Wednesday, November 04, 2026 | 23 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • سرحدی علاقے میں بڑی تباہی ٹل گئی۔سری گنگا نگر میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، سکیورٹی ہائی الرٹ

سرحدی علاقے میں بڑی تباہی ٹل گئی۔سری گنگا نگر میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، سکیورٹی ہائی الرٹ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 04 Nov 2026

 سرحدی علاقے میں بڑی تباہی ٹل گئی۔سری گنگا نگر میں ریلوے ٹریک پر دھماکہ، سکیورٹی ہائی الرٹ
 ہند۔پاک  سرحد پر ریلوے ٹریک پر زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکے کے باعث ریلوے ٹریک کو نقصان پہنچا۔ یہ واقعہ منگل کی رات راجستھان کے سری گنگارم ضلع میں پیش آیا۔ ضلع سری گنگا نگر میں ہندوستان-پاکستان بین الاقوامی سرحد کے نزدیک رام سنگھ پور تھانہ حدود میں انوپ گڑھ-سورت گڑھ ریلوے سیکشن پر زوردار دھماکے کا واقعہ پیش آیا، جس سے علاقہ بھر میں خوف و ہراس پھیل گیا، تاہم خوش قسمتی سے کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
 
مقامی انتظامیہ اور ریلوے حکام کے مطابق یہ واقعہ رات تقریباً 10 بج کر 23 منٹ پر پیش آیا، جب 50 جی بی کے قریب پٹری کے حصے میں اچانک دھماکہ ہوا اور ریلوے لائن کے نیچے نصب سیمنٹ کے 2 ستون متاثر ہو گئے۔ افسروں نے بتایا کہ انوپ گڑھ سے سورت گڑھ جانے والی مسافر ٹرین اپنی روانگی کے چند ہی لمحوں بعد اس مقام سے گزر چکی تھی، اس لیے ایک بڑا حادثہ ٹل گیا اور درجنوں جانیں محفوظ رہیں۔ 
 
شمال مغربی ریلوے کے چیف پبلک ریلیشنز آفیسر امیت سدرشن نے تصدیق کی کہ جائے وقوعہ پر 2 کنکریٹ سلیپرز تباہ حالت میں ملے اور ابتدائی جانچ میں واضح ہوا کہ دھماکہ پٹری کے نیچے یا آس پاس نصب کسی آتش گیر مادہ کے باعث ہوا۔ ان کے مطابق گیٹ مین نے زور دار آواز سنتے ہی بروقت ہوشیاری دکھاتے ہوئے فوری طور پر متعلقہ ریلوے افسران کو اطلاع دی، جس کے بعد مقامی پولیس، سیول انتظامیہ اور بم ناکارہ بنانے والی ٹیمیں موقع پر پہنچ گئیں۔ امیت سدرشن نے مزید کہا کہ حفاظتی اقدامات کے تحت 4 نومبر کو سورت گڑھ-انوپ گڑھ مسافر ٹرین منسوخ رہے گی، جب کہ مرمت اور معائنہ مکمل ہونے تک متاثرہ سیکشن پر ٹریفک بحال نہیں کیا جائے گا۔ 
 
یہ علاقہ بین الاقوامی سرحد سے قریب ہونے کے سبب انتہائی حساس سمجھا جاتا ہے اور اس سے قبل اسی زون میں 7.5 کلو آر ڈی ایکس برآمد ہونے کا معاملہ سامنے آ چکا ہے، جس کے بعد سے سکیورٹی ایجنسیاں مسلسل چوکس ہیں۔ حالیہ دھماکے نے ایک بار پھر حفاظتی انتظامات کا بڑا امتحان لے لیا۔ واقعہ کی اطلاع ملتے ہی اے ٹی ایس، سی آئی ڈی، ڈاگ اسکواڈ، بم ڈسپوزل یونٹ، مختلف خفیہ ادارے اور ریلوے کی تکنیکی ٹیمیں بھاری پولیس نفری کے ساتھ جائے وقوعہ پر پہنچیں۔ پورے احاطے کو گھیرے میں لے کر ناکہ بندی کی گئی، شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں اور فرانزک ماہرین دھماکے میں استعمال شدہ مواد، اس کی شدت، طریقہ کار اور ممکنہ ٹائمر یا ٹرگر کے بارے میں تفصیلی جانچ کر رہے ہیں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ اس کاروائی کے پیچھے کس نوعیت کے عناصر ملوث ہیں۔ 
 
حکام کے مطابق انوپ گڑھ-سورت گڑھ سیکشن پر چلنے والی تمام مسافر اور مال بردار ٹرینیں احتیاطاً عارضی طور پر منسوخ کر دی گئی ہیں۔ ریلوے کا کہنا ہے کہ جب تک پٹری کی مرمت، ویریفکیشن، جیومیٹری چیک اور الائنمنٹ ٹیسٹ مکمل نہیں ہو جاتے اور سکیورٹی ایجنسیاں مکمل کلیئرنس نہیں دیتیں، تب تک روٹ کھولنا ممکن نہیں۔ متعلقہ ڈویژن نے مرمتی عملہ، ٹریک مشینیں اور میٹریل موقع پر لگا دیا ہے، جب کہ سگنلنگ اور اوور ہیڈ آلات کی بھی جانچ کی جا رہی ہے۔ 
 
سری گنگا نگر کے سپرنٹنڈنٹ آف پولیس ہری شنکر کی نگرانی میں تفتیش گہرائی سے جاری ہے۔ پولیس اور خفیہ ادارے یہ معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا یہ سازش سماج دشمن عناصر کی مقامی کوشش تھی یا اس کے پیچھے منظم نیٹ ورک اور سرحد پار سے کسی ممکنہ مدد کا زاویہ موجود ہے۔ ابتدائی تفتیش کے تحت آس پاس کے دیہات، فارم ہاؤسز اور سڑک رابطہ راستوں کی سی سی ٹی وی فوٹیج جمع کی جا رہی ہے، موبائل کال ڈیٹا اور لوکیشن پنگز کا تجزیہ کیا جا رہا ہے اور مشتبہ افراد کی فہرست تیار کر کے چھاپہ مار کارروائیاں کی جا رہی ہیں۔ پولیس نے سرحدی چوکیوں، ریلوے کراسنگز اور تنصیبات پر اضافی نفری تعینات کر دی ہے، جب کہ مقامی شہریوں سے اپیل کی گئی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا لاوارث سامان کی فوری اطلاع ہیلپ لائن پر دیں۔