Monday, September 28, 2026 | 14 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • صحت
  • »
  • ذیابیطس: اقسام، اسباب، علامات اور علاج

ذیابیطس: اقسام، اسباب، علامات اور علاج

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 28 Sept 2026

ذیابیطس: اقسام، اسباب، علامات اور علاج
ذیابیطس  جس کو عام طور پر شوگر بھی کہا جاتا ہے ایک ایسی بیماری ہے جو آہستہ آہستہ جسم کے مختلف اعضا کو متاثر کر سکتی ہے۔ اکثر لوگ اسے صرف بلڈ شوگر بڑھنے کا مسئلہ سمجھتے ہیں، لیکن اگر شوگر طویل عرصے تک قابو میں نہ رہے تو اس کے اثرات دل، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور خون کی نالیوں تک پہنچ سکتے ہیں۔ اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں ڈاکٹر ہیرن ایس ریڈی۔ کنسلٹنٹ فزیشن، ماہرِ ذیابیطس (Diabetologist)، ماہرِ کریٹیکل کیئر۔ ایم بی بی ایس، ایم ڈی، ایم ایم ایس سی (اینڈوکرائنولوجی)، ایف سی ڈی، ایف سی جی پی۔ ڈاکٹر ہیرنز ڈائبیٹک، تھائیرائڈ اینڈ جنرل کلینک، فیور ہاسپٹل کراس روڈ کے نزدیک، نلہ کنٹہ مین روڈ، حیدرآباد نے تفصیلی روشنی ڈالی۔
 
ذیابیطس بنیادی طور پر اس وقت پیدا ہوتی ہے جب جسم خون میں موجود گلوکوز کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کر پاتا۔ ماہرین کے مطابق ذیابیطس کی مختلف اقسام ہیں، جن میں Type 1 Diabetes، Type 2 Diabetes اور Gestational Diabetes نمایاں ہیں۔
 ٹائپ 1 ذیابیطس عموماً جسم میں انسولین کی پیداوار بہت کم یا ختم ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے، جبکہ ٹائپ 2 میں جسم انسولین کو مؤثر انداز میں استعمال نہیں کر پاتا۔
ٹائپ 2 ذیابیطس کے خطرے میں خاندانی تاریخ، جسمانی سرگرمی کی کمی، غیر متوازن غذا، وزن میں اضافہ اور بڑھتی عمر جیسے عوامل کردار ادا کر سکتے ہیں۔ تاہم ہر مریض میں بیماری کی وجہ ایک جیسی نہیں ہوتی۔
 
ذیابیطس کی عام علامات میں بار بار پیشاب آنا، زیادہ پیاس لگنا، بھوک میں اضافہ، تھکن، وزن میں غیر متوقع کمی، زخم کا دیر سے بھرنا اور نظر دھندلانا شامل ہیں۔ بعض افراد میں ابتدائی مرحلے پر کوئی واضح علامت نہیں ہوتی، اس لیے باقاعدگی سے بلڈ شوگر کی جانچ خاص اہمیت رکھتی ہے۔
 
ڈاکٹر کے مطابق ذیابیطس کا علاج مریض کی حالت اور بیماری کی قسم کے مطابق کیا جاتا ہے۔ متوازن غذا، روزانہ جسمانی سرگرمی، وزن کو مناسب حد میں رکھنا اور ڈاکٹر کی تجویز کردہ ادویات کا باقاعدگی سے استعمال شوگر کو کنٹرول کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ کچھ مریضوں کو انسولین کی بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
 
ذیابیطس کو نظر انداز کرنا صحت کے لیے سنگین مسائل پیدا کر سکتا ہے۔ طویل عرصے تک زیادہ شوگر خون کی نالیوں کو متاثر کر کے دل کی بیماری، فالج، گردوں کے مسائل، آنکھوں کی بینائی میں خرابی اور اعصابی نقصان کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔
 
ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کی تشخیص کے بعد گھبرانے کے بجائے باقاعدہ طبی نگرانی اور طرز زندگی میں مناسب تبدیلیوں پر توجہ دینا ضروری ہے۔ بروقت تشخیص، شوگر کی باقاعدہ جانچ اور مسلسل علاج کے ذریعے اس بیماری سے پیدا ہونے والی کئی پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
قارئین آپ، ڈاکٹر ہیرن ایس ریڈی۔ کنسلٹنٹ فزیشن، ماہرِ ذیابیطس، ماہرِ کریٹیکل کیئر کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی  دیکھ سکتےہیں۔