Friday, September 18, 2026 | 04 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • سعودی عرب کے لیے امریکہ کا بڑا دفاعی معاہدہ، 48 ایف-35 طیارے شامل

سعودی عرب کے لیے امریکہ کا بڑا دفاعی معاہدہ، 48 ایف-35 طیارے شامل

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 18 Sept 2026

سعودی عرب کے لیے امریکہ کا بڑا دفاعی معاہدہ، 48 ایف-35 طیارے شامل
امریکہ نے سعودی عرب کو 48 ایف-35 لائٹننگ II طیارے فروخت کرنے کی ممکنہ منظوری دے دی ہے۔ اس دفاعی معاہدے کی مالیت تقریباً 24.3 ارب ڈالر ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ نے جمعرات کو اس منظوری کا اعلان کیا۔ اس کے بعد سعودی عرب کو یہ طیارے فروخت کرنے کے مجوزہ معاہدے کو آگے بڑھانے کا راستہ صاف ہوگیا ہے۔ اس پیکیج میں 48 ایف-35 طیاروں کے ساتھ '49 Pratt & Whitney F135-PW-100' انجن بھی شامل ہیں۔ ان میں سے 48 انجن طیاروں میں استعمال ہوں گے، جبکہ ایک انجن اضافی طور پر دیا جائے گا۔

24.3 ارب ڈالر کے معاہدے میں کیا شامل ہے؟

یہ معاہدہ صرف طیاروں اور انجنوں تک محدود نہیں ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، پیکیج میں محفوظ مواصلاتی نظام، درست سمت معلوم کرنے کے آلات اور خفیہ کاری کے آلات بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سعودی عرب کو الیکٹرانک جنگ سے متعلق معلومات اور نظام، طیاروں اور ہتھیاروں کے معاون آلات، اضافی پرزے، تربیتی سامان اور پرواز کی مشق کے لیے سمیلیٹرز بھی فراہم کیے جائیں گے۔ معاہدے میں طیاروں کو چلانے اور ان کی دیکھ بھال کے لیے ضروری سافٹ ویئر، تکنیکی دستاویزات اور رسد سے متعلق مدد بھی شامل ہے۔ اس مجوزہ فروخت کے لیے فورٹ ورتھ، ٹیکساس کی لاک ہیڈ مارٹن ایروناٹکس اور ایسٹ ہارٹ فورڈ، کنیکٹیکٹ کی 'Pratt & Whitney' ملٹری انجنز کو مرکزی ٹھیکیدار نامزد کیا گیا ہے۔

امریکہ کا کیا کہنا ہے؟

امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ فروخت کا مقصد امریکی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کے اہداف کو آگے بڑھانا ہے۔ امریکہ نے سعودی عرب کو نیٹو کا اہم غیر رکن اتحادی قرار دیتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت مضبوط ہونے سے خلیجی خطے میں سیاسی استحکام اور اقتصادی ترقی میں مدد مل سکتی ہے۔
 
محکمہ خارجہ کے مطابق، ایف-35 طیاروں سے سعودی عرب اپنی دفاعی صلاحیت بہتر کر سکے گا۔ اس کے علاوہ امریکی اور دیگر اتحادی افواج کے ساتھ مل کر کارروائی کرنے کی اس کی صلاحیت بھی بہتر ہوگی۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ فروخت سے خطے میں موجود عسکری توازن تبدیل نہیں ہوگا۔

سعودی عرب میں اضافی امریکی عملہ تعینات نہیں ہوگا

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، اس معاہدے پر عمل درآمد کے لیے سعودی عرب میں امریکی حکومت یا دفاعی کمپنیوں کے اضافی عملے کو تعینات کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ محکمے نے یہ بھی کہا کہ اسے فی الحال اس ممکنہ فروخت کے حوالے سے کسی آف سیٹ معاہدے کی معلومات نہیں ہیں۔ اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوتا ہے تو اسے سعودی عرب اور متعلقہ کمپنیوں کے درمیان الگ سے طے کیا جائے گا۔

سعودی عرب کے لیے ایف-35 طیارے کیوں اہم ہیں؟

اس مجوزہ معاہدے کے بعد سعودی عرب کے لیے ایف-35 لائٹننگ II جیسے جدید امریکی طیارے حاصل کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔ اس کے ساتھ طیاروں کے استعمال کے لیے ضروری نظام، تربیت اور تکنیکی مدد بھی فراہم کی جائے گی۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، اس معاہدے کا مقصد سعودی عرب کی دفاعی صلاحیت اور دشمن کو روکنے کی صلاحیت مضبوط کرنا ہے۔ یہ معاہدہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان پہلے سے موجود دفاعی تعلقات کا بھی حصہ ہے۔