آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے ایلون مسک کے بیان پر سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی مخالفت کرنے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ کسی غیر ملکی کاروباری شخصیت کو بھارت کے سیاسی فیصلوں پر سوال اٹھانے کی اجازت دے دی جائے۔ اویسی نے اس معاملے میں حکومت کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ وہ مودی کی سیاست کے مخالف ہیں اور آگے بھی مخالفت کرتے رہیں گے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی بیرونی شخص کو ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں اس طرح بات کرنے کا حق مل جائے۔
اسد الدین اویسی نے سوال اٹھایا، ’’ہم نے ہمیشہ نریندر مودی کی مخالفت کی ہے اور کرتے رہیں گے، لیکن مسک ہمارے ملک کے وزیر اعظم کے بارے میں ایسی باتیں کیسے لکھ سکتے ہیں؟ اویسی نے بی جے پی کی خاموشی پر بھی سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ جو جماعت اکثر قوم پرستی کی بات کرتی ہے، وہ ایک بااثر غیر ملکی کاروباری شخصیت کی جانب سے بھارت کے فیصلوں پر سوال اٹھائے جانے کے بعد جواب کیوں نہیں دے رہی؟ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، ’’یہ افسوسناک ہے کہ بی جے پی اور مودی حکومت گوری جلد والے غیر ملکیوں سے اتنی خوفزدہ کیوں ہیں؟‘‘ اویسی نے واضح کیا کہ ان کا یہ مؤقف وزیر اعظم مودی کی سیاست کی حمایت نہیں ہے، بلکہ ان کے نزدیک یہ ملک کے سیاسی اختیار اور خودمختاری کا معاملہ ہے۔
یہ تنازع اس وقت سامنے آیا جب اسپیس ایکس کے مالک اور ٹیسلا کے سی ای او ایلون مسک نے بھارت میں اپنی سیٹلائٹ انٹرنیٹ کمپنی اسٹار لنک کی تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت میں تاخیر پر سوال اٹھایا۔ اس سے پہلے کانگریس رہنما راہول گاندھی بھی اس معاملے پر اپنا مؤقف پیش کر چکے ہیں اور انہوں نے مسک کی حمایت کی تھی۔ اب اویسی نے اس معاملے کو قوم پرستی سے جوڑتے ہوئے بی جے پی سے سوال کیا ہے۔ حکومت کے مطابق، بھارت میں سیٹلائٹ کمیونیکیشن کی خدمات فراہم کرنے والی تین لائسنس یافتہ کمپنیوں اسٹار لنک، ریلائنس جیو کے سیٹلائٹ منصوبے اور یوٹل سیٹ ون ویب، کے لیے سیکیورٹی کلیئرنس کا عمل جاری ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ تینوں کمپنیاں فی الحال اس عمل کے ایک ہی مرحلے میں ہیں۔ کسی بھی کمپنی کو اس وقت تک تجارتی خدمات شروع کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی جب تک ضروری سیکیورٹی کلیئرنس اور اسپیکٹرم سے متعلق منظوریوں کا عمل مکمل نہ ہو جائے۔ اس معاملے میں اصل سوال یہ ہے کہ کیا اسٹار لنک کے لیے منظوریوں میں تاخیر کسی خاص کمپنی کے ساتھ امتیازی سلوک ہے یا یہ ایک ہی سیکیورٹی اور قانونی عمل کا حصہ ہے۔ حکومت کے مطابق، تمام متعلقہ کمپنیوں کے لیے کارروائی جاری ہے، جبکہ سیاسی رہنماؤں کے درمیان اس معاملے پر بحث بھی تیز ہو گئی ہے۔






