Friday, September 18, 2026 | 04 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ترنمول کانگریس تنازع: راہل گاندھی کی الیکشن کمیشن پر تنقید

ترنمول کانگریس تنازع: راہل گاندھی کی الیکشن کمیشن پر تنقید

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 18 Sept 2026

ترنمول کانگریس تنازع: راہل گاندھی کی الیکشن کمیشن پر تنقید
کانگریس رہنما راہل گاندھی نے جمعہ کو الیکشن کمیشن کے اس فیصلے پر تنقید کی، جس کے تحت مغربی بنگال کے ضمنی انتخابات کے دوران ترنمول کانگریس کے دونوں دھڑوں کو پارٹی کا نام اور انتخابی نشان استعمال کرنے سے روک دیا گیا ہے۔ راہل گاندھی نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن عوام کے مینڈیٹ کی حفاظت کرنے کی اپنی آئینی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا۔ ان کے مطابق کمیشن ان قوتوں کی مدد کر رہا ہے جو عوام کے انتخابی فیصلے کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔
 
راہل گاندھی نے ’ایکس‘ پر ہندی میں ایک پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پہلے شیو سینا، پھر این سی پی اور اب ترنمول کانگریس کے معاملے میں ایک ہی طریقہ اپنایا گیا۔ ان کے الزام کے مطابق بی جے پی اور الیکشن کمیشن مل کر کسی سیاسی جماعت کو تقسیم کرتے ہیں اور پھر اس کا انتخابی نشان لے لیا جاتا ہے۔
 
راہل گاندھی نے کہا کہ اگر ایک پوری سیاسی جماعت کو ’چرایا‘ جا سکتا ہے تو پھر لاکھوں ہندوستانیوں کے ووٹ بھی ’چرائے‘ جا سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’ووٹ چوری، حکومت چوری، اب پارٹی چوری‘ جمہوری زوال کی علامت بن چکے ہیں۔ راہل گاندھی نے مزید کہا کہ یہ معاملہ صرف ممتا بنرجی کا نہیں ہے بلکہ ہر اس سیاسی جماعت اور ووٹر کا معاملہ ہے جو آزاد اور منصفانہ انتخابات چاہتا ہے۔
 
کانگریس نے جمعرات کو بھی الیکشن کمیشن کے فیصلے پر تنقید کی تھی۔ پارٹی نے الزام لگایا تھا کہ آل انڈیا ترنمول کانگریس کا نام اور انتخابی نشان منجمد کرنا کمیشن کی جانب سے اپنی آئینی ذمہ داری سے پیچھے ہٹنے کے برابر ہے۔ کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے اس فیصلے کو وزیر اعظم نریندر مودی کے لیے ’دیر رات کا سالگرہ کا تحفہ‘ بھی قرار دیا تھا۔

الیکشن کمیشن نے کیا فیصلہ کیا؟

الیکشن کمیشن نے جمعرات کی رات ممتا بنرجی اور اروپ رائے کی قیادت میں اے آئی ٹی سی کے دونوں دھڑوں کے نمائندوں کا مؤقف سننے کے بعد عبوری ہدایت جاری کی۔
 
کمیشن کے مطابق دونوں دھڑے خود کو پارٹی کی نمائندگی کا حقدار بتا رہے ہیں۔ اس لیے اس تنازعے پر ’الیکشن سمبلز (ریزرویشن اینڈ الاٹمنٹ) آرڈر، 1968‘ کے پیراگراف 15 کے تحت فیصلہ کرنے کی ضرورت ہے۔ کمیشن نے کہا کہ عبوری انتظام کا مقصد دونوں دھڑوں کو برابر سطح پر رکھنا اور ان کے حقوق و مفادات کا تحفظ کرنا ہے۔
 
یہ فیصلہ صرف موجودہ ضمنی انتخابات تک لاگو ہوگا، جب تک تنازعے پر حتمی فیصلہ نہیں ہو جاتا۔ الیکشن کمیشن کے مطابق اروپ رائے کی قیادت والے گروپ اور ممتا بنرجی کی قیادت والے گروپ میں سے کسی کو بھی ’آل انڈیا ترنمول کانگریس‘ نام استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔
 
دونوں دھڑوں سے کہا گیا ہے کہ وہ ضمنی انتخابات کے لیے اپنی پسند کے نام اور انتخابی نشانات الیکشن کمیشن کے پاس جمع کرائیں۔