Wednesday, October 07, 2026 | 23 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • قومی
  • »
  • جنتر منتر احتجاج سے پہلے سی جے پی کارکنوں کو پولیس نوٹس، ابھیجیت دیپکے کا دعویٰ

جنتر منتر احتجاج سے پہلے سی جے پی کارکنوں کو پولیس نوٹس، ابھیجیت دیپکے کا دعویٰ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 06 Oct 2026

جنتر منتر احتجاج سے پہلے سی جے پی کارکنوں کو پولیس نوٹس، ابھیجیت دیپکے کا دعویٰ
کاکروچ جنتا پارٹی  کے بانی ابھیجیت دیپکے نے دعویٰ کیا ہے کہ پارٹی کے کچھ کارکنوں کو پولیس کی جانب سے نوٹس دیے جا رہے ہیں اور انہیں احتجاج میں شامل نہ ہونے کے لیے کہا جا رہا ہے۔ ان کا یہ دعویٰ 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج سے قبل سامنے آیا ہے۔ ابھیجیت دیپکے نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’ایک ملک، ایک انتخاب‘ کا نعرہ تو دیا جا رہا ہے، لیکن ان کے مطابق اصل مقصد ’ایک ملک، ایک پارٹی‘ کی سمت بڑھنا ہے۔ یہ ان کی سیاسی رائے ہے اور انہوں نے اس کے ذریعے حکومت کی پالیسیوں پر سوال اٹھایا۔
 
ابھیجیت دیپکے نے کہا کہ وہ ماضی میں مہاراشٹر پولیس کی تعریف کرتے رہے ہیں اور اسے ملک کی بہترین پولیس فورس میں شمار کیا ہے۔ تاہم، چندرا پور پولیس کی جانب سے کارکنوں کو احتجاج میں شامل نہ ہونے کی تنبیہ کیے جانے کی اطلاعات پر انہوں نے سوال اٹھائے۔ انہوں نے پوچھا کہ پولیس کسی مظاہرے کے شروع ہونے سے پہلے ہی یہ کیسے طے کر سکتی ہے کہ وہاں تشدد ہوگا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پوسٹس سے متعلق پولیس کی جانب سے جاری کیے گئے احکامات پر بھی سوال کیا، جن میں مبینہ طور پر ایسی پوسٹس پر کارروائی کی بات کی گئی ہے جو تشدد کو ہوا دے سکتی ہیں۔
 
CJP بانی نے کہا کہ ان کی پارٹی مہاتما گاندھی اور ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کے نظریات کو اہمیت دیتی ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر کسی احتجاج میں گاندھی اور امبیڈکر کے نام یا نظریات کا حوالہ دیا جا رہا ہو اور احتجاج پرامن رکھنے کی بات کی جا رہی ہو تو اسے پہلے ہی پرتشدد کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔ دیپکے نے اس بات پر زور دیا کہ ان کی پارٹی مجوزہ احتجاج کو پرامن رکھنا چاہتی ہے۔
 
CJP نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے کو لے کر 10 اکتوبر کو دہلی کے جنتر منتر پر احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ پارٹی کا کہنا ہے کہ یہ احتجاج ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی یعنی SIR کے دوران مبینہ بے ضابطگیوں کے خلاف کیا جا رہا ہے۔ ابھیجیت دیپکے کے مطابق، اگر گیانیش کمار استعفیٰ نہیں دیتے تو ملک کے مختلف حصوں سے CJP کارکن دہلی پہنچ کر احتجاج کریں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر پولیس مظاہرین کو جنتر منتر تک پہنچنے سے روکتی ہے تو احتجاج اسی مقام پر کیا جائے گا جہاں انہیں روکا جائے گا۔
 
دیپکے نے احتجاج کو پرامن قرار دیتے ہوئے آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے حامیوں سے اس میں شامل ہونے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ تحریک مہاتما گاندھی کے پرامن احتجاج کے راستے پر چلائی جائے گی اور حکومت و پولیس سے پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرنے کی اپیل کی۔ CJP کا کہنا ہے کہ اس کی تحریک ووٹر لسٹ کی نظرثانی سے مبینہ طور پر متاثر ہونے والے افراد کے لیے انصاف کا مطالبہ کر رہی ہے۔ پارٹی کے شریک کنوینر آشوتوش رانکا بھی جنتر منتر پر احتجاج اور متاثرہ ووٹرز کے معاملے کو اٹھا چکے ہیں۔
 
جنتر منتر کے احتجاج سے قبل CJP نے ممبئی کے شیواجی پارک میں بھی مظاہرہ کیا تھا۔ وہاں پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کیا تھا۔ CJP ووٹر لسٹ کی خصوصی نظرثانی کے عمل میں مبینہ بے ضابطگیوں کو لے کر الیکشن کمیشن سے سوالات کر رہی ہے۔ دوسری جانب ان الزامات اور دعوؤں سے متعلق حتمی صورتحال کا فیصلہ متعلقہ حکام اور قانونی عمل کے ذریعے ہونا باقی ہے۔