Monday, November 02, 2026 | 21 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • خامنہ ای کا فوج کو حکم، ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہے

خامنہ ای کا فوج کو حکم، ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہے

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 02 Nov 2026

خامنہ ای کا فوج کو حکم، ایران کسی بھی حملے کا جواب دینے کے لیے تیار رہے
امریکہ اور اسرائیل سے منسلک ممکنہ اہداف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے
ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے اور دفاعی نظام مضبوط بنانے کی ہدایت
 
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے ملک کی مسلح افواج کو کسی بھی ممکنہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار رہنے کی ہدایت دی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ اگر امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے ایران پر دوبارہ حملہ کیا گیا تو مستقبل میں ہونے والے کسی بھی تصادم کے وقت اور شرائط کا فیصلہ تہران خود کرے گا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، خامنہ ای نے فوج کو امریکہ اور اسرائیل سے منسلک ممکنہ اہداف کی فہرست اپ ڈیٹ کرنے کا حکم دیا ہے، تاکہ ضرورت پڑنے پر ان اہداف کو نشانہ بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے گولہ بارود اور ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے، فوجی انٹیلی جنس کو مضبوط کرنے اور دفاعی نظام کو مزید بہتر بنانے کی ہدایت بھی دی ہے۔
 
ہتھیاروں کی پیداوار بڑھانے پر زور
 
خامنہ ای نے مسلح افواج پر زور دیا ہے کہ وہ کسی بھی خطرے کا فوری اور بھرپور جواب دینے کے لیے تیار رہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران اپنے جوابی اقدامات کو کسی مخصوص جغرافیائی علاقے تک محدود نہیں رکھے گا۔ انہوں نے مقامی سطح پر فوجی سازوسامان تیار کرنے کی صلاحیت بڑھانے کی اہمیت پر بھی زور دیا اور ہدایت دی کہ جنگی اور فوجی کارروائیوں میں استعمال ہونے والے ہتھیاروں اور گولہ بارود کی تیاری میں تیزی لائی جائے۔ خامنہ ای نے خبردار کیا کہ ایران کے خلاف مزید کوئی فوجی کارروائی ہوئی تو اس کے نتیجے میں ایک نیا تنازعہ شروع ہو سکتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ مستقبل میں کسی بھی تصادم کے خاتمے کا وقت اور شرائط تہران ہی طے کرے گا۔
 
امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ
 
یہ ہدایات ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان جاری فوجی تناؤ کے ساتھ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی صورتحال کو مزید حساس بنا رہا ہے۔ ایران پہلے بھی کئی مرتبہ خبردار کر چکا ہے کہ امریکہ یا اسرائیل کی جانب سے کسی نئے حملے کی صورت میں وہ بھرپور جواب دے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی وسط مدتی انتخابات کے بعد ایران پر حملے کے امکان کا اشارہ دیا ہے۔ موجودہ صورتحال میں خامنہ ای کی نئی ہدایات کو ایران کی فوجی تیاریوں اور ممکنہ جوابی کارروائی کی تیاری کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔