Friday, October 02, 2026 | 18 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بہار: تالاب میں ڈوب کر چار لڑکیوں کی موت۔ لاشیں برآمد

بہار: تالاب میں ڈوب کر چار لڑکیوں کی موت۔ لاشیں برآمد

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Mohammed Imran Hussain | Last Updated: 02 Oct 2026

بہار: تالاب میں ڈوب کر چار لڑکیوں کی موت۔ لاشیں برآمد
 بہار کے مشرقی چمپارن ضلع میں تالاب میں ڈوب کرچار لڑکیوں کی موت ہوگئی۔ یہ واقعہ اناروابھر پنچایت کے بنکٹ گاؤں میں پیش آیا، جو پہاڑپور پولیس اسٹیشن کے  حدود میں آتا ہے۔مرنے والوں کی شناخت سوناوتی کماری (13) اور اس کی بہن پھولوتی کماری (10)، سونالی کماری (10) اور پرتیبھا کماری (12) کے طور پر ہوئی ہے۔
 
پولیس کے مطابق لڑکیاں بنکٹ گاؤں کی رہنے والی تھیں۔ وہ صبح 9.30 بجے کے قریب نہانے کے لیے تالاب میں گئی تھیں کہ ڈوب کر جان کی بازی ہار گئی۔ دوسری لڑکیوں نے گاؤں والوں کو واقعے کی اطلاع دی جس کے بعد پولیس اور انتظامیہ موقع پر پہنچے۔پہاڑپور کے سرکل آفیسر رامسورت پاسوان نے خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ "پانچ لڑکیاں گاؤں کے قریب تالاب میں نہانے کے لیے گئی تھیں۔ ان میں سے چار پانی میں داخل ہوئیں جبکہ ایک کنارے پر کھڑی رہی۔ چار لڑکیاں مبینہ طور پر گہرے پانی میں چلی گئیں اور ڈوب گئیں۔"
 
ان کی لاشیں نکال لی گئی ہیں اور پوسٹ مارٹم کے لیے موتیہاری صدر اسپتال بھیج دی گئی ہیں۔ پولیس واقعے کے سلسلے کا پتہ لگانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ واقعے کے بارے میں مزید معلومات حاصل کی جا سکیں۔ مشرقی چمپارن ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (ڈی ایم) سوربھ سمن کے حوالے سے بتایا کہ "ایک بار جب اس بات کی باقاعدہ تصدیق ہو جاتی ہے کہ موت ڈوبنے کی وجہ سے ہوئی ہے، تو ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ متوفی کے لواحقین کو مناسب معاوضہ فراہم کرے گا۔"
 
 والدین  اپنے  بچوں  کی  موت  بچوں کی طرح روتے  دیکھے گئے۔ پولیس نے اس واقعہ کا مقدمہ درج کر کے تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ بچوں کی موت کیسے ہوئی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بعد پتہ چلے گا۔ ضلع مجسٹریٹ سوربھ سمن نے اعلان کیا کہ حکومت متاثرہ خاندانوں کو امداد فراہم کرے گی۔
 
مہاراشٹر میں پکنک سانحہ میں بدل گئی
یہ واقعہ مہاراشٹر کے رائے گڑھ ضلع کے دیویاگر ساحل پر کالج کے آٹھ طالب علموں کی ڈوب کر ہلاک ہونے کے ایک دن بعد ہوا ہے۔ طلباء 48 افراد کے اس گروپ کا حصہ تھے، جو دیویاگر کے ساحل پر پکنک منانے گئے تھے۔وہ نہاتے ہوئے سمندر کی گہرائی کا اندازہ لگانے میں ناکام رہے جس کے نتیجے میں یہ سانحہ پیش آیا جس سے مقامی لوگوں میں خوف وہراس پھیل گیا۔ ان کی لاشیں نکال کر پوسٹ مارٹم کے لیے بھیج دی گئیں۔
 
شیو سینا کے ایم ایل اے مہندر دلوی، جو علی باغ اسمبلی حلقہ کی نمائندگی کرتے ہیں، نے اس واقعہ کو دل دہلا دینے والا قرار دیا اور انتظامیہ کی طرف سے "مناسب حفاظتی احتیاطی تدابیر" کو اس سانحہ کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا۔ انہوں نے کہا کہ طلباء کو سمندر میں جانے سے خبردار کیا جانا چاہئے تھا۔
 
دلوی نے کہا، "اسکول کے چھوٹے بچوں کو سمندر کے بارے میں کوئی علم نہیں ہے۔ یہ تالاب نہیں، سمندر ہے! وہ اونچی لہر یا پانی کی گہرائی کا اندازہ نہیں لگا سکتے۔ مزید یہ کہ یہ چھوٹے بچے تیرنا بھی نہیں جانتے ہوں گے،"۔