Monday, October 05, 2026 | 21 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • تھائیرائیڈ کےمسائل:علامات کو نظر انداز کرنا کیوں خطرناک ہو سکتا ہے؟

تھائیرائیڈ کےمسائل:علامات کو نظر انداز کرنا کیوں خطرناک ہو سکتا ہے؟

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 05 Oct 2026

تھائیرائیڈ کےمسائل:علامات کو نظر انداز کرنا  کیوں خطرناک ہو سکتا ہے؟
تھائیرائیڈ جسم میں ایک چھوٹا سا غدود ہے، لیکن اس کا کردار انتہائی اہم ہے۔ یہ ایسے ہارمونز بناتا ہے جو جسم کے میٹابولزم، توانائی، دل کی دھڑکن، جسمانی درجہ حرارت اور کئی دوسرے اہم افعال کو متاثر کرتے ہیں۔ تھائیرائیڈ ہارمونز میں کمی یا زیادتی کی صورت میں جسم کے معمول کے کام متاثر ہونے لگتے ہیں۔ بعض اوقات اس کی علامات عام تھکن یا کمزوری جیسی محسوس ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے لوگ بروقت توجہ نہیں دیتے۔
 
اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں “Thyroid Problems: Symptoms, Causes & Treatment” پر
Dr. Hiran S. Reddy، Consultant Physician, Diabetologist, Critical Care Specialist، Dr. Hiran’s Diabetic Thyroid & General Clinic، Near Fever Hospital  ، Hyderabad نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
تھائیرائیڈ سے متعلق عام مسائل میں Hypothyroidism اور Hyperthyroidism شامل ہیں۔ ہائپوتھائیرائیڈزم میں تھائیرائیڈ ہارمونز کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، جبکہ ہائپرتھائیرائیڈزم میں ہارمونز ضرورت سے زیادہ بننے لگتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں علامات مختلف انداز میں ظاہر ہو سکتی ہیں۔
 
ہائپوتھائیرائیڈزم میں مسلسل تھکن، وزن بڑھنا، سردی زیادہ محسوس ہونا، قبض، جلد کا خشک ہونا، بالوں کا جھڑنا، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری اور بعض خواتین میں ماہواری میں بے قاعدگی جیسی علامات سامنے آ سکتی ہیں۔ دوسری طرف ہائپرتھائیرائیڈزم میں وزن کم ہونا، دل کی دھڑکن تیز ہونا، زیادہ پسینہ آنا، بے چینی، ہاتھوں میں کپکپاہٹ، نیند میں خلل اور گرمی برداشت نہ ہونا عام علامات میں شامل ہیں۔
 
تھائیرائیڈ کے مسائل کی کئی وجوہات ہو سکتی ہیں۔ بعض کیسز میں مدافعتی نظام سے متعلق بیماریاں، خاندانی رجحان، بعض ادویات، تھائیرائیڈ گلینڈ کی سوزش یا دیگر طبی عوامل کردار ادا کر سکتے ہیں۔ صرف علامات کی بنیاد پر بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی، اس لیے ڈاکٹر کے مشورے سے خون کے ٹیسٹ، خصوصاً TSH اور ضرورت کے مطابق T3 اور T4 کی جانچ کی جاتی ہے۔
 
علاج بیماری کی قسم اور مریض کی حالت کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ہائپوتھائیرائیڈزم میں عموماً تھائیرائیڈ ہارمون کی کمی پوری کرنے کے لیے دوا دی جاتی ہے، جبکہ ہائپرتھائیرائیڈزم کے لیے مختلف ادویات یا دیگر علاج کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ دوا کی مقدار خود سے کم یا زیادہ کرنا مناسب نہیں۔
 
ماہرین کے مطابق تھائیرائیڈ کی علامات کو معمولی سمجھ کر طویل عرصے تک نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ بروقت تشخیص اور باقاعدہ طبی نگرانی کے ذریعے اس بیماری کو مؤثر انداز میں قابو میں رکھا جا سکتا ہے اور روزمرہ زندگی معمول کے مطابق جاری رکھی جا سکتی ہے۔
 
 قارئین آپ، ڈاکٹرہیرن ایس ریڈی، کنسلٹنٹ فزیشن، ماہرِ ذیابیطس، ماہرِ کریٹیکل کیئر، نلہ کنٹہ، حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔