دل کے امراض میں Coronary Artery Disease (CAD) ایک عام لیکن سنگین مسئلہ ہے۔ اس بیماری میں دل کو خون پہنچانے والی شریانوں میں چکنائی اور دیگر مادے جمع ہونے کے باعث ان کا راستہ تنگ ہوسکتا ہے، جس سے دل کے پٹھوں تک خون اور آکسیجن کی فراہمی متاثر ہوتی ہے۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج نہ ہونے کی صورت میں یہی مسئلہ ہارٹ اٹیک کا سبب بن سکتا ہے۔ کورونری آرٹری ڈیزیز، اس کی علامات اور علاج کے بارے میں منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’’ہیلتھ اور ہم‘‘ میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔
پروگرام میں Dr. Musunooru Ravi Kiran، کنسلٹنٹ کارڈیوتھوراسک سرجن، کامینینی ہسپتال، کنگ کوٹھی ، حیدرآباد نے دل کی شریانوں کی بیماری کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
ماہر کے مطابق کورونری آرٹری ڈیزیز عموماً شریانوں کی اندرونی دیوار میں Plaque جمع ہونے سے پیدا ہوتی ہے۔ وقت کے ساتھ یہ تہہ موٹی ہوسکتی ہے اور خون کی روانی محدود کرسکتی ہے۔ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، کولیسٹرول میں اضافہ، تمباکو نوشی، موٹاپا، جسمانی سرگرمی کی کمی اور خاندان میں دل کی بیماری کی تاریخ اس خطرے کو بڑھانے والے اہم عوامل میں شامل ہیں۔
اس بیماری کی ایک عام علامت سینے میں درد یا دباؤ ہے، جو بعض اوقات چلنے، سیڑھیاں چڑھنے یا جسمانی محنت کے دوران ظاہر ہوتا ہے اور آرام کرنے پر کم ہوسکتا ہے۔ درد یا بھاری پن بازو، کندھے، گردن، جبڑے یا کمر تک بھی محسوس ہوسکتا ہے۔ کچھ مریضوں، خصوصاً خواتین اور ذیابیطس کے مریضوں میں علامات مختلف انداز میں ظاہر ہوسکتی ہیں، مثلاً غیر معمولی تھکن، سانس پھولنا یا بدہضمی جیسی شکایات۔
تشخیص کے لیے ڈاکٹر مریض کی علامات اور طبی تاریخ کے ساتھ مختلف ٹیسٹ تجویز کرسکتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق ECG، ایکو، اسٹریس ٹیسٹ، CT Coronary Angiography یا Coronary Angiography کی مدد سے شریانوں کی حالت کا جائزہ لیا جاسکتا ہے۔
علاج بیماری کی شدت اور مریض کی مجموعی صحت پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض افراد میں طرز زندگی میں تبدیلی اور ادویات کافی ہوسکتی ہیں، جبکہ شدید رکاوٹ کی صورت میں انجیوپلاسٹی اور اسٹنٹ یا Coronary Artery Bypass Grafting (CABG) جیسے طریقہ علاج پر غور کیا جاسکتا ہے۔
ماہرڈاکٹر کے مطابق دل کی شریانوں کی بیماری سے بچاؤ میں تمباکو نوشی سے مکمل پرہیز، بلڈ پریشر، شوگر اور کولیسٹرول کو قابو میں رکھنا، باقاعدہ جسمانی سرگرمی، متوازن غذا اور صحت مند وزن برقرار رکھنا اہم ہے۔
اگر سینے میں اچانک شدید دباؤ یا درد، سانس لینے میں شدید دشواری، ٹھنڈا پسینہ، متلی یا بے ہوشی جیسی علامات ظاہر ہوں تو اسے معمولی مسئلہ سمجھ کر انتظار نہیں کرنا چاہیے۔ ایسی علامات ہارٹ اٹیک کی نشاندہی کرسکتی ہیں اور فوری ایمرجنسی طبی امداد ضروری ہے۔
دل کی بیماری اکثر آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، اس لیے علامات ظاہر ہونے کا انتظار کرنے کے بجائے خطرے والے افراد کے لیے باقاعدہ طبی معائنہ اور صحت مند طرز زندگی اختیار کرنا زیادہ اہم ہے۔
قارئین آپ، ڈاکٹر مْسنورو روی کرن۔ کنسلٹنٹ کارڈیوتھوراسک سرجن، کامینینی ہسپتال، کنگ کوٹھی ، حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔






