آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کاکروچ جنتا پارٹی کے ترجمان سوربھ داس اور آشوتوش رنکا کو پانچ دن کی عدالتی تحویل میں بھیجے جانے پر ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے دونوں رہنماؤں کی گرفتاری اور جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقام کی حیثیت سے ختم کیے جانے پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ اویسی نے کہا کہ حکومت کو پرامن احتجاج کرنے والوں کے حق کا احترام کرنا چاہیے۔ سوربھ داس اور آشوتوش رنکا کی عدالتی تحویل پر تبصرہ کرتے ہوئے اویسی نے سوال کیا کہ حکومت احتجاج کی مخالفت کیوں کر رہی ہے؟ ان کے مطابق، سپریم کورٹ احتجاج کے حق کو تسلیم کر چکی ہے، اس لیے جب تک تشدد نہ ہو، لوگوں کو احتجاج کی اجازت ملنی چاہیے۔
اویسی نے کہا کہ ان نوجوانوں کو گرفتار کرنا ضروری نہیں تھا۔ انہیں نوٹس دیا جا سکتا تھا یا ضمانت پر رہا کیا جا سکتا تھا۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ جب ایک شخص کو رہا کر دیا گیا تو باقی دو کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کی کیا وجہ تھی؟ اویسی کے اس بیان میں پرامن احتجاج کے حق اور پولیس کی کارروائی کے طریقۂ کار پر سوالات اٹھائے گئے ہیں۔ سی جے پی کے ان رہنماؤں کو عدالتی تحویل میں بھیجنے کا معاملہ سیاسی حلقوں میں بھی زیرِ بحث ہے۔
اویسی نے انتخابی فہرستوں کی خصوصی نظرثانی یعنی اسپیشل انٹینسیو ریویژن (SIR) کے معاملے پر بھی اپنی پارٹی کا موقف واضح کیا۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ سے رجوع کرنے کا مقصد یہ سوال اٹھانا ہے کہ الیکشن کمیشن کو قانونی طور پر ایک اجتماعی ادارے کے طور پر کام کرنا چاہیے۔ ان کے مطابق، یہ واضح نہیں ہے کہ ایس آئی آر سے متعلق فیصلے الیکشن کمیشن میں اتفاقِ رائے سے کیے گئے تھے یا ان پر کسی قسم کا اختلافِ رائے موجود تھا۔ اویسی نے بتایا کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پہلے کی درخواست مسترد کیے جانے کے بعد نظرثانی کی درخواست دائر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کردہ رجسٹریشن فارم میں کی گئی تبدیلیوں کو سمجھنے کے لیے ضروری معلومات دستیاب نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ان تمام معاملات کو تفصیلی درخواست میں شامل کیا گیا ہے۔
اتر پردیش کی سیاست پر بات کرتے ہوئے اویسی نے سماج وادی پارٹی اور کانگریس کی جانب اشارہ کیا اور اتحاد کے لیے بات چیت کی پیشکش کی۔ انہوں نے کہا کہ اگر ان جماعتوں کا مقصد یوگی آدتیہ ناتھ کو تیسری بار وزیر اعلیٰ بننے سے روکنا ہے تو وہ ان کے ساتھ بات کرنے کے لیے تیار ہیں۔ اویسی کے مطابق، ان کی پارٹی بھی اتحاد قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بی جے پی اتر پردیش میں تیسری بار حکومت نہ بنا سکے۔ ان کے اس بیان سے ریاست میں ممکنہ سیاسی اتحاد کے معاملے پر نئی بحث شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، کسی باقاعدہ اتحاد کے قیام سے متعلق حتمی فیصلہ سامنے آنا ابھی باقی ہے۔






