جموں و کشمیر کے پونچھ ضلع میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) پر دراندازی کی ایک کوشش کو مبینہ طور پر ناکام بنا دیا گیا جب کہ چار دہشت گردوں کو پاکستان سے ہندوستانی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران ہلاک کر دیا گیا۔ پاکستانی فوجیوں نے لاشیں نکال لیں، اور واقعات کا پورا سلسلہ کیمرے میں قید ہو گیا۔
دہشت گردوں نے بھارتی سرحد کے قریب آئی ای ڈی نصب کرنے کی کوشش کی۔ تقریباً 4:30 بجے، دہشت گردوں نے پاکستانی جانب سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کو عبور کرکے ہندوستانی علاقے میں گھسنے کی کوشش کی۔ ابتدائی اطلاعات سے پتہ چلتا ہے کہ دہشت گرد بھارتی سرحد کے قریب آئی ای ڈی نصب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کوشش کے دوران، ان کا سامنا ہندوستانی فوج کے اینٹی انفلٹریشن گرڈ سے ہوا، جس کے نتیجے میں چار دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
مبینہ طور پر یہ واقعہ شام 4.30 بجے کے قریب پیش آیا، جب مشتبہ دہشت گردوں نے ایل او سی کو عبور کرنے اور ہندوستانی سرحد کے قریب ایک دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) نصب کرنے کی کوشش کی۔ اس کوشش کے دوران، ان کا سامنا ہندوستانی فوج کے اینٹی انفلٹریشن گرڈ سے ہوا، جس کے نتیجے میں چار دہشت گردوں کی ہلاکت کی اطلاع ہے۔
کہا جاتا ہے کہ ہندوستانی طرف کا علاقہ کرشنا گھاٹی سیکٹر میں آتا ہے، جب کہ مشتبہ تحریک پاکستان کے زیر قبضہ جموں و کشمیر (پی او جے کے) میں ہجیرہ کے قریب بدر پور علاقے سے منسلک تھی۔ رپورٹس بتاتی ہیں کہ پاکستان آرمی کی 66 فرنٹیئر فورس اس خطے میں تعینات ہے۔ دہشت گرد پاکستانی فوج کی مدد یا کور سے بھارتی سائیڈ پر آئی ای ڈی نصب کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
فوٹیجز میں مشتبہ افراد نظر آ رہے ہیں۔
ابتدائی اطلاع کے مطابق، واقعے سے متعلق تصاویر اور ویڈیوز اعلیٰ فوجی حکام کی جانب سے جانچ کے لیے آرمی ہیڈ کوارٹر بھیج دی گئی ہیں۔فوٹیج میں مبینہ طور پر کئی مشکوک افراد کو روایتی "پٹھانی" سوٹ پہنے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ ان کے پاس پستول تھے اور وہ جنگل کے علاقے میں آئی ای ڈی لگانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ابتدائی تفصیلات میں چار سے چھ مشتبہ افراد کی موجودگی کی نشاندہی کی گئی ہے جن میں چار دہشت گردوں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ پاکستانی فوجیوں نے مرنے والوں کی لاشیں نکال کر ایل او سی کے پار واپس لے گئے۔ اس واقعے میں لشکر طیبہ کے ایک کمانڈر کے ملوث ہونے کا مزید الزام لگایا گیا ہے ، حالانکہ تفصیلات غیر تصدیق شدہ ہیں۔ مشتبہ دہشت گردوں کی شناخت، ملوث افراد کی صحیح تعداد اور واقعے کے ارد گرد کے حالات کی سرکاری طور پر تصدیق ہونا باقی ہے۔ ابھی تک ان ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں ہوئی ہے۔
دریں اثنا، جموں و کشمیر میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن مسلسل جاری ہے۔ سیکورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں، ہر نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دہشت گردوں کے ہینڈلرز مایوسی کا شکار ہیں، کیونکہ ان کے مذموم عزائم کو عملی جامہ نہیں پہنایا جا رہا۔اس سے قبل لشکر کے مقتول کمانڈر موسیٰ کے حوالے سے اہم انکشاف سامنے آیا تھا۔ معلوم ہوا کہ وہ جنگل میں چھپا ہوا تھا اور زخموں پر شہد لگا رہا تھا۔






