مغربی بنگال میں بی جےپی حکومت کی آمد کےبعد اقلیتوں خاص پر مسلمانوں پر آئے دن ظلم کے معاملے سامنے آ رہےہیں۔ مسلم خواتین نے بی جےپی، ایم ایل اے پر، فلاحی اسکیم کے حصول کےلئے گئی مسلم خواتین کی تذلیل اور امتیازی سلوک کرنے کا الزام لگایا ہے۔ تفصیلات کےمطابق مغربی بنگال کے بنکورہ میں اناپورنا یوجنا کے فوائد حاصل کرنے کے لیے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے مقامی ایم ایل اے نیلادری شیکھر دانا سے ملاقات کرنے والی مسلم خواتین نے ان پر مبینہ طور پر مذہبی بنیاد پر امتیازی سلوک اور توہین آمیز رویے کا الزام لگایا ہے۔
مسلم خواتین کو مذہبی نعرہ لگانے کو کہا
خواتین کے مطابق وہ 2 اکتوبر کو اناپورنا یوجنا کے تحت مالی امداد نہ ملنے کی شکایت لے کر سرکاری کیمپ میں پہنچی تھیں۔ وہاں سے انہیں بی جے پی ایم ایل اے سے ملاقات کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس کے بعد تقریباً 30 خواتین کا ایک گروپ بھیرابستھان کے قریب واقع ایم ایل اے کے دفتر پہنچا۔خواتین کا الزام ہے کہ ملاقات کے دوران ایم ایل اے نے ان سے ’جئے شری رام‘ کا نعرہ لگانے کو کہا اور یہ بھی کہا کہ اناپورنا یوجنا کے فوائد پہلے ہندو خواتین کو دیے جائیں گے، جبکہ مسلم خواتین کے معاملات پر بعد میں غور کیا جائے گا۔
مذہبی تعصب کی شکایت
کھیتڑڈنگا کی رہائشی ریشماں بی بی نے الزام لگایا کہ خواتین نے ایم ایل اے سے اناپورنا یوجنا کی رقم کے بارے میں سوال کیا تو انہیں بتایا گیا کہ ہندو خواتین کو پہلے ادائیگی کی جائے گی۔ ایک اور خاتون، شریفی بی بی، نے دعویٰ کیا کہ ایم ایل اے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا کہ بی جے پی کو مسلم ووٹوں کی وجہ سے کامیابی نہیں ملی، اس لیے ان کے معاملے پر بعد میں غور کیا جائے گا۔
توہین پرواپس لوٹ گئیں
خواتین کا کہنا ہے کہ وہ کسی سیاسی معاملے پر بات کرنے نہیں گئی تھیں بلکہ سرکاری فلاحی اسکیم کے تحت ملنے والی مالی امداد کے بارے میں معلومات اور مدد حاصل کرنا چاہتی تھیں۔ ان کے مطابق ملاقات کے بعد وہ خود کو بے عزت محسوس کرتے ہوئے واپس لوٹ گئیں۔کھیتڑڈنگا کے زیادہ تر رہائشی روزانہ اجرت پر کام کرتے ہیں اور مقامی لوگوں کے مطابق علاقے میں روزگار کے مواقع محدود ہیں۔ اسی وجہ سے کم آمدنی والے خاندان سرکاری فلاحی اسکیموں پر کافی حد تک انحصار کرتے ہیں۔
انا پورنا یوجنا کےلئے درخواستیں جمع کرائی گئیں
خواتین کا کہنا ہے کہ انہوں نے اناپورنا یوجنا کے فوائد کے لیے آن لائن اور آف لائن درخواستیں جمع کرائی ہیں، لیکن کئی خاندانوں کو اب تک رقم کی کوئی قسط موصول نہیں ہوئی۔ انہوں نے ستمبر کے آخری ہفتے میں بنکورہ کے سب ڈویژنل آفیسر (ایس ڈی او) سے بھی اس معاملے کی شکایت کی تھی۔ ایس ڈی او دفتر کی جانب سے انہیں 2 سے 4 اکتوبر تک منعقد کیے جانے والے ’سیوا سیتو ابھیان‘ میں شرکت کرنے کا مشورہ دیا گیا تھا، جہاں سرکاری اسکیموں سے متعلق شکایات اور مسائل کے حل کے لیے عوام سے رابطہ کیا جا رہا تھا۔
ایم ایل اے نے مذہبی تبصرے کے الزام سے انکار کیا
بی جے پی ایم ایل اے نیلادری شیکھر دانا نے خواتین کی جانب سے لگائے گئے توہین آمیز اور مذہبی امتیاز کے الزامات کی تردید کی ہے۔ تاہم، انہوں نے یہ تسلیم کیا کہ انہوں نے ملاقات کے دوران ’جئے شری رام‘ کہا تھا۔دانا نے کہا، "ہاں، میں نے ’جئے شری رام‘ کہا تھا، لیکن میں نے کسی خاتون کی توہین کرنے والی کوئی بات نہیں کہی۔ میں نے ان سے کہا تھا کہ ان کے معاملے کی جانچ کی جائے گی۔"ایم ایل اے نے مزید کہا کہ ملاقات کے وقت ان کے ساتھ کئی لوگ موجود تھے اور اگر کسی دوسرے شخص نے کوئی نامناسب بات کہی ہے تو وہ اس کی ذمہ داری نہیں لے سکتے۔
مذہب کی بنیاد پر ملیں گے سرکاری فوائد
دوسری جانب متاثرہ خواتین نے کہا ہے کہ وہ 6 اکتوبر کو دوبارہ بنکورہ کے ایس ڈی او سے ملاقات کریں گی۔ وہ اناپورنا یوجنا کی رقم میں تاخیر کی وجہ جاننے کے ساتھ یہ بھی وضاحت طلب کریں گی کہ کیا کسی سرکاری فلاحی اسکیم کے فوائد حاصل کرنے کے لیے ان کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر اس طرح کا برتاؤ کیا جا سکتا ہے۔
سرکاری اسکیم کی اہلیت کیا مذہب ہوگی؟
خواتین کا کہنا ہے کہ ان کی بنیادی مانگ سیاسی نہیں بلکہ یہ ہے کہ جو بھی شخص سرکاری اسکیم کے لیے اہل ہے، اسے مذہب یا شناخت سے قطع نظر اس کا فائدہ ملنا چاہیے۔سیکولر اور جمہوری ملک میں اس طرح کےواقعات مذہبی ہم آہنگی ، ہندو مسلم بھائی چارے کی قدیم روایات کےخلاف ہے۔ عوامی نمائندوں اور سرکاری طور پر تعصب خطرناک ہو گیا ہے۔ اس سے بچنے کی ضرورت ہے۔







