پُنگنور میں ٹی ڈی پی و وائی ایس آر کانگریس کارکنوں کے درمیان تصادم
وائی ایس آر سی پی کے رکن پارلیمنٹ متھن ریڈی کے قافلے پر حملہ
نامزدگی کے عمل کے دوران دونوں فریقوں نے پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ
پولیس پر تماشائی بننے کا اپوزیشن نے وائی ایس آر سی پی نے لگایا الزام
پُرامن انتخابات کےلئےنیم فوجی دستے تعینات کرنے جگن کا مطالبہ
آندھراپردیش کے ضلع انامایا کے پْنگنور اور رائے چوٹی میں شدید کشیدگی د یکھی گئی۔ بلدیاتی انتخابات کے لیے پرچہ نامزدگیوں کے پہلے دن جمعہ کو وائی ایس آر سی پی اور ٹی ڈی پی کارکنوں کے درمیان تصادم ہوا۔ دونوں جانب سے ایک دوسرے پر پتھراؤ سے علاقہ میں ماحول کشیدہ ہوگیا۔ رائےچوٹی میں گاڑیوں کو آگ لگا دی گئی۔
پرچہ نامزدگی کے دوران کشیدگی
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب وائی ایس آر سی پی کے لوک سبھا لیڈر اور راجا م پیٹ کے ایم پی، پی وی متھن ریڈی پارٹی امیدواروں کے ساتھ پرچہ نامزدگی داخل کرنے جارہے تھے۔ وائی ایس آر سی پی نے الزام لگایا کہ ٹی ڈی پی کارکنوں نے ان کے قافلے کو روکا اور انہیں نامزدگی مرکز جانے سے روکنے کی کوشش کی۔ اس میں کہا گیا ہے کہ انہوں نے لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے گاڑیوں پر حملہ کیا اور اس واقعے میں کئی گاڑیوں کو نقصان پہنچا۔ جھڑپ میں کچھ زخمی بھی ہوئے۔
پولیس پر تماشائی کا الزام
وائی ایس آر سی پی نے اس حملے کوجان لیوا حملہ قرار دیتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی۔ وائی ایس آر سی پی نے تلگودیشم حکومت پر تشدد کے ذریعے انتخابی عمل میں خلل ڈالنے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ اس نے وہاں موجود پولیس پر تنقید کی کہ وہ واقعہ کے وقت تماشائی بنی اور اپنے امیدواروں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔ انھوں نے مطالبہ کیا کہ ریاستی الیکشن کمیشن فوری طور پر اس واقعہ کا نوٹ لے کر سخت کاروائی کرے۔ اس میں مطالبہ کیا گیا کہ ذمہ داروں کے خلاف مقدمات درج کرکے انہیں گرفتار کیا جائے اور امیدواروں کو سیکیورٹی فراہم کی جائے اور وہ پرامن طریقے سے کاغذات نامزدگی داخل کریں۔ اس تصادم سے علاقے میں بلدیاتی انتخابات کے پیش نظر سیاسی رنجش ایک بار پھر کھل کر سامنے آگئی۔
پُرامن انتخابات کےلئےنیم فوجی دستے تعینات کرنے جگن کا مطالبہ
راجم پیٹ وائی سی پی کے رکن پارلیمنٹ متھن ریڈی پر پنگنور میں حملہ کیا گیا، پارٹی سربراہ جگن نے اپنے شدید غصے کا اظہار کیا۔ انہوں نےالزام لگایاکہ چیف منسٹر چندرا بابو نائیڈو ایسے حملوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں کیونکہ عوامی مخالفت بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بلدیاتی انتخابات کے لئے پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے وائی سی پی امیدواروں اور قائدین کو روکا جارہا ہے۔
ریاست میں جنگل راج
جگن نے تنقید کی کہ ریاست میں 'جنگل راج' چل رہا ہے اور تشدد چندرا بابو نائیڈو کے لیے کوئی نئی بات نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی ایک سنگین صورتحال میں ہے جہاں وہ لوک سبھا لیڈر کو تحفظ بھی نہیں دے سکتی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکمران اتحاد شکست کے خوف سے حملوں کا سہارا لے رہا ہے اور ان کا آزادانہ انتخابات کرانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ جگن نے واضح کیا کہ مرکزی فورسز کی نگرانی میں انتخابات آسانی سے ممکن ہوں گے۔ دوسری طرف جگن نے متھن ریڈی سے فون پر بات کی اور ان سے مشورہ کیا۔
پتھراؤ اور لاٹھیوں سے حملہ
وائی سی پی ذرائع نے بتایا کہ ٹی ڈی پی کارکنوں نے پنگنور میں متھن ریڈی کے قافلے کو روکا اور ان پر پتھروں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا۔ وائی ایس آر سی پی ذرائع نے الزام لگایا کہ اس واقعہ میں متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا اور متھن ریڈی کے سیکورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ بعد ازاں حکام نے انہیں نامزدگی مرکز کے الگ کمرے میں منتقل کر دیا۔ وائی ایس آر سی پی نے الزام لگایا کہ پولیس نے حملے کے دوران تماشائی کا کردار ادا کیا۔
ملے کے ماسٹر مائینڈ، نائیڈو اور لوکیش
وائی سی پی لیڈراورسابق وزیر پدی ریڈی رام چندر ریڈی نے اس واقعہ پر سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس حملے کی منصوبہ بندی چیف منسٹر چندرابابو نائیڈو اور وزیر نارا لوکیش کے اکسانے پر کی گئی تھی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت آمرانہ انداز میں کام کر رہی ہے اور پولیس ٹی ڈی پی کارکنوں کے ساتھ ملی بھگت کر کے ان کے امیدواروں کو روک رہی ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر متھن ریڈی کو کچھ ہوا تو حکومت کو پوری ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ ان جھڑپوں کی وجہ سے پنگنور میں سیاسی ماحول اور بھی گرم ہو گیا ہے۔
وائی سی پی لیڈ ر پدی ریڈ ی پر معاملہ درج
اننت پور ضلع کے تاڈی پتری میں ایک بار پھر سیاست گرم ہو گئی ہے۔ پولیس نےوائی ایس آر سی پی لیڈر کیتھی ریڈی پدی ریڈی کے خلاف مقدمہ درج کیا ہے۔ تلگو دیشم پارٹی تادی پتری ٹاؤن کے صدر حاجی باشا نے پولیس میں شکایت درج کرائی ہے، جس میں الزام لگایا گیا ہے کہ اس نے بلدیاتی انتخابات کے دوران اشتعال انگیز اور دھمکی آمیز تبصرے کیے تھے۔
تفصیلات کے مطابق پدی ریڈی نے میونسپل انتخابات کے نامزدگیوں کے دوران اپنے حریف جے سی پربھاکر ریڈی کے گروپ کے خلاف سخت تبصرے کیے تھے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ وہ وائی ایس آر سی پی کی جانب سے فیاض باشا کو میونسپل چیئرپرسن کے امیدوار کے طور پر میدان میں اتاریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے اپنے سیاسی حریف اور ٹی ڈی پی لیڈر جے سی پربھاکر ریڈی پر سخت تنقید کی۔
حاجی پاشا نے درج کرائی شکایت
ان تبصروں کی بنیاد پر ٹی ڈی پی لیڈر حاجی باشا نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ انہوں نے شکایت میں کہا کہ پدی ریڈی کے تبصروں سے امن و امان میں خلل پڑنے کا امکان ہے۔ حاجی باشا کی دی گئی شکایت کی بنیاد پر، پولیس نےپدی ریڈی کے خلاف آئی پی سی کی دفعہ 192، 351(2)، 223 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے اور تحقیقات کر رہی ہے۔ انتخابات کے وقت اس واقعہ نے تاڈی پتری میں سیاسی کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔
ٹی ڈی پی کا الزام، دو کارکن شدید زخمی
ٹی ڈی پی کارکنوں کا الزام ہے کہ رکن پارلیمنٹ متھن ریڈی کی گاڑی صبح کے وقت ان کی جانب بڑھی، جس کے نتیجے میں پارٹی کے دو کارکن شدید زخمی ہوگئے۔ٹی ڈی پی کارکنوں کے مطابق، اس واقعے کے بعد انہوں نے متھن ریڈی کی گاڑیوں کو روک کر ان کے ساتھ موجود افراد سے سوالات کیے۔ ان کا یہ بھی الزام ہے کہ کرناٹک سے آئے بعض افراد نے دوبارہ حملے کی کوشش کی۔جس کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی مزید بڑھ گئی۔تاہم، واقعے سے متعلق ان الزامات اور اس میں ملوث افراد کی شناخت کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔






