Wednesday, October 14, 2026 | 02 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • علاقائی
  • »
  • آندھراپردیش میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری۔ تین مرحلوں میں پولنگ

آندھراپردیش میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری۔ تین مرحلوں میں پولنگ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 14 Oct 2026

آندھراپردیش میں بلدیاتی انتخابات کا شیڈول جاری۔ تین مرحلوں میں پولنگ
 
آندھرا پردیش میں بلدیاتی انتخابات کے شیڈول کا انتظاراب ختم ہوگیا ہے۔ ریاستی الیکشن کمشنرانیل چندر پونیتا نے بدھ14 اکتوبر کو وجئے واڑہ میں انتخابی شیڈول کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ریاست میں میونسپلٹیوں، کارپوریشنوں، زیڈ پی ٹی سی، ایم پی ٹی سی  اور گاؤں پنچایتوں کے لیے تین مرحلوں میں انتخابات کرائے جائیں گے۔ اس اعلان کے ساتھ ہی ریاست بھر میں انتخابی ضابطہ اخلاق فوری طور پر نافذ ہو گیا ہے۔ آندھرا پردیش میں 77 میونسپلٹیز، 13 میونسپل کارپوریشنز اور 10 نگر پنچایتوں کے لیے 2026 کے بلدیاتی انتخابات کا اعلان کر دیا ہے۔
 

 بلدیاتی انتخابات کا شیڈول 

•  پرچہ نامزدگی: 18 اکتوبر سے21 اکتوبر 2026 تک
• نامزدگیوں کی جانچ: 19 اکتوبر سے 20 اکتوبر 
•  پرچہ نامزدگی واپسی کی آخری تاریخ: 21 اکتوبر 2026
• پولنگ کی تاریخ: 28 اکتوبر 2026
• ووٹوں کی گنتی اور نتائج: 30 اکتوبر 2026
 

ZPTC اور MPTC (رورل لوکل باڈی) کا شیڈول

•  نو ٹیفکیشن : اکتوبر19 کو جاری ہوگا
•  پرچہ نامزدگی:23اکتوبر
• پرچہ نامزدگی کی واپسی27
• پولنگ کی تاریخ: 3 نومبر 2026 
• نتائج کا اعلان: 5 نومبر 2026
 

گرام پنچایت انتخابات کا شیڈول 

 پنچایت شیڈول کا پہلا مرحلہ 

 
•13 نومبر کو نو ٹیفکیشن 
•17 نومبر کو نامنیشن
•21 نومبر کو  نامزدگی کی آخری تاریخ 
•26 نومبر 2026 (پولنگ اور نتائج)
 
 پنچایت شیڈول کادوسرا مرحلہ 
 
•16 نومبر کو نو ٹیفکیشن 
•20 نومبر کو نامنیشن
•24 نومبر کو  نامزدگی کی آخری تاریخ 
•29 نومبر 2026 (پولنگ اور نتائج)
 
 پنچایت شیڈول کاتیسرا مرحلہ 
 
•19 نومبر کو نو ٹیفکیشن 
•23 نومبر کو نامنیشن
•27 نومبر کو  نامزدگی کی آخری تاریخ 
• 2 دسمبر 2026 (پولنگ اور نتائج)
 
• میئرز/چیئرپرسنز کا براہ راست انتخاب: میونسپل کارپوریشنوں کے میئرز اور بلدیات کے چیئرپرسن ان انتخابات کے لیے ووٹروں کے ذریعے براہ راست منتخب کیے جائیں گے۔
• اخراجات کی حد: گریٹر وشاکھاپٹنم کے میئر امیدواروں کے لیے اخراجات کی حد 40 لاکھ روپئے تک مقرر کی گئی ہے۔
 

 زیڈ پی پی ریزرویشن 

آندھرا پردیش  حکومت نے ریاست میں تمام 28 ضلع پریشد (ZPP) چیئرمین کے عہدوں کے تحفظات کو حتمی شکل دیتے ہوئے کلیدی احکامات جاری کیے ہیں۔ پنچایت راج کمشنر میلواراپو کرشن تیجا نے منگل کو اس سلسلے میں ایک سرکاری بیان جاری کیا۔ اس فیصلے سے آئندہ بلدیاتی انتخابات کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔
 
ضلع پریشد دیہی علاقوں میں انتظامیہ اور ترقیاتی پروگراموں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ اس تناظر میں ZPP چیئرمین کے عہدوں کے تحفظات کو حتمی شکل دینا بہت اہمیت کا حامل ہے۔ حکومت نے SC، ST، BC اور خواتین کو آبادی کی بنیاد پر اور گردشی انداز میں تحفظات مختص کرکے سماجی انصاف کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے ہیں۔ کل 28 نشستوں میں سے 5 نشستیں درج فہرست ذاتوں (SC) کے لیے، 3 درج فہرست قبائل (ST) کے لیے اور 6 پسماندہ طبقات (BC) کے لیے مخصوص کی گئی ہیں۔ باقی 14 سیٹیں غیر ریزرو کیٹیگری میں رکھی گئی ہیں۔ خواتین کو بااختیار بنانے کے لیے بڑا زور دیتے ہوئے، یہ قابل ذکر ہے کہ تمام زمروں میں خواتین کے لیے کل 14 نشستیں مختص کی گئی ہیں۔ان تحفظات کے اعلان کے ساتھ ہی ریاست کی تمام بڑی سیاسی جماعتوں میں ہلچل مچ گئی ہے۔ امیدوار متعلقہ اضلاع میں تحفظات کے مطابق اپنی کوششیں تیز کریں گے۔
 

ضلع کے لحاظ سے ریزرویشن کی مکمل تفصیلات:

ایس سی اور ایس ٹی زمرہ جات:
تروپتی – ایس سی  ویمن 
گنٹور – ایس سی  ویمن 
کونسیما – ایس سی خواتین
این ٹی آر – ایس سی
پرکاسم – ایس سی
 پولاورم – ایس ٹی ویمن
الوری سیتارماراجو – ایس ٹی
پاروتی پورم مانیام – ایس ٹی
 
بی سی زمرے:
انکا پلی – بی سی ویمن 
سری کا کولم – بی سی ویمن  
وجیا نگرم  – بی سی ویمن
وشاکھا پٹنم–بی سی ویمن 
اننت پور - بی سی ویمن 
کرنول - بی سی ویمن 
 
غیر محفوظ زمرے:
خواتین: کرشنا، پالناڈو، مشرقی گوداوری، باپٹلا، کاکیناڈا، چتور، ایلورو۔
جنرل: نیلور، انامایہ، مارکاپورم، نندیال، سری ستیہ سائی، مغربی گوداوری، وائی ایس آر کڑپا۔
 
 انتخابی اعلامیہ کےساتھ ہی ریاست میں انتخابی سرگرمیاں تیز ہوگئی ہیں۔ ریزویشن کو لیکر  انتخابی عمل  عدالت میں زیر دوراں تھا۔ این ڈی اے اتحادی حکومت نے ریزرویشن  کو بڑھا دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے ریزرویشن کی حد 50 فیصد سے کرنے کو منظوری نہیں دی۔ حکمراں جماعت تلگو دیشم نے اپنے طور پر ریزرویشن دینے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر اپوزیشن نے حکومت پر  ریزرویشن کے نام پر عوام کو گمراہ کرنے  کا الزام لگایا ہے۔ اپوزیشن  کا کہنا ہےکہ حکومت ریزرویشن کو قانونی شکل دینے کے بجائے سیاسی طور پر ریزرویشن دے رہی ہے۔