مشرقی وسطیٰ میں جنگ کے بادل گہرے ہو رہے ہیں اور سب کی نظریں اس وقت تہران پر لگی ہیں، جہاں سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے ہائی لیول افیشل ایرانی قیادت کے ساتھ اہم مذاکرات کر رہے ہیں۔اس ہنگامی ملاقات کے ایجنڈے میں امریکہ اور اسرائیل کی 'Possible aggression' اور حملوں کو روکنا اہم ہے، جس نے عالمی طاقتوں کو چوکنا کر دیا ہے۔عالمی طاقتوں اور مسلم دنیا کی نظر اس ملاقات پر ہے۔ اور ساتھ ہی واشنگٹن اور تل ابیب اس بیٹھک کو گہری تشویش اور شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔
مکہ دفاعی معاہدے کے رکن ممالک پاکستان، سعودی عرب اور ترکیے کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام آج تہران میں ایرانی حکام سے ملاقات کریں گے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کی نمائندگی آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کریں گے، جبکہ سعودی عرب کی جانب سے وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان اور ترکیے کی جانب سے ترک انٹیلی جنس کے سربراہ ابراہیم قالن ملاقات میں شریک ہوں گے۔اجلاس میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری جنرل محسن رضائی بھی شریک ہوں گے۔آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران کا سرکاری دورہ کررہے ہیں جس کے لیے وہ تہران پہنچ گئے ہیں۔
سعودی عرب پر حوثی حملوں کے بعد ایران، سعودی عرب، پاکستان اور ترکیے کے اعلیٰ حکام کے درمیان یہ پہلی ملاقات ہوگی۔ ایرانی ، قومی سلامتی کی اعلیٰ کونسل کے نائب سیکریٹری علی باقری نے بھی تصدیق کی ہے کہ سعودی وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان، پاکستان کے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور ترک انٹیلی جنس ادارے کے سربراہ ابراہیم قالن تہران کے دورے کے دوران اجلاس میں شرکت کریں گے۔ان کا کہنا تھا کہ اس دورے کا مقصد محسن رضائی کے ساتھ علاقائی سلامتی سے متعلق مشاورت اور تبادلۂ خیال کرنا ہے۔
سعودی عرب کی نمائندگی وزیردفاع شہزادہ خالد بن سلمان کریں گے،ملاقات میں علاقائی رابطہ کاری، سلامتی کی صورتحال اورباہمی تعاون سےمتعلق امورپرتبادلہ خیال متوقع ہے،اجلاس میں شرکت کیلئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سرکاری دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کےترجمان نے کہا کہ اجلاس مشترکہ مفادات کی بنیاد پر علاقائی سلامتی اور تعاون کے فروغ کی جانب اہم قدم ہے،قطری وفد نے بھی گزشتہ روز علاقائی مذاکرات اور ثالثی کی کوششوں کے سلسلے میں تہران کا دورہ کیا۔
دوسری جانب اسماعیل بقائی نےامریکہ کوخبردارکرتے ہوئے کہا کہ امریکی بیانات سے قطع نظر ایران تمام پیشرفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے،ایران اس وقت بھی حالتِ جنگ میں ہے اور ایرانی مسلح افواج ملک کے دفاع کے لیے کسی بھی ضروری اقدام سے گریز نہیں کریں گی۔خیال رہےکہ سعودی عرب پریمن کے ایران نواز حوثی باغیوں کے بڑھتے ہوئےحملوں کے بعد یہ پہلا موقع ہوگا کہ تینوں ممالک کے اعلیٰ حکام ایرانی قیادت سے رابطہ کریں گے۔
اس ماہ کے آغازمیں مکہ دفاعی معاہدے کےرکن ممالک کےوزرا نےریاض میں ہنگامی اجلاس کیاتھا،جس میں سعودی عرب میں فوجی دستوں اور دفاعی صلاحیتوں کی فوری تعیناتی یقینی بنانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔
واشنگٹن اور تل ابیب اس بیٹھک کو گہری تشویش اور شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں ۔ امریکی Pentagon کا کہنا ہے کہ یہ خطے میں اسرائیل کو Isolate کرنے کی کوشش ہے، جبکہ اسرائیلی حکام اسے اپنے Defensive measures کے خلاف ایک Diplomatic tactic قرار دے رہے ہیں۔ دوسری جانب ایک سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا 'Makkah Pact' سے وابستہ یہ طاقتور مسلم بلاک Backdoor diplomacy کے ذریعے امریکہ کی مدد کر رہا ہے تاکہ تہران پر دباؤ ڈال کر واشنگٹن کی مرضی کی Deal کروائی جا سکے؟ یا پھر یہ ممالک واقعی مکہ پیکٹ کی طاقت کا استعمال کر کے امریکہ اور اسرائیل کے Aggressive Ambitions کے خلاف ایران کے لیے ایک مضبوط ڈھال بننے جا رہے ہیں؟اور کیا یہ دورہ ریجن کو کسی تباہ کن Global war سے بچانے کی آخری Diplomatic effort ہے، یا پھر اس کے پیچھے کوئی اور مقصد ہے۔ یہ دیکھنےوالی بات ہے۔






