Sunday, October 25, 2026 | 13 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • سعودی عرب میں پھنسے باشندوں کو محفوظ وطن واپس لانے حکومت کی کوشش

سعودی عرب میں پھنسے باشندوں کو محفوظ وطن واپس لانے حکومت کی کوشش

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 24 Oct 2026

سعودی عرب میں پھنسے باشندوں کو محفوظ وطن واپس لانے حکومت کی کوشش
عمرہ کی سعادت حاصل کرنے کے لیے سعودی عرب گئے سینکڑوں ہندوستانی عازمین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ وہ وطن واپس نہیں جا پا رہے ہیں۔ کرناٹک کے 600 سے زیادہ لوگ اور کشمیر سے تعلق رکھنے والے مزید 36 عازمین اس وقت مکہ اور مدینہ میں پھنسے ہوئے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں سیکورٹی وجوہات کی بنا پر فلائٹ سروس کی معطلی کے باعث ان کی حالت ناقابل برداشت ہو گئی ہے۔
 
کرناٹک کے وزیراعلی ڈی کے شیوکمار نے سعودی عرب میں پریشان بھارتی باشندوں کے مسئلہ کو حل کرانے کی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے جمعہ کو مرکزی وزیر خارجہ ایس جے شنکر کو ایک خط لکھا، جس میں انہیں بحفاظت واپس لانے کے لیے فوری اقدامات کرنے کی درخواست کی گئی۔ انہوں نے اپنے خط میں کہا کہ معتمرین  کے پاس نقدی  ختم ہو چکے ہیں اور ہوٹل مالکان کی جانب سے ان پر کمرے خالی کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ انہوں نے اپنی تشویش کا اظہار کیا کہ متاثرین میں بوڑھے، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں اور یہ کہ مقامی این جی اوز کی مدد کافی نہیں ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں ہندوستانی سفارت خانے سے رابطہ کیا ہے اور درخواست کی ہے کہ اگر ضرورت ہو تو خصوصی پروازوں کے ذریعے انہیں وہاں سے نکالا جائے۔
 
اسی طرح 25 ستمبرکو سری نگرسے روانہ ہونے والے 50 کشمیری عازمین میں سے 34 اب بھی سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ان کی واپسی کا سفر اس وقت درہم برہم ہو گیا جب انڈیگو کی وہ پرواز جس میں وہ 13 اکتوبر کو پرواز کرنے والے تھے منسوخ ہو گئے۔ وہ دبئی یا دیگر راستوں کے ذریعے متبادل پرواز کے ٹکٹ کے متحمل نہیں ہیں، جن کی قیمت ہر ایک لاکھ روپے سے زیادہ ہے۔ متاثرین شکایت کر رہے ہیں کہ انہیں اپنے روزمرہ کے اخراجات پورے کرنے کے لیے قرض لینا پڑ رہا ہے اور بزرگوں کے لیے ضروری ادویات کی عدم دستیابی سے پریشان ہیں۔
 
خلیجی خطے میں جاری کشیدہ صورتحال اور پروازوں کی معطلی کے باعث سعودی عرب میں عمرہ کی ادائیگی کے لیے گئے جموں و کشمیر کے کم از کم 34 زائرین درماندہ ہوگئے ہیں۔ اور اُنہوں نے حکومتِ ہند سے اپنی بحفاظت واپسی کی اپیل کی ہے۔ دریں اثنا، وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اس صورتحال کے حوالے سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ حکومت وزارت خارجہ کے مسلسل رابطے میں ہے اور زائرین کی واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔جموں و کشمیر حکومت اس معاملے پر مرکزی وزارت خارجہ سے بھی رابطے میں ہے۔ 
 
دوسری طرف اقلیتی امور کے مرکزی وزیر کرن رجیجو نے کہا کہ سعودی عرب میں پھنسے ہوئے ہندوستانی عازمین کو تمام ضروری مدد فراہم کی جارہی ہے۔ انہوں نے ریاض میں ہندوستانی سفارت خانے اور جدہ میں قونصلیٹ کے ہیلپ لائن نمبرز کو مدد کے لیے شیئر کیا۔ یہ معلوم ہوتا ہے کہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے پیش نظر کئی بین الاقوامی فضائی کمپنیوں نے اپنی خدمات عارضی طور پر معطل کر دی ہیں۔