Wednesday, October 14, 2026 | 02 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے گئے

جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے گئے

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 14 Oct 2026

جنتر منتر احتجاج: سی جے پی کے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے گئے
کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) کے رہنماؤں سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو جنتر منتر کے قریب احتجاج کے دوران حراست میں لیے جانے کے بعد پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا گیا ہے۔ دونوں رہنماؤں کو آج مندر مارگ پولیس اسٹیشن میں ایس ڈی ایم کے سامنے پیش کیا گیا، جہاں سے انہیں عدالتی حراست میں بھیجنے کا حکم دیا گیا۔ اس کارروائی کے بعد سیاسی رہنماؤں اور سی جے پی کے کارکنوں نے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے قانونی حقوق اور احتجاج کی آزادی سے متعلق سوالات اٹھائے ہیں۔ معاملے پر ایڈووکیٹ ابھیشت ہیلا نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ضمانت کی درخواست کہاں دائر کی جائے گی، یہ قانونی حقوق سے متعلق معاملہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ فی الحال وہ اس بارے میں تمام تفصیلات ظاہر نہیں کرنا چاہتے، کیونکہ معاملے کے دیگر پہلو بھی ہیں۔ ان کے مطابق، قانونی حقوق کا استعمال کرتے ہوئے طے شدہ طریقہ کار پر عمل کیا جائے گا۔
 
سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دونوں رہنماؤں کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیجے جانے پر ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے وزیر اعظم نریندر مودی سے سوال کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکومت ملک میں ایمرجنسی نافذ کرنا چاہتی ہے تو اسے باضابطہ طور پر نافذ کیا جائے، غیر اعلانیہ ایمرجنسی کیوں چلائی جا رہی ہے؟ دیپکے نے الزام لگایا کہ جنتر منتر پر قومی پرچم لہرانے جیسے عمل کے بعد لوگوں کو پانچ دن کی عدالتی حراست میں بھیج دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان کے خیال میں اس طرح کی کارروائی ایمرجنسی کے دور میں بھی نہیں ہوئی تھی۔
 
سی جے پی کے رہنما اجنکیہ شنڈے نے کہا کہ وہ آشوتوش رانکا اور سوربھ داس کے ساتھ سی جے پی کے رضاکاروں سمیت جنتر منتر گئے تھے۔ ان کے مطابق، وہاں انہوں نے صرف ہندوستانی قومی پرچم لہرایا اور ’بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے۔ شنڈے نے الزام لگایا کہ اس کے بعد مودی اور شاہ کی حکومت نے سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو پانچ دن کے لیے عدالتی حراست میں بھیج دیا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ آشوتوش کی سالگرہ اسی دن تھی، جس دن انہیں حراست میں بھیجا گیا۔ اجنکیہ شنڈے نے دعویٰ کیا کہ حکومت شہریوں کے بنیادی حقوق کو متاثر کرنے کے لیے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہی ہے۔ انہوں نے ملک بھر کے عوام سے اپیل کی کہ وہ متحد ہو کر حکومت کی پالیسیوں کے خلاف آواز اٹھائیں۔
 
سی جے پی کے رہنماؤں کو عدالتی حراست میں بھیجے جانے پر این سی پی (شرد پوار گروپ) کے ترجمان انیش گوانڈے نے بھی ردعمل ظاہر کیا۔ انہوں نے سپریم کورٹ سے فوری مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اگر عدالت اب بھی بیدار نہیں ہوئی تو انہیں سمجھ نہیں آئے گا کہ وہ کب مداخلت کرے گی۔ گوانڈے نے خبردار کیا کہ اگر حالات میں تبدیلی نہیں آئی تو وہ پہلے سے زیادہ بڑی تعداد میں سڑکوں پر اتر کر احتجاج کریں گے۔ سی جے پی رہنماؤں کی عدالتی حراست کے معاملے پر مختلف سیاسی شخصیات کے بیانات سامنے آئے ہیں۔ جہاں سی جے پی کے رہنماؤں نے اسے شہری آزادیوں اور احتجاج کے حق سے جوڑا ہے، وہیں ضمانت اور قانونی کارروائی کے اگلے مراحل پر بھی توجہ مرکوز ہے۔