جرمنی کے شہر فرینکفرٹ سے نئی دہلی جانے والی ایئر انڈیا کی پرواز کو ہائی جیک کیے جانے کی اطلاع ملنے کے بعد جے پور ہوائی اڈے پر ہنگامی لینڈنگ کرائی گئی۔ تاہم، سیکیورٹی ایجنسیوں کی ابتدائی تحقیقات میں ہائی جیکنگ کی اطلاع جھوٹی ثابت ہوئی۔ اس واقعے کے بعد ہوائی اڈے پر سیکیورٹی سخت کر دی گئی اور پولیس سمیت مختلف ایمرجنسی ٹیمیں فوری طور پر متحرک ہو گئیں۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، ایئر ٹریفک کنٹرول (ATC) اور احمد آباد میں متعلقہ حکام کو صبح 9 بج کر 5 منٹ پر ایئر انڈیا کی پرواز AI 2030 کے حوالے سے ہنگامی اطلاع موصول ہوئی۔ اس کے بعد طیارے کا رخ نئی دہلی کے بجائے جے پور کی طرف موڑ دیا گیا، جہاں اس نے ہنگامی لینڈنگ کی۔ یہ پرواز گزشتہ رات 10 بج کر 45 منٹ پر روانہ ہوئی تھی۔ ابتدائی معلومات کے مطابق، پرواز بوئنگ 787-9 طیارے کے ذریعے چلائی جا رہی تھی۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی جے پور ہوائی اڈے پر ہلچل مچ گئی۔ حفاظتی انتظامات کے تحت بم ڈسپوزل اسکواڈ، فائر بریگیڈ اور دیگر ہنگامی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ راجستھان پولیس کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل (ADG) سمیت کئی اعلیٰ پولیس افسران نے بھی ہوائی اڈے کا رخ کیا۔ ذرائع کے مطابق، جب طیارہ ممبئی فلائٹ انفارمیشن ریجن (FIR) میں تھا تو پائلٹ کی جانب سے ’اسکواک کوڈ 7500‘ فعال کیے جانے کی اطلاع سامنے آئی۔ ہوا بازی کے شعبے میں یہ کوڈ طیارے میں غیر قانونی مداخلت یا ہائی جیکنگ کی صورتِ حال کی نشاندہی کرتا ہے۔ لینڈنگ کے بعد طیارے کو جے پور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے آئسولیشن بے میں منتقل کیا گیا، جہاں سیکیورٹی اہلکاروں نے جانچ کی۔
مالویہ نگر کے اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس شیو دیال نے میڈیا کو بتایا کہ ہوائی اڈے کے حکام نے پولیس کو فرینکفرٹ سے دہلی آنے والی پرواز کی ہنگامی لینڈنگ کے بارے میں اطلاع دی تھی۔ ان کے مطابق، یہ کارروائی بم کی دھمکی کے باعث کی گئی تھی۔ تاہم، ابتدائی تحقیقات میں ہائی جیکنگ سے متعلق اطلاع افواہ ثابت ہوئی۔ طیارے میں سوار مسافروں کی درست تعداد اور واقعے کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔ ایئر انڈیا کی جانب سے اس معاملے پر باضابطہ بیان کا انتظار ہے۔ واقعے سے متعلق مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہی یہ واضح ہو سکے گا کہ ہنگامی اطلاع کس بنیاد پر جاری کی گئی تھی۔







