اے سی پی منسوی وششٹھ اور انسپکٹر ارون کمار کے تبادلے پر ناراضگی
پولیس اہلکاروں نے کمشنر سے ملاقات اور شکایات سننے کے لیے ’سمپرک سبھا‘ منعقد کرنے کا مطالبہ کیا
دہلی میں امن و امان برقرار رکھنے کی ذمہ داری نبھانے والی پولیس فورس کے اہلکار ہی پیر کی صبح اپنے مطالبات کے ساتھ سڑک پر اتر آئے۔ نئی دہلی میں واقع دہلی پولیس ہیڈکوارٹر (PHQ) کے گیٹ نمبر ایک کے باہر تقریباً 80 پولیس اہلکار جمع ہوئے اور دو افسران کے تبادلے کے خلاف احتجاج کیا۔ اس واقعے پر آل انڈیا اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن (AISA) کی صدر نیہا بورا نے دہلی پولیس پر طنز کرتے ہوئے سوال اٹھایا کہ کیا پولیس اپنے ہی ناراض اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرے گی؟ انہوں نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ پولیس ہیڈکوارٹر ایسے علاقے میں واقع ہے جہاں بھارتیہ ناگرک سرکشا سنہیتا (BNSS) کی دفعہ 163 نافذ ہے۔ نیہا بورا نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ دہلی پولیس ہیڈکوارٹر کے علاقے میں دفعہ 163 نافذ ہونے کے باوجود پولیس اہلکار احتجاج کر رہے ہیں۔ انہوں نے اس واقعے کو ایک کمزور ہوتے ہوئے نظام کی علامت قرار دیا۔
دو افسران کے تبادلے کے خلاف احتجاج
پیر کی صبح تقریباً 80 پولیس اہلکار ہیڈکوارٹر کے گیٹ نمبر ایک کے باہر فٹ پاتھ پر جمع ہوئے۔ وہ اے سی پی منسوی وششٹھ اور انسپکٹر ارون کمار کے تبادلوں کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ مظاہرین کا مطالبہ تھا کہ انہیں پولیس کمشنر سے ملاقات کا موقع دیا جائے تاکہ وہ اپنے تحفظات اور شکایات براہِ راست ان کے سامنے رکھ سکیں۔ اہلکاروں نے پولیس کمشنر سے ایک ’سمپرک سبھا‘ منعقد کرنے کی بھی درخواست کی، تاکہ پولیس فورس کے مسائل پر بات ہو سکے۔ احتجاج کی اطلاع ملنے پر نئی دہلی کے ڈی سی پی سچن شرما موقع پر پہنچے۔ انہوں نے اے سی پی منسوی وششٹھ سے بات کی اور مظاہرین سے احتجاج ختم کرنے کی اپیل کی۔ ڈی سی پی نے پولیس فورس میں نظم و ضبط کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ انہوں نے کچھ اہلکاروں کو بات چیت کے لیے ہیڈکوارٹر کے اندر آنے کی دعوت دی، لیکن کوئی بھی اہلکار اس کے لیے تیار نہیں ہوا۔
وکیل کے ساتھ جھڑپ کے بعد ہوئے تھے تبادلے
دونوں افسران کے تبادلے 23 اکتوبر کو شاہدرہ پولیس اسٹیشن میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد کیے گئے تھے۔ الزام ہے کہ اس واقعے کے دوران ایک وکیل کے ساتھ جھڑپ ہوئی، جس میں ان کے سر پر شدید چوٹ آئی۔ اس وقت اے سی پی منسوی وششٹھ گاندھی نگر سب ڈویژن میں تعینات تھے، جبکہ انسپکٹر ارون کمار شاہدرہ پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او تھے۔ واقعے کے بعد ضلعی عدالتوں کے وکلا نے متعلقہ پولیس افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کی ہڑتال شروع کر دی تھی۔ 28 اکتوبر کو دونوں افسران کے تبادلے کے احکامات جاری ہونے کے بعد وکلا نے ہڑتال ختم کر دی۔ تاہم ان تبادلوں سے دہلی پولیس کے کچھ اہلکار ناراض ہو گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں افسران کے خلاف کارروائی سے پہلے انہیں پولیس کمشنر کے سامنے اپنا مؤقف رکھنے کا موقع دیا جانا چاہیے تھا۔
واٹس ایپ پیغامات کے ذریعے احتجاج کی اپیل
دہلی پولیس کے ایک واٹس ایپ گروپ میں بھی پیر کی صبح احتجاج سے متعلق پیغامات گردش کرتے رہے۔ ان پیغامات میں اہلکاروں سے پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر جمع ہونے اور دونوں افسران کی حمایت میں مظاہرہ کرنے کی اپیل کی گئی تھی۔ ساتھ ہی ان کی سابقہ تعیناتیوں پر بحالی کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔ دوسری جانب ڈسٹرکٹ ڈی سی پیز اور مختلف یونٹوں کے سربراہان کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنے ماتحت اہلکاروں کو مجوزہ احتجاج میں شرکت کے لیے ہیڈکوارٹر پہنچنے سے روکیں۔ احتجاج کے دوران پولیس ہیڈکوارٹر سے کوئی سینئر افسر باہر نہیں آیا جو مظاہرین سے بات کرتا یا ان کے تحفظات سنتا۔ اس واقعے نے دہلی پولیس کے اندرونی نظم و ضبط اور اہلکاروں کی شکایات سننے کے طریقۂ کار پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔






