دہلی میں کاکروچ جنتا پارٹی نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ان کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے۔ پیر کی صبح تقریباً 9 بجے سی جے پی کے رہنما سوربھ داس اور آشوتوش رانکا اپنے حامیوں کے ساتھ جنتر منتر پہنچے، جہاں انہوں نے نعرے بازی کی۔ اس دوران پولیس نے دونوں رہنماؤں اور ان کے ساتھیوں کو حراست میں لے لیا۔ آشوتوش رانکا اور سی جے پی نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی ہے۔ ویڈیو میں رانکا کو ترنگا اور تنظیم کے جھنڈے اٹھائے حامیوں کے ساتھ گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ فوٹیج میں پولیس اہلکاروں کو مظاہرین کو حراست میں لیتے ہوئے بھی دیکھا گیا ہے۔
حراست میں لیے جانے سے قبل سی جے پی رہنما سوربھ داس نے کہا کہ وہ جنتر منتر پہنچ چکے ہیں اور پولیس انہیں اپنی تحویل میں لے رہی ہے۔ انہوں نے اسے نوجوان نسل کے لیے ایک پیغام قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوان اپنے مطالبات کے لیے آواز اٹھا سکتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنماؤں کا یہ احتجاج ایسے وقت میں ہوا ہے جب مرکزی حکومت نے جنتر منتر کو احتجاج کے لیے مختص مقامات کی فہرست سے ہٹا دیا ہے۔ اس فیصلے پر تنظیم نے اعتراض کرتے ہوئے کہا ہے کہ احتجاجی مقام کی حیثیت ختم کرنے سے عوامی احتجاج کا سلسلہ نہیں رکے گا۔ سی جے پی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے جنتر منتر کو احتجاجی مقامات کی فہرست سے ہٹانے کے فیصلے پر تنقید کی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت شاید یہ سمجھتی ہے کہ جنتر منتر پر احتجاج روکنے سے لوگوں کی آواز دب جائے گی، لیکن ایسا نہیں ہوگا۔ آشوتوش رانکا کی ترنگا لہراتے ہوئے تصویر شیئر کرتے ہوئے ابھیجیت دیپکے نے ان کی حوصلہ افزائی بھی کی۔
سی جے پی نے 10 اکتوبر کو دہلی میں احتجاج کا اعلان کیا تھا۔ تنظیم کے مطابق، پولیس نے ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی ہوائی اڈے پر حراست میں لیا تھا۔ اس کے علاوہ مختلف مقامات سے سات ہزار سے زائد افراد کو بھی حراست میں لیے جانے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔ بعد میں حراست میں لیے گئے افراد کو رہا کر دیا گیا۔ 12 اکتوبر کو آشوتوش رانکا اور سوربھ داس نے دہلی کے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن کا دورہ کیا اور احتجاج کے لیے نئی تاریخ مقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔ سی جے پی کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس کو 24 گھنٹے کی مہلت دی ہے۔ تنظیم کے مطابق، اگر پولیس احتجاج کی تاریخ طے نہیں کرتی تو وہ اپنے اگلے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔ فی الحال پولیس کی جانب سے احتجاج کی نئی تاریخ کے مطالبے پر باضابطہ ردعمل کی تفصیلات سامنے نہیں آئی ہیں۔






