بھارت کی سپریم کورٹ نے وزیر اعظم نریندر مودی کے خلاف مبینہ توہین آمیز ریمارکس سے متعلق کانگریس رہنما راہل گاندھی کے فوجداری ہتکِ عزت مقدمے میں نچلی عدالت کی کارروائی پر عبوری روک لگا دی ہے۔ راہل گاندھی نے اپنے بیان میں وزیر اعظم کے لیے مبینہ طور پر ’چوروں کا سردار‘ اور ’کمانڈر اِن تھیف‘ جیسے الفاظ استعمال کیے تھے۔ اسی معاملے میں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے ایک کارکن نے ان کے خلاف شکایت درج کرائی تھی۔ جسٹس وکرم ناتھ اور جسٹس اپریش کمار سنگھ پر مشتمل سپریم کورٹ کی بنچ نے راہل گاندھی کی درخواست پر نوٹس جاری کرتے ہوئے متعلقہ فریقین سے چار ہفتوں کے اندر جواب طلب کیا ہے۔ راہل گاندھی نے بامبے ہائی کورٹ کے 8 ستمبر کے فیصلے کو چیلنج کیا تھا، جس میں ان کے خلاف ہتکِ عزت کا مقدمہ ختم کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی تھی۔عدالت نے عبوری حکم میں کہا کہ اس دوران ٹرائل کورٹ میں مقدمے کی مزید کارروائی روک دی جائے گی۔ تاہم، یہ حکم مقدمے کو مستقل طور پر ختم کرنے کے مترادف نہیں ہے۔
راہل گاندھی نے ہائی کورٹ میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ شکایت کنندہ کی جانب سے دائر مقدمہ قانونی طور پر قابلِ سماعت نہیں ہے۔ ان کی دلیل تھی کہ متعلقہ بیان میں نہ تو بی جے پی کا نام لیا گیا تھا اور نہ ہی کسی ایسے متعین گروہ کو نشانہ بنایا گیا تھا جس کے ارکان ہتکِ عزت کی شکایت درج کرانے کے قانونی طور پر حقدار ہوں۔ ان کے مطابق، محض وزیر اعظم کے خلاف بیان دینے سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ پارٹی کے تمام ارکان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔ اسی بنیاد پر انہوں نے مجسٹریٹ کی جانب سے جاری کیے گئے سمن کو چیلنج کیا تھا۔یہ شکایت بی جے پی کارکن مہیش شری شریمل نے میٹروپولیٹن مجسٹریٹ کی عدالت میں دائر کی تھی۔ شکایت کنندہ کا دعویٰ تھا کہ راہل گاندھی کے ریمارکس صرف وزیر اعظم تک محدود نہیں تھے، بلکہ ان سے حکمران جماعت اور اس کے ارکان کی ساکھ بھی متاثر ہوئی۔ شکایت کنندہ نے مؤقف اختیار کیا کہ وزیر اعظم کو ’چوروں کا سردار‘ قرار دینے سے بی جے پی کے ارکان کو بھی چور کہا گیا، اس لیے پارٹی کارکن کی حیثیت سے انہیں قانونی کارروائی شروع کرنے کا حق حاصل ہے۔
بامبے ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ابتدائی مرحلے پر یہ طے نہیں کیا جا سکتا کہ راہل گاندھی کے بیان کا اثر صرف پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک محدود تھا یا اس سے دیگر ارکان بھی متاثر ہوئے۔ عدالت کے مطابق، بیان کے اصل مفہوم اور اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ مقدمے کی سماعت کے دوران لیا جا سکتا ہے۔ ہائی کورٹ نے اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ کے ایک سابق فیصلے کا بھی حوالہ دیا تھا، جس میں سیاسی جماعت کو قابلِ شناخت ادارے کے طور پر تسلیم کرنے سے متعلق قانونی پہلوؤں پر غور کیا گیا تھا۔اب سپریم کورٹ میں اس معاملے کی مزید سماعت ہوگی۔ عدالت کے حتمی فیصلے سے یہ واضح ہوگا کہ راہل گاندھی کے خلاف ہتکِ عزت کی کارروائی جاری رہ سکتی ہے یا نہیں۔ فی الحال نچلی عدالت میں مقدمے کی کارروائی پر عبوری روک برقرار رہے گی۔





