کینیڈین کلاسیکی ادب کی ماہر، مصنفہ اور ماہرِ تعلیم این کارسن کو 2026 کا نوبیل انعام برائے ادب دے دیا گیا ہے۔ 76 سالہ این کارسن کا ادبی کام شاعری، نثر، فکشن، نان فکشن اور ترجمے جیسی مختلف اصناف کو یکجا کرنے کے باعث روایتی ادبی حدود سے مختلف سمجھا جاتا ہے۔
سویڈش اکیڈمی نے جمعرات کو ادب کے نوبیل انعام کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ این کارسن کو یہ اعزاز ’’ایسے جرات مندانہ اور اختراعی ادبی کام کے لیے دیا گیا ہے جو کلاسیکی روایت کے ساتھ تخلیقی اور کھیل بھرے مکالمے کے ذریعے عصری ادب کے لیے نئی اصناف اور نئی شکلیں تخلیق کرتا ہے۔‘‘
این کارسن تیسری کینیڈین
این کارسن نوبیل انعام برائے ادب حاصل کرنے والی تیسری کینیڈین اور 2013 میں ایلس منرو کے بعد یہ اعزاز حاصل کرنے والی پہلی کینیڈین ادیبہ ہیں۔ گزشتہ 10 برسوں میں یہ اعزاز حاصل کرنے والی خواتین میں کارسن پانچویں ہیں۔ ان سے قبل 2024 میں جنوبی کوریا کی ہان کانگ کو نوبیل انعام برائے ادب دیا گیا تھا۔
قدیم یونانی اور لاطینی ادب سے گہرا تعلق
این کارسن نے کلاسیکی یونانی اور لاطینی ادب کا مطالعہ کیا، تاہم ان کی دلچسپی جدید ادب، تاریخ اور بشریات میں بھی رہی، جن کے اثرات ان کے ادبی کام میں نمایاں نظر آتے ہیں۔وہ قدیم یونانی مصنفین ایسکائلس، یوریپیڈیز، ہومر، سیفو، سوفوکلیز اور تھوسی ڈائڈیز کے ساتھ ساتھ قدیم روم کے شاعر کیٹلس کے کاموں کے تراجم، حوالوں اور جدید تعبیر کے لیے خاص طور پر جانی جاتی ہیں۔کارسن نے جدید دور کے کئی اہم ادیبوں اور مفکرین سے بھی تحریک حاصل کی، جن میں ناول نگار ایملی برونٹے، شاعر جان کیٹس، جرمن فلسفی جارج ولہلم فریڈرک ہیگل اور مارٹن ہائیڈیگر کے علاوہ فرانز کافکا اور ورجینیا وولف شامل ہیں۔
قدیم یونانی ادب کے اہم تراجم
این کارسن کے معروف تراجم میں سوفوکلیز کے ڈرامے پر مبنی ’الیکٹرا‘ (2001)، یونانی شاعرہ سیفو کے کلام سے ماخوذ ’اِف ناٹ، ونٹر‘ (2002) اور یوریپیڈیز کے ڈراموں ’ہیراکلیز، ہیوبا، ہپولیٹس اور الکیسٹس‘ پر مشتمل ’گریِف لیسنز‘ (2006) شامل ہیں۔اسی طرح ان کی کتاب ’این اوریسٹیا‘ (2009) میں ایسکائلس کے ’اگامیمنن‘، سوفوکلیز کے ’الیکٹرا‘ اور یوریپیڈیز کے ’اورسٹس‘ کو یکجا کیا گیا ہے۔ ان کے دیگر تراجم میں یوریپیڈیز کی ’افگینیا اَمنگ دی ٹوریئنز‘، ’اینٹی گون‘ (2015) اور ’باکائی‘ (2015) شامل ہیں۔
’ایروس دی بیٹر سویٹ‘ سے ادبی سفر کا آغاز
این کارسن کی پہلی شائع شدہ کتاب ’Eros the Bittersweet: An Essay‘ 1986 میں سامنے آئی۔ یہ ان کے 1981 کے ڈاکٹریٹ مقالے ’Odi et Amo Ergo Sum‘ کا نظرثانی شدہ ورژن تھا۔اس کتاب میں قدیم یونان کے ادب میں ’ایروس‘ یعنی محبت میں مبتلا ہونے کی کیفیت اور اس کے تصور کا جائزہ لیا گیا تھا۔ یہی کتاب امریکی ٹی وی ڈرامہ ’The L Word‘ کے ابتدائی حصے میں بھی حوالہ بنی، جہاں کردار جینی اور مرینا کے درمیان گفتگو میں اس کا ذکر کیا گیا تھا۔
شاعری، فکشن اور مختلف اصناف کا امتزاج
کارسن کی معروف کتابوں میں ’The Beauty of the Husband: A Fictional Essay in 29 Tangos‘ (2001) بھی شامل ہے۔ اس میں ایک ناکام اور دردناک ازدواجی رشتے کے شہوانی، جذباتی اور دل توڑ دینے والے پہلوؤں کو منفرد انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ کتاب جان کیٹس کے نام منسوب ہے اور اس میں ’Ode on a Grecian Urn‘ میں کیٹس کے حسن سے متعلق تصور کی بازگشت ملتی ہے۔
ان کی ایک اور اہم تصنیف ’Men in the Off Hours‘ ہے، جس میں مختصر نظمیں، شعری مضامین، مرثیے، انٹرویوز، اسکرپٹس اور تراجم شامل ہیں۔ اس کتاب میں قدیم و جدید ادیبوں، مفکرین، تاریخی اور افسانوی کرداروں کے حوالے ملتے ہیں، جن میں انا اخماتووا، ارسطو، سیموئل بیکٹ، بیتھوون، برٹولٹ بریخت، کیتھرین ڈینیو، ژاک دریدا، رینے ڈیکارٹ، جان ڈن، جارج ایلیٹ، سگمنڈ فرائڈ، میکسم گورکی، اوڈیپس، شیطان، سقراط، تھوسی ڈائڈیز اور لیو ٹالسٹائی شامل ہیں۔
ہیلن آف ٹرائے اور مارلن منرو کو ایک ساتھ پیش کیا
این کارسن کے غیر روایتی ادبی کاموں میں ’Norma Jeane Baker of Troy‘ خاص طور پر نمایاں ہے۔ 2019 میں نیویارک میں پیش کیے جانے والے اس پرفارمنس پیس میں مشہور ہالی ووڈ اداکارہ مارلن منرو کو قدیم یونانی داستان کی کردار ہیلن آف ٹرائے کے ساتھ جوڑا گیا۔
یہ تخلیق یوریپیڈیز کے 412 قبل مسیح کے ڈرامے ’Helen‘ سے جزوی طور پر متاثر تھی۔2021 میں شائع ہوئی ’The Trojan Women: A Comic‘ بھی کارسن کے منفرد انداز کی ایک مثال ہے۔ یہ یوریپیڈیز کے کلاسیکی ڈرامے ’The Trojan Women‘ کو کامک بک کی شکل میں پیش کرتی ہے، جس میں ٹرائے کی تباہی اور یونانیوں کی فتح کے بعد ملکہ ہیوبا، اینڈروماکی اور کیسینڈرا کی قسمت کو بیان کیا گیا ہے۔کارسن کے اس کام میں جنگ کے غیر جنگجو متاثرین پر پڑنے والے تباہ کن اثرات کی ایک ایسا موضوع سامنے آتا ہے جو قدیم داستان سے نکل کر آج کے دور تک اپنی معنویت برقرار رکھتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں👇:نوبیل 2026 انعام: فرانسیسی سائنسدان ہنری کاگن اور جاپانی سائنسدان کینزو سوی کے نام
یہ بھی پڑھیں👇:فزکس میں 2026 کا نوبیل انعام فرانسس ہالزن کو دیا گیا
یہ بھی پڑھیں👇:دماغی رازوں پر تحقیق کرنے والے تین سائنسدانوں کے نام،طب کا نوبیل انعام






