جامعہ ملیہ اسلامیہ میں تقریباً دو دہائیوں بعد طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کے اعلان کے بعد کاکروچ جنتا پارٹی نے راجستھان حکومت سے بھی سوال کیا ہے۔ آشوتوش رانکا نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے پوچھا کہ راجستھان حکومت طلبہ یونین انتخابات کے معاملے پر کب فیصلہ لے گی۔ آشوتوش رانکا نے اپنی پوسٹ میں سوال اٹھایا کہ راجستھان حکومت کب جاگنے کا ارادہ رکھتی ہے؟ ان کا کہنا ہے کہ وہاں کی یونیورسٹیوں میں بھی طلبہ یونین کے انتخابات ہونے چاہئیں۔
اس سے پہلے جامعہ ملیہ اسلامیہ کی انتظامیہ نے تقریباً 20 سال بعد طلبہ یونین کے انتخابات کرانے کا اعلان کیا۔ اس سلسلے میں پیر کو حکم نامہ بھی جاری کیا گیا۔ یونیورسٹی انتظامیہ کے مطابق، طلبہ یونین کے آئین کو منظوری ملنے کی تاریخ سے 15 دن کے اندر انتخابات کرائے جائیں گے۔ حکم نامے میں واضح کیا گیا ہے کہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اسٹوڈنٹس یونین کے انتخابات مقررہ مدت کے اندر مکمل کیے جائیں گے۔ یہ فیصلہ یونیورسٹی میں کئی دنوں تک جاری رہنے والے احتجاج اور طلبہ کی جانب سے منتخب طلبہ یونین بحال کرنے کے مطالبے کے بعد سامنے آیا ہے۔ طلبہ کافی عرصے سے انتخابات کرانے کا مطالبہ کر رہے تھے۔ یونیورسٹی انتظامیہ نے 2006 میں طلبہ یونین کو تحلیل کر دیا تھا۔
یونیورسٹی کے حکم نامے میں احتجاج کے دوران پیش آنے والے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، احتجاج کرنے والے طلبہ نے یونیورسٹی انتظامیہ کے خلاف تحریک کے دوران دیے گئے ہتک آمیز بیانات، کیے گئے اقدامات اور سوشل میڈیا پوسٹس پر پریس کانفرنس کے ذریعے عوامی طور پر معافی مانگنے پر رضامندی ظاہر کی ہے۔ دوسری جانب، نیشنل اسٹوڈنٹس یونین آف انڈیا (NSUI) نے بھی ایکس پر پوسٹ کرتے ہوئے معافی مانگی ہے۔ جامعہ میں انتخابات کے اعلان کے بعد اب توجہ اس بات پر ہے کہ آئین کی منظوری کب ملتی ہے اور اس کے بعد مقررہ 15 دن کے اندر انتخابی عمل کیسے مکمل کیا جاتا ہے۔







