کاکروچ جنتا پارٹی (CJP) نے 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کی جانب سے دہلی پولیس کو احتجاج کے بارے میں باضابطہ طور پر اطلاع بھی دی گئی ہے۔ CJP اب ملک کے مختلف حصوں، خاص طور پر بہار کے نوجوانوں سے احتجاج میں شرکت کی اپیل کر رہی ہے۔ CJP کے رہنما سوربھ داس کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے، جس میں وہ بہار کے لوگوں سے دہلی پہنچنے کی اپیل کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بہار کے لوگ بڑی تعداد میں احتجاج میں شامل ہوں گے تو تحریک کو مزید تقویت ملے گی۔
سوربھ داس نے کہا کہ انتخابات کے دوران ووٹرز کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کے لیے خصوصی ٹرینیں چلائی جاتی ہیں، اس لیے اب لوگوں کو بھی دہلی پہنچ کر احتجاج میں شرکت کرنی چاہیے۔ انہوں نے نوجوانوں سے ’چلو دہلی‘ کی اپیل کی۔ ان کی جانب سے لوگوں سے کہا گیا کہ وہ بڑی تعداد میں دہلی پہنچیں اور 10 اکتوبر کو جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج میں شامل ہوں۔
سوربھ داس نے 7 اکتوبر کو میڈیا سے گفتگو کے دوران بھی کہا تھا کہ نوجوان انتخابات اور ووٹر لسٹ سے متعلق مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج کریں گے۔CJP کی جانب سے دہلی پولیس کو دیے گئے خط میں کہا گیا ہے کہ 10 اکتوبر کو ملک کے مختلف حصوں سے نوجوان جنتر منتر پر جمع ہوں گے۔ تاہم، فی الحال احتجاج کے لیے پولیس کی اجازت ملنے کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ CJP کی جانب سے اس احتجاج کے ذریعے انتخابی عمل اور ووٹر لسٹ سے متعلق اپنے اعتراضات اٹھانے کی بات کہی گئی ہے۔ پارٹی کی جانب سے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن جماعتیں بھی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف مسلسل احتجاج کر رہی ہیں۔ اپوزیشن کی جانب سے SIR اور ووٹر لسٹ میں مبینہ تبدیلیوں کو لے کر سوال اٹھائے جا رہے ہیں اور گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔اپوزیشن کی جانب سے یہ الزام بھی عائد کیا گیا ہے کہ انتخابی عمل میں ایسے فیصلے کیے گئے جو بی جے پی کے حق میں جا سکتے ہیں۔ الیکشن کمیشن اور حکومت ان الزامات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔ جمعرات کو اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے پٹنہ میں ’لوک بھون مارچ‘ کا بھی اعلان کیا گیا ہے، جبکہ مختلف اضلاع میں احتجاج کی سرگرمیاں جاری رہنے کی بات کہی گئی ہے۔ ایسے میں 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر ہونے والے CJP کے احتجاج پر بھی توجہ مرکوز ہے۔







