Tuesday, October 06, 2026 | 22 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر میں 'یونیفارم سول کوڈ' نافذ نہیں کیا جائے گا: عمر عبداللہ

جموں و کشمیر میں 'یونیفارم سول کوڈ' نافذ نہیں کیا جائے گا: عمر عبداللہ

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 06 Oct 2026

جموں و کشمیر میں 'یونیفارم سول کوڈ' نافذ نہیں کیا جائے گا: عمر عبداللہ
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر میں 'یونیفارم سول کوڈ' (UCC) نافذ نہیں کیا جائے گا کیونکہ پورے ملک پر محیط ایسے قانون پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے اور اسے وہیں منظور کیا جانا چاہیے۔ یو سی سی (UCC) کے نفاذ پر عبداللہ نے اس بات کا اعادہ کیا کہ یونیفارم سول کوڈ اس وقت تک حقیقی معنوں میں "یونیفارم" (یکساں) نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے ہر جگہ نافذ نہ کیا جائے۔
 
انہوں نے کہا۔"ہم یہاں یونیفارم سول کوڈ نافذ نہیں کریں گے۔ بہار میں بھی نتیش کمار کی پارٹی نے کہا ہے کہ وہ اسے نافذ نہیں کریں گے۔ اسی طرح، دیگر حکومتوں نے بھی کہا ہے کہ یونیفارم سول کوڈ ان کی ریاستوں میں لاگو نہیں کیا جائے گا۔ لہٰذا، اسے صرف بی جے پی کی جانب سے نافذ کیا جا رہا ہے،"۔
 
انہوں نے مزید کہا"ایسے معاملات کو ریاست در ریاست (الگ الگ) نہیں نمٹایا جاتا۔ اگر آپ میں ہمت ہے تو پارلیمنٹ میں قانون سازی کریں۔ پارلیمنٹ میں اس پر بحث کریں، اور پھر دیکھتے ہیں کہ یہ پارلیمنٹ سے منظور ہوتا ہے یا نہیں۔ وہ پارلیمنٹ میں یہ قانون پیش نہیں کریں گے کیونکہ اسے منظور کروانے کے لیے ان کے پاس پارلیمنٹ میں مطلوبہ تعداد (اکثریت) نہیں ہے۔ اسی لیے بی جے پی اسے اپنی ریاستوں میں آہستہ آہستہ نافذ کر رہی ہے، جو کہ غلط ہے،"۔
 
جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمرعبداللہ نے منگل کے روز سپریم کورٹ کے ان ریمارکس کا خیرمقدم کیا جن میں 'خصوصی تفصیلی نظرثانی' (Special Intensive Revision) کے تحت ووٹروں کے نام فہرستوں سے خارج کرنے پر سوال اٹھائے گئے تھے؛ تاہم انہوں نے کہا کہ یہ دیکھنا باقی ہے کہ الیکشن کمیشن اور مرکزی حکومت سے جواب طلب کرنے کے بعد عدالت اس معاملے کی اصلاح کے لیے کس حد تک قدم اٹھاتی ہے۔
 
یہ اچھی بات ہے کہ سپریم کورٹ اب اس معاملے پر ، خاص طور پر ووٹر فہرستوں سے نام خارج کرنے کے حوالے سےسوالات اٹھا رہا ہے۔ سپریم کورٹ نے الیکشن کمیشن اور حکومتِ ہند سے جواب بھی طلب کیا ہے۔ عدالت کے ذریعے اس کی کس حد تک اصلاح کی جائے گی، اس کے لیے ہمیں انتظار کرنا ہوگا،" عبداللہ نے یہاں نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا۔
 
'انڈیا' بلاک  اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے الیکشن کمیشن کے دفتر تک مارچ کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "یہ عمل جاری رہے گا۔ ہم مسلسل یہ مسئلہ اٹھاتے رہے ہیں لیکن بہت کم لوگوں نے اس پر توجہ دی۔ اب میڈیا نے بھی اس بارے میں بات کرنا شروع کر دی ہے۔"
 
جموں و کشمیر سے بنگلہ دیشیوں کی بے دخلی کے معاملے پر وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بغیر اجازت ہندوستان میں داخل ہونے والے غیر ملکی یہاں قیام نہیں کر سکتے۔انہوں نے کہا۔ ”عملی طور پر دیکھا جائے تو یہاں ان کی موجودگی سے ہمیں کوئی خاص مسئلہ پیش نہیں آیا ہے۔ تاہم، یہ بھی سچ ہے کہ وہ غیر قانونی طور پر یہاں نہیں رہ سکتے،“ ۔
 
تاہم، عبداللہ نے بھارت میں مقیم غیر قانونی بنگلہ دیشیوں اور روہنگیا پناہ گزینوں کے درمیان فرق واضح کرنے کی کوشش کی۔انہوں نے کہا۔”جو لوگ بغیر اجازت بنگلہ دیش سے آئے ہیں، ان کا معاملہ بالکل مختلف ہے۔ لیکن روہنگیا لوگوں کو بلاوجہ نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ جب انہیں ان کے ملک سے بے دخل کیا گیا تو ہم نے انہیں یہاں پناہ دی، رہنے کے لیے جگہ فراہم کی اور انہیں عارضی طور پر یہاں رہنے کی اجازت دی تاکہ حالات بہتر ہونے تک وہ یہاں رہ سکیں۔ اب اچانک ان کے خلاف کاروائی کرنا مجھے کچھ عجیب لگتا ہے،“ 
 
وزیراعلیٰ نے کہا کہ انہیں اس معاملے پر کوئی اختیار حاصل نہیں ہے کیونکہ یہ مرکزی حکومت کے دائرہ اختیار میں آتا ہے۔انہوں نے کہا۔”یہ معاملہ حکومتِ ہند کے تحت آتا ہے اور وہ اس سلسلے میں پولیس کی مدد لے رہی ہے۔ پولیس بھی ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔ لہٰذا، بہتر ہوگا کہ آپ یہ سوال ان لوگوں سے پوچھیں جن کے پاس پولیس کا اختیار ہے،“ ۔