوز ایجنسی نے بات چیت میں شامل ایک ایرانی وفد کے قریبی ذریعے کے حوالے سے بتایا کہ ایران امریکہ کے ساتھ بات چیت کا ایک اور دور کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں بنا رہا۔ تاہم، ایرانی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ سفارت کاری کا راستہ ابھی بند نہیں ہوا۔ دوسری جانب امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی کہا ہے کہ امریکہ نے ایران کو اپنا ’سب سے بہترین اور آخری‘ پیشکش پیش کی تھی، لیکن انہیں ہماری شرائط قبول نہیں تھیں۔
کیا کھلے گا آبنائےہرمز ؟
ایرانی تسنیم نیوز ایجنسی نے ایک ذریعے کے حوالے سے کہا کہ آبنائے ہرمز کی صورتحال میں تب تک کوئی تبدیلی نہیں ہوگی جب تک امریکہ کسی مناسب معاہدے پر راضی نہ ہو جائے۔ یعنی ایران ابھی ہرمز کھولنے پر تیار نہیں ہے۔ جبکہ امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے دو جنگی جہاز ہرمز سے گزر چکے ہیں، جو مبینہ طور پر بارودی سرنگوں کو ہٹانے میں مصروف ہیں۔ تاہم، ایران نے ان خبروں کی تردید کی ہے۔
ٹرمپ نے کہا تھا ؛ ہم جہازوں میں ہتھیار لوڈ کر رہے ہیں
ٹرمپ نے گزشتہ روز نیویارک پوسٹ سے بات کرتے ہوئے کہا تھا، ہم سب کچھ نئے سرے سے کر رہے ہیں۔ ہم جہازوں میں سب سے بہترین گولہ بارود اور ہتھیار لوڈ کر رہے ہیں، جو ہم نے پہلے استعمال کیے تھے، ان سے بھی بہتر۔ اگر ہمارا کوئی معاہدہ نہیں ہوتا تو ہم ان کا استعمال کریں گے اور بہت موثر طریقے سے کریں گے۔اس سے پہلے انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک مختصر پیغام میں ’دنیا کا سب سے طاقتور ری سیٹ کا ذکر کیا تھا۔
کیا جاری رہے گی جنگ بندی؟
امریکہ اور ایران کے درمیان فی الحال دو ہفتوں کی جنگ بندی جاری ہے، جو 22 اپریل کو ختم ہو رہی ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے دونوں فریقوں سے جنگ بندی کا احترام کرنے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے وعدہ کیا کہ اسلام آباد ثالثی جاری رکھے گا۔ تاہم، ابھی تک بات چیت کے اگلے دور کے لیے کوئی تاریخ یا جگہ طے نہیں کی گئی ہے۔ جنگ بندی کے حوالے سے دونوں فریقوں نے کچھ نہیں کہا ہے۔
ٹرمپ نے ایران کی ’سمندری ناکہ بندی‘ کے دیے اشارے:
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پر ایک مضمون شیئر کیا ہے، جس میں بات چیت ناکام ہونے کی صورت میں ایران کے خلاف ممکنہ اقدامات کی تفصیلات بتائی گئی ہیں۔ اس مضمون میں تجویز دی گئی ہے کہ اگر ایران امریکی شرائط نہیں مانتا تو امریکہ اس پر سمندری ناکہ بندی لگا سکتا ہے۔ مضمون میں کہا گیا ہے کہ ٹرمپ پہلے بھی وینزویلا کے خلاف اسی طرح کی حکمت عملی اپنا چکے ہیں، جس سے وہاں کی معیشت متاثر ہوئی تھی۔
بات چیت کیوں ناکام ہوئی؟
رپورٹ کے مطابق، بات چیت میں ایران کے جوہری پروگرام اور آبنائے ہرمز کو لے کر سب سے زیادہ اختلافات سامنے آئے۔ امریکہ نے کہا کہ ایران کو اپنا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم کرنا ہوگا، جس پر ایران راضی نہیں ہوا۔ اسی طرح ہرمز کے حوالے سے بھی امریکہ نے مطالبہ کیا کہ اسے جہازوں کی محفوظ اور بلا رکاوٹ آمدورفت کے لیے کھلا رکھنا ہوگا، جبکہ ایران یہاں جہازوں سے ٹول وصول کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے۔