Friday, September 18, 2026 | 04 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • تعلیم و روزگار
  • »
  • دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین الیکشن 2026: تمام کالجوں میں ووٹنگ جاری

دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین الیکشن 2026: تمام کالجوں میں ووٹنگ جاری

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 18 Sept 2026

دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین الیکشن 2026: تمام کالجوں میں ووٹنگ جاری
دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (DUSU) انتخابات 2026 کے لیے آج یونیورسٹی کے تمام کالجوں میں ووٹنگ ہو رہی ہے۔ طلبہ صبح سے ہی اپنے ووٹ کا حق استعمال کرنے کے لیے پولنگ مراکز پہنچ رہے ہیں۔ ووٹنگ کے لیے یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ انتخابات کے پیش نظر مختلف علاقوں میں سکیورٹی بھی سخت کردی گئی ہے۔ پولنگ کا آغاز صبح ساڑھے 8 بجے ہوا۔ ووٹنگ دو شفٹوں میں منعقد کی جا رہی ہے تاکہ صبح اور شام کی شفٹ میں تعلیم حاصل کرنے والے تمام طلبہ کو ووٹ ڈالنے کا موقع مل سکے۔ صبح کی شفٹ والے کالجوں کے طلبہ صبح ساڑھے 8 بجے سے دوپہر ایک بجے تک ووٹ ڈال سکیں گے، جبکہ شام کی شفٹ میں پڑھنے والے طلبہ کے لیے ووٹنگ کا وقت سہ پہر ڈھائی بجے سے شام 7 بجے تک مقرر کیا گیا ہے۔
 
انتخابات کے لیے دہلی یونیورسٹی کے مختلف کالجوں میں 1,100 سے زائد ای وی ایم مشینیں استعمال کی جا رہی ہیں۔ پولنگ مراکز پر طلبہ کی سہولت کے لیے انتظامات کیے گئے ہیں، جبکہ کسی بھی ناخوشگوار صورتحال سے نمٹنے کے لیے سکیورٹی اہلکاروں کو بھی تعینات کیا گیا ہے۔ DUSU انتخابات کے پیش نظر دہلی پولیس نے بھی سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے ہیں۔ شاہدرہ پولیس کی جانب سے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے اضافی نفری تعینات کی گئی ہے۔ شاہدرہ کے ڈپٹی کمشنر آف پولیس راجندر پرساد مینا نے مختلف کالجوں کا دورہ کیا اور وہاں موجود سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا۔ پولیس کی جانب سے پولنگ کے دوران نظم و ضبط برقرار رکھنے اور طلبہ کی حفاظت کو یقینی بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
 
دریں اثنا، انتخابات میں امیدواروں کی جانب سے طلبہ سے متعلق مختلف مسائل کو اہم انتخابی موضوع بنایا گیا ہے۔ اے بی وی پی کی جانب سے صدر کے عہدے کے امیدوار شری سنگھ نے کہا کہ طلبہ کے سامنے کئی اہم مسائل ہیں جنہیں انتخابات کے دوران اٹھایا جا رہا ہے۔ شری سنگھ کے مطابق ستیہ نکیتن میں پیش آنے والا واقعہ ان اہم مسائل میں شامل ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے یونیورسٹی میں فیسوں میں مسلسل اضافے کے معاملے پر بھی تشویش ظاہر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ طلبہ کے لیے بنیادی سہولیات کی فراہمی بھی ایک اہم مسئلہ ہے اور ان کی جانب سے ان مسائل پر توجہ دینے کی بات کی جا رہی ہے۔ اب تمام کالجوں میں ووٹنگ مکمل ہونے کے بعد طلبہ کے ووٹ کس امیدوار کے حق میں جاتے ہیں، اس پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔ انتخابات کے نتائج طلبہ سیاست میں آئندہ قیادت کے تعین میں اہم کردار ادا کریں گے۔