Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت شدید بحران کا شکار، 529 فیکٹریاں بند، 10 لاکھ سے زائد مزدور پریشان

بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت شدید بحران کا شکار، 529 فیکٹریاں بند، 10 لاکھ سے زائد مزدور پریشان

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 02 Nov 2026

بنگلہ دیش کی گارمنٹس صنعت شدید بحران کا شکار، 529 فیکٹریاں بند، 10 لاکھ سے زائد مزدور پریشان
بنگلہ دیش کی معیشت اس وقت ایک بڑے بحران سے گزر رہی ہے۔ ملک کی سب سے اہم صنعت، یعنی ملبوسات کی صنعت، شدید مشکلات کا شکار ہے۔ حالات اتنے خراب ہو چکے ہیں کہ ڈھاکہ، غازی پور، ساور، اشولیہ اور جرابو جیسے بڑے صنعتی علاقوں میں 500 سے زیادہ گارمنٹس فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔ بنگلہ دیش گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، مجموعی طور پر 529 فیکٹریاں بند ہو چکی ہیں، جبکہ 10 لاکھ سے زیادہ مزدور بے چینی اور پریشانی کا شکار ہیں۔
 
اس بحران کی ایک بڑی وجہ مزدوروں کی کم اجرت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی بتائی جا رہی ہے۔ مزدوروں کا مطالبہ ہے کہ ان کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 12 ہزار 500 ٹکا سے بڑھا کر 30 ہزار ٹکا کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزمرہ استعمال کی چیزوں کی قیمتیں مسلسل بڑھ رہی ہیں، لیکن ان کی آمدنی میں اس کے مطابق اضافہ نہیں ہو رہا۔ ایسے میں گھر کا خرچ چلانا بھی مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ مزدوروں کے احتجاج کو دیکھتے ہوئے حکومت نے اتوار کے روز ہنگامی طور پر 6 رکنی پے بورڈ تشکیل دیا ہے، تاکہ اجرت کے معاملے پر فیصلہ کیا جا سکے۔ تاہم اس اعلان کے باوجود احتجاج ختم نہیں ہوا اور کئی علاقوں میں حالات کشیدہ ہیں۔
 
ڈھاکہ، غازی پور اور ساور میں پولیس اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ بعض مقامات پر سڑکوں پر آگ زنی کی گئی، جس کے باعث اہم شاہراہیں بند ہو گئیں اور فیکٹریوں کا کام بھی متاثر ہوا۔ اطلاعات کے مطابق، مشتعل افراد نے بعض مقامات پر پولیس چوکیوں، پولیس اور فائر بریگیڈ کی گاڑیوں، جوٹ کے ایک گودام اور ایک بینک کو بھی آگ لگا دی۔ دوسری جانب پولیس نے حالات قابو میں کرنے کے لیے لاٹھی چارج کیا، آنسو گیس کے شیل داغے اور پانی کی بوچھاروں کا استعمال کیا۔ ساؤنڈ گرینیڈ بھی استعمال کیے گئے۔ پولیس کے مطابق، امن و امان بحال کرنے کے لیے متاثرہ علاقوں میں بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کی پانچ پلاٹون تعینات کی گئی ہیں۔
 
اس بحران کا اثر صرف مزدوروں اور فیکٹری مالکان تک محدود نہیں ہے، بلکہ پورا ملک اس کی زد میں آ سکتا ہے۔ بنگلہ دیش گارمنٹس مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے مطابق، ملک کی برآمدات میں 80 فیصد سے زیادہ حصہ ملبوسات کی صنعت کا ہے۔ ایسے میں اگر فیکٹریاں طویل عرصے تک بند رہیں تو ملکی برآمدات، روزگار اور معیشت کو بڑا نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق، غازی پور اور میمن سنگھ میں 276 فیکٹریاں بند ہیں، جبکہ ساور، اشولیہ اور جرابو میں 185 یونٹ معطل ہیں۔ ڈھاکہ میٹروپولیٹن پولیس کے زیر انتظام علاقوں میں بھی 68 فیکٹریاں بند پڑی ہیں۔
 
معاشی صورتحال بھی تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے جائزوں میں بنگلہ دیش کو بینکنگ بحران، ایندھن کی قلت اور بڑھتی ہوئی مہنگائی جیسے مسائل کا سامنا بتایا گیا ہے۔ ملک کی ترقی کی رفتار بھی سست پڑ گئی ہے اور مختلف اندازوں کے مطابق ترقی کی شرح 2.2 سے 3.6 فیصد کے درمیان رہ سکتی ہے۔ گارمنٹس صنعت کے صدر محمود حسن خان نے صنعت کاروں کے ہنگامی اجلاس کے بعد مزدور تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ذمہ داری کا مظاہرہ کریں اور حالات معمول پر لانے میں تعاون کریں۔ انہوں نے وزیر داخلہ سے بھی مطالبہ کیا کہ قانون توڑنے والوں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے۔
 
لیکن اس پورے معاملے میں ایک اہم سوال یہ ہے کہ آخر مزدوروں کو اپنے جائز مطالبات کے لیے سڑکوں پر اترنے کی نوبت کیوں پیش آئی؟ کیا صرف احتجاج روکنے سے ان کی مشکلات ختم ہو جائیں گی؟ بڑھتی ہوئی مہنگائی میں 12 ہزار 500 ٹکا ماہانہ پر ایک خاندان کا خرچ کیسے پورا ہو سکتا ہے؟ حکومت کے سامنے اب دو بڑی ذمہ داریاں ہیں: امن و امان بحال کرنا اور مزدوروں کے مسائل کا ایسا حل نکالنا جس سے صنعت بھی چلے اور محنت کرنے والے لوگوں کو بھی باعزت زندگی گزارنے کے لیے مناسب اجرت مل سکے۔