Thursday, October 22, 2026 | 10 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • عمرہ زائرین کی وطن واپسی کے لیے اویسی کی اپیل، حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ

عمرہ زائرین کی وطن واپسی کے لیے اویسی کی اپیل، حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 22 Oct 2026

عمرہ زائرین کی وطن واپسی کے لیے اویسی کی اپیل، حکومت سے فوری اقدامات کرنے کا مطالبہ
مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور پروازوں میں خلل کے باعث تقریباً 4 ہزار ہندوستانی عازمینِ عمرہ کے مکہ اور مدینہ میں پھنسے ہونے کی اطلاعات ہیں۔ اس صورت حال کے پیش نظر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اور حیدرآباد کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے حکومتِ ہند سے فوری مداخلت کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن سے مطالبہ کیا ہے کہ ایئر لائنز کو بڑے طیارے چلانے کی اجازت دی جائے، تاکہ پھنسے ہوئے عازمین کو جلد از جلد وطن واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے متبادل کے طور پر خصوصی پروازوں کا انتظام کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔ اسد الدین اویسی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے بیان میں کہا کہ انڈیگو، آکاسا ایئر اور ایئر انڈیا کی پروازیں منسوخ ہونے کے باعث بڑی تعداد میں ہندوستانی عازمین سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق، DGCA کو متعلقہ ایئر لائنز کو بڑے طیارے چلانے کی اجازت دینی چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ مسافروں کو واپس لایا جا سکے۔ اگر ایسا ممکن نہیں ہے تو حکومت کو خصوصی پروازوں کا انتظام کرنا چاہیے۔
 
میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں اسد الدین اویسی نے کہا کہ متعدد ہندوستانی عازمین گزشتہ دو سے تین ہفتوں سے مدینہ، جدہ اور مکہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ٹریول ایجنٹس نے ان مسافروں کو مشکل حالات میں چھوڑ دیا ہے۔ اویسی کے مطابق، DGCA کی جانب سے انڈیگو، آکاسا ایئر اور ایئر انڈیا کو جدہ کے لیے پروازیں چلانے کی اجازت نہ ملنے کی وجہ سے واپسی میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ متعلقہ حکام فوری طور پر ان ایئر لائنز کو ایئربس A321 جیسے بڑے طیارے استعمال کرنے کی اجازت دیں، تاکہ عازمین کی واپسی کا عمل تیز کیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ پھنسے ہوئے عازمین میں غریب اور معاشی طور پر کمزور خاندانوں سے تعلق رکھنے والے افراد بھی شامل ہیں، جو سعودی ایئر لائنز کے مہنگے ٹکٹ خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے۔ ایسے میں حکومت کی مدد ان کے لیے اہم ہے۔
 
 
اسد الدین اویسی نے اس معاملے پر وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر، وزیر شہری ہوابازی رام موہن نائیڈو اور وزیر اقلیتی امور کرن رجیجو سے بھی رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اگر DGCA متعلقہ ایئر لائنز کو پروازیں چلانے کی اجازت نہیں دیتا تو حکومت اپنی سطح پر خصوصی طیاروں کا انتظام کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں کو محفوظ طریقے سے وطن واپس لانے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں، تاکہ انہیں مزید پریشانی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور سعودی عرب کے ہوائی اڈوں پر حملوں کے باعث پروازوں کا نظام متاثر ہوا ہے۔ اس صورت حال سے عمرہ کے لیے سعودی عرب جانے والے ہندوستانی زائرین کی واپسی بھی متاثر ہونے کی بات کہی جا رہی ہے۔
 
اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ 11 اکتوبر کو ریاض کے شاہ خالد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہونے والے حملے میں 13 افراد ہلاک ہوئے، جن میں حیدرآباد کا ایک زائر بھی شامل تھا، جبکہ 300 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں 11 ہندوستانی شہری بھی شامل بتائے گئے ہیں۔ مزید یہ کہ 21 اکتوبر کی رات دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد کی ہلاکت اور آٹھ دیگر کے زخمی ہونے کی اطلاع دی گئی ہے۔ تاہم، ان حملوں، ہلاکتوں اور پروازوں کی منسوخی سے متعلق تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔ فی الحال، پھنسے ہوئے عازمین کی وطن واپسی کے لیے خصوصی پروازوں اور بڑے طیاروں کی اجازت کا مطالبہ اہمیت اختیار کر گیا ہے۔