فروری 2020 کے دہلی فسادات سے جڑے معاملے میں تقریباً پانچ سال سے عمر خالد جیل میں بند ہیں۔ اب ان کے لیے بین الاقوامی سطح پر یکجہتی کا پیغام ملا ہے، نیویارک سٹی کے میئر زوہران ممدانی نے عمر خالد کو ایک نوٹ لکھ کر حمایت کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
خیال رہے کہ چند روز قبل عمر خالد کے والد قاسم رسول الیاس امریکہ کے دورے پر گئے تھے،جہاں انہوں نے کئی لوگوں سے ملاقاتیں کی۔
زوہران ممدانی کا عمر خالد کو خط:
ٹی او آئی کی ایک رپورٹ کے مطابق یہ بغیر تاریخ کا ہاتھ سے لکھا نوٹ عمر خالد کی ساتھی بنوجوتسنا لاہیری نے جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر شیئر کیا ہے۔ یہ خط اس وقت سامنے آیا ہے جب زوہران ممدانی نے آدھی رات کو منعقد ایک تقریب میں نیویارک سٹی کے میئر کے طور پر حلف لیا ہے۔
عمر خالد کو لکھے خط میں کیا تھا؟
خط میں ممدانی نے لکھا، پیارے عمر،میں ہمیشہ آپ کی ان تحریروں کے بارے میں سوچتا ہوں،جن میں تلخ کو خود پر حاوی نہ ہونے دینے کی بات تھی۔ آپ کے والدین سے مل کر خوشی ہوئی۔ ہم سب آپ کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
کسی معاملے میں جیل میں ہیں عمر خالد؟
عمر خالد جواہر لال نہرو یونیورسٹی (JNU) کے سابق طالب علم ہیں۔ انہیں ستمبر 2020 میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ یعنی UAPA کے تحت دہلی فسادات کی سازش رچنے کا الزام لگایا گیا ہے، جسے عمر خالد مسلسل مسترد کرتے رہے ہیں۔
پچھلے سال ہوئی تھی زوہران سے ملاقات:
دسمبر میں عمر خالد کو اپنی بہن کی شادی میں شرکت کے لیے عارضی ضمانت ملی تھی۔ رپورٹ کے مطابق عمر خالد کے والد سید قاسم رسول الیاس نے بتایا کہ خاندان نے پچھلے سال دسمبر کے آغاز میں امریکہ کے دورے کے دوران زوہران ممدانی سے ملاقات کی تھی۔ یہ دورہ عمر کی بہن سے ملنے کے لیے کیا گیا تھا۔
انہوں نے پڑھے ہیں عمر کے خط:
الیاس نے کہا، انہوں نے ہمیں خاص طور پر وقت دیا تھا۔ ہم نے کئی مسائل پر بات چیت کی، جن میں عمر کی قید بھی شامل تھی۔ ہمیں امید ہے کہ وہ نیویارک کے لوگوں کے لیے کیے گئے اپنے وعدوں کو پورا کریں گے۔انہوں نے آگے بتایا، ہم نے میرے بیٹے کے ساتھ ہو رہے واقعات اور اس کے کیس سے جڑی صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ ممدانی نے کہا کہ وہ اس معاملے کو فالو کرتے ہیں اور انہوں نے جیل سے عمر کے لکھے خطوط بھی پڑھے ہیں۔
بنوجوتسنا لاہیری نے کہا، عمر کی اتنی لمبی مدت تک جیل میں قید خود میں ناانصافی ہے اور یہی وجہ ہے کہ اس معاملے نے بین الاقوامی توجہ حاصل کی ہے۔الیاس نے یہ بھی بتایا کہ انہوں نے امریکہ کی کانگریس کے ڈیموکریٹ رکن جیمی راسکن سے الگ ملاقات کی۔ الیاس کے مطابق، انہوں نے عمر کی گرفتاری پر تشویش کا اظہار کیا اور حمایت بھی دی۔
امریکہ کی کانگریس کے تین ارکان نے لکھا تھا خط:
جیمی راسکن کے ساتھ ساتھ امریکہ کی کانگریس کے تین دیگر ارکان نے 30 دسمبر کو بھارت کے امریکہ میں متعین سفیر ونے موہن کواٹرا کو خط لکھ کر عمر خالد کی مسلسل جاری پری ٹرائل حراست پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔ ارکان نے کہا تھا کہ عمر خالد کو UAPA کے تحت پانچ سال سے ضمانت نہیں ملی ہے اور یہ دلیل دی کہ جس طرح کی پری ٹرائل حراست میں انہیں رکھا گیا ہے، وہ خود میں سزا دینے والی ہے۔