حیدرآباد کے پرانے شہر میں مدنا پیٹ پولیس اسٹیشن کے حدود میں باپ بیٹے پر قاتلانہ حملے کا ایک سنسنی خیز واقعہ پیش آیا، جس میں باپ کی موت ہوگئی، جبکہ اس کا 16 سالہ بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ پولیس نے واقعے کے سلسلے میں مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کردی ہیں۔ یہ واردات جمعرات کی شام باغ جہاں آرا، یاقوت پورہ کے علاقے میں پیش آئی۔ پولیس کے مطابق ملزم حبیب محمود مبینہ طور پر حشمت علی خان کے گھر میں داخل ہوا اور وہاں موجود حشمت علی خان اور ان کے 16 سالہ بیٹے عمر پر خنجر سے حملہ کردیا۔ اچانک ہونے والے اس حملے میں دونوں شدید زخمی ہوگئے۔
واقعے کے بعد علاقے میں تشویش کی لہر دوڑ گئی۔ مقامی افراد نے زخمیوں کو فوری طور پر علاج کے لیے اسپتال منتقل کیا، تاہم حشمت علی خان زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے۔ ان کے بیٹے عمر کا علاج جاری ہے اور اس کی حالت تشویشناک بتائی جارہی ہے۔ ابتدائی طور پر سامنے آنے والی معلومات کے مطابق حملے کی وجہ مقتول کی بیٹی کو مبینہ طور پر ہراساں کرنا بتائی جا رہی ہے۔ ذرائع کے مطابق ملزم حشمت علی خان کی بیٹی کو پریشان کرتا تھا اور اس سے یک طرفہ محبت کرتا تھا۔ حشمت علی خان نے مبینہ طور پر نوجوان کے رویے پر اعتراض کیا اور اسے اپنی بیٹی کو ہراساں کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔
بتایا جا رہا ہے کہ اسی بات پر ملزم ناراض ہوگیا اور مبینہ طور پر منصوبہ بندی کے ساتھ حشمت علی خان کے گھر پہنچا۔ پولیس کے مطابق گھر میں داخل ہونے کے بعد اس نے خنجر سے حشمت علی خان اور ان کے بیٹے پر حملہ کیا، جس کے نتیجے میں باپ کی جان چلی گئی جبکہ بیٹا شدید زخمی ہوگیا۔ واقعے کی اطلاع ملنے کے بعد پولیس موقع پر پہنچی اور معاملے کی تحقیقات شروع کردی۔ ڈی سی پی کرن کھیرے نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے واقعے سے متعلق تفصیلات بیان کیں۔ پولیس نے مقدمہ درج کرلیا ہے اور حملے کی وجوہات، واقعے کے حالات اور ملزم سے متعلق دیگر پہلوؤں کی تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
دریں اثنا، مقامی رکن اسمبلی احمد بن عبداللہ بلعلہ نے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے ملزم کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے معاملوں میں فاسٹ ٹریک عدالتی کارروائی کے ذریعے قصورواروں کو سخت سزا دی جانی چاہیے۔پولیس کی تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی حملے کی اصل وجہ اور واقعے سے متعلق دیگر تفصیلات واضح ہوسکیں گی۔






