- ناگاؤں، گولاگھاٹ اور ہوجائی اضلاع میں بڑے پیمانے پر انہدامی کاروائی
- لوتیماری میں مسجد اور مدرسہ حبیب العلوم اسلامیہ بھی منہدم، سینکڑوں خاندان بے گھر
- جنگلاتی اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضے کے خلاف کاروائی کا دعویٰ
- متاثرین کے حقوق کے تحفظ کا مطالبہ
آسام میں انسدادِ تجاوزات مہم کے تحت بڑے پیمانے پر انہدامی کاروائیاں انجام دی گئی ہیں ۔ بڑے پیمانے پر مسلم خاندانوں کے مکانات منہدم کر دیے گئے۔ انہدامی کاروائی کے دوران مسجد اور مدرسوں کو بھی منہدم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔آسام انتظامیہ نے ناگون، ہوجائی اور گولاگھاٹ اضلاع میں ایک وسیع، دو روزہ انسداد تجاوزات آپریشن کا اختتام کیا ہے، جس میں 300 ہیکٹر سے زیادہ محفوظ جنگلاتی اراضی پر دوبارہ دعویٰ کیا گیا ہے۔ سخت حفاظتی انتظامات کے تحت، کھدائی کرنے والوں نے 1,100 سے زیادہ خاندانوں کے گھروں کو مسمار کر دیا، جن میں زیادہ تر بنگالی نژاد مسلمان تھے۔
10 مساجد شہید
اتوار کو ناگون کے لوٹوماری لونگجاپ ریزرو فاریسٹ میں آپریشن میں شدت آئی، جہاں 600 سے زیادہ گھروں اور10مقامی مساجد کو شہید کیا گیا۔ یہ ہفتہ کو بیک وقت چلنے والی مہم کے بعد ہے جس نے تینوں اضلاع میں 547 خاندانوں کو بے گھر کر دیا۔علاقائی لوک سبھا ضمنی انتخابات کی وجہ سے عارضی طور رپ انہدامی کاروائی تھم گئی تھی۔ الیکشن کےبعد انہدامی مہم تیزی سے دوبارہ شروع ہوئی۔ گوہاٹی ہائی کورٹ کی جانب سے زمین کے حقوق کا دعویٰ کرنے والے 500 رہائشیوں کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے بعد حکام نے کاروائی کی، اور یہ فیصلہ دیا کہ عوامی جنگلات کے تحفظ پرائیویٹ سیٹلمنٹ کے دعووں کو مات دیتا ہے۔
ناگاؤں ضلع کے لوتیماری علاقے میں انتظامیہ نے ریزرو فاریسٹ کی زمین پر مبینہ غیر قانونی قبضے کا حوالہ دیتے ہوئے کاروائی کی۔اس دوران مدرسہ حبیب العلوم اسلامیہ، مسجد اور جامع مسجد کو منہدم کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔مقامی لوگوں کے مطابق، متاثرہ خاندان کئی برسوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔
غیر قانونی قبضوں کا الزام
انتظامیہ نے ریزرو فاریسٹ اور سرکاری اراضی پر مبینہ غیر قانونی قبضے کو کاروائی کی وجہ بتایا ہے۔دوسری جانب، متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ وہ کئی دہائیوں سے ان علاقوں میں رہائش پذیر تھے۔ اس کاروائی کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔ متاثرین کے حقوق کے تحفظ اور قانونی طریقۂ کار پر عمل آوری کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔جنگل کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا۔"عدالت کی طرف سے ان کے دعووں کو مسترد کرنے کے بعد، آبی ذخائر کی حفاظت کے لیے بے دخلی کی مہم چلائی جا رہی ہے،"
نوآبادیاتی دور سے یہاں آباد ہیں
اس کے برعکس، نقل مکانی کرنے والے مکینوں نے بحالی کی کمی پر گہری پریشانی کا اظہار کیا۔ ایک بے دخل رہائشی عبدالنور نے کہا۔ "ہمارے بزرگ یہاں نوآبادیاتی دور کے نظام کے تحت آباد ہوئے تھے۔ ہمیں یہ زمین 1974 میں ملی،"۔
547 مسلم خاندان بے گھر
رپورٹس کے مطابق، تین اضلاع میں کارروائی کے دوران 547 مسلم خاندانوں کو بے دخل کیا گیا، جبکہ لوتیماری لانگ جاپ ریزرو فاریسٹ کے علاقے میں 600 سے زائد خاندانوں کے مکانات منہدم کیے جانے کی بھی اطلاعات ہیں۔ تاہم، مختلف رپورٹس میں متاثرہ خاندانوں کی تعداد مختلف بتائی گئی ہے۔کاروائی کے نتیجے میں سینکڑوں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں۔۔ متاثرہ افراد کو اب رہائش اور بنیادی ضروریات کے مسائل کا سامنا ہے۔
سرکاری اور جنگلاتی اراضی کا دعویٰ
انتظامیہ نے ان کاروائیوں کے لیے سرکاری اور جنگلاتی اراضی پر مبینہ تجاوزات کو وجہ بتائی ہے۔جبکہ متاثرہ خاندانوں کے حق میں آواز اٹھانے والوں نے حکومت سے انہدامی کاروائیاں روکنے، کا مطالبہ کیا ہے ۔ان معاملات میں قانونی طریقۂ کار پر عمل کرنے اور بے گھر افراد کے حقوق و تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔






