موسم کی تبدیلی کے ساتھ وائرل بخار، فلو، کھانسی اور نزلہ زکام کے معاملات میں اضافہ دیکھا جاتا ہے۔ اکثر لوگ ان علامات کو معمولی سمجھ کر خود ہی دوائیں استعمال کرنا شروع کردیتے ہیں، لیکن بعض حالات میں یہی علامات سنگین بیماری کی شکل اختیار کرسکتی ہیں۔ خاص طور پر بچوں، بزرگوں اور پہلے سے کسی بیماری میں مبتلا افراد کو زیادہ احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔
اسی اہم موضوع پر منصف ٹی وی کے خصوصی پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ میں وائرل بخار اور فلو کی علامات، وجوہات اور علاج کے بارے میں تفصیلی گفتگو کی گئی۔ اس موقع پر ڈاکٹر محمد حنیف محی الدین، ایم بی بی ایس، ایم ڈی، آئی ڈی سی سی ایم، کنسلٹنٹ اینستھیزیا و کریٹیکل کیئر میڈیسن، بلس ہاسپٹل، مہدی پٹنم، حیدرآباد نے اس موضوع کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی۔
وائرل بخار اور فلو میں کیا فرق ہے؟
وائرل بخار کسی وائرس کے انفیکشن کے باعث ہوسکتا ہے جبکہ فلو انفلوئنزا وائرس سے ہونے والی سانس کی بیماری ہے۔ دونوں میں بخار، جسم میں درد، تھکن اور سر درد جیسی علامات سامنے آسکتی ہیں۔ تاہم فلو میں عموماً اچانک بخار، خشک کھانسی، گلے میں خراش اور شدید تھکن محسوس ہوتی ہے۔
عام وائرل انفیکشن میں بھی نزلہ، زکام، کھانسی اور جسمانی کمزوری ہوسکتی ہے۔ صرف علامات کی بنیاد پر ہر مرتبہ بیماری کی درست شناخت ممکن نہیں ہوتی۔ ضرورت پڑنے پر ڈاکٹر طبی معائنے اور ٹیسٹ کے ذریعے بیماری کی وجہ معلوم کرسکتے ہیں۔
کن علامات کو نظر انداز نہ کریں؟
بخار کے ساتھ جسم میں درد، سردی لگنا، کھانسی، ناک بہنا، گلے میں خراش اور بھوک میں کمی عام علامات میں شامل ہیں۔ زیادہ تر غیر پیچیدہ وائرل انفیکشن آرام اور مناسب دیکھ بھال سے بہتر ہوجاتے ہیں۔تاہم سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، بے ہوشی، غیر معمولی غنودگی، پانی کی شدید کمی یا مسلسل بگڑتی ہوئی حالت کی صورت میں فوری طبی مدد حاصل کرنا ضروری ہے۔ چھوٹے بچوں اور بزرگوں میں علامات کو خاص طور پر سنجیدگی سے لینا چاہیے۔
علاج اور احتیاطی تدابیر
وائرل بخار اور فلو میں مناسب آرام، پانی اور دیگر سیال اشیا کا استعمال اور متوازن غذا صحت یابی میں مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ بخار یا جسمانی درد کے لیے دوا ڈاکٹر یا فارماسسٹ کے مشورے سے استعمال کرنی چاہیے۔چونکہ اینٹی بایوٹک ادویات بیکٹیریا کے خلاف کام کرتی ہیں اور وائرس پر اثر نہیں کرتیں، اس لیے انہیں خود سے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ بعض مریضوں میں انفلوئنزا کی مخصوص اینٹی وائرل دوا فائدہ پہنچا سکتی ہے، خصوصاً اگر علاج جلد شروع کیا جائے۔
بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ہاتھوں کی صفائی، کھانستے یا چھینکتے وقت منہ ڈھانپنا، بیمار ہونے پر دوسروں سے مناسب فاصلہ رکھنا اور فلو ویکسین کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کرنا مفید ہے۔
منصف ٹی وی کے پروگرام ’ہیلتھ اور ہم‘ کا مقصد صحت سے متعلق اہم مسائل پر عوام میں شعور بیدار کرنا اور درست طبی معلومات فراہم کرنا ہے۔ ماہرین کے مطابق بروقت علامات کی شناخت، مناسب دیکھ بھال اور ضرورت کے وقت ڈاکٹر سے رجوع کرنا وائرل انفیکشن سے محفوظ رہنے اور پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
قارئین آپ ڈاکٹر محمد حنیف محی الدین، ایم بی بی ایس، ایم ڈی، آئی ڈی سی سی ایم، کنسلٹنٹ اینستھیزیا و کریٹیکل کیئر میڈیسن، بلس ہاسپٹل، مہدی پٹنم، حیدرآباد کی مکمل گفتگو👇یہاں دیکھ سکتےہیں۔ ساتھ ہی منصف ٹی وی ہیلتھ پر صحت سے متعلق ہزاروں ویڈیوز بھی دیکھ سکتےہیں۔






