مرکزی حکومت نے ’ہندوستانی ہوائی جہاز ضوابط 2026‘ منظور کر لیے
ٹکٹوں کی قیمتوں میں شفافیت، مسافروں کی حفاظت اور پائلٹوں کے ڈیوٹی اوقات سے متعلق نئے قواعد متعارف
مرکزی حکومت نے شہری ہوابازی کے شعبے میں ایک بڑا فیصلہ کرتے ہوئے نئے اور جدید ضوابط کو منظوری دے دی ہے۔ ’ہندوستانی ہوائی جہاز ضوابط 2026‘ کے نام سے یہ نیا نظام یکم جنوری 2027 سے پورے ملک میں نافذ ہوگا۔ اس کے ساتھ ہی تقریباً 9 دہائیوں سے رائج ’ہوائی جہاز ضوابط 1937‘ کی جگہ نئے قوانین لے لیں گے۔ وزارتِ شہری ہوابازی کے مطابق نئے ضوابط کا مقصد بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی، پروازوں کی بڑھتی ہوئی تعداد اور جدید حفاظتی تقاضوں کے مطابق ہوابازی کے نظام کو بہتر بنانا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس سے مسافروں کی حفاظت، آپریشنل شفافیت اور عالمی معیار کے مطابق ضابطوں پر عمل درآمد کو مضبوط بنایا جائے گا۔
ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن اور حفاظت کے لیے نئے اصول
نئے ضوابط میں ہوابازی کے تقریباً تمام اہم شعبوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ان کے تحت ہوائی جہازوں کی رجسٹریشن، پرواز کے قابل ہونے کے سرٹیفکیٹ، طیاروں کے ڈیزائن اور تیاری کے معیارات، مرمت اور تبدیلیوں کی منظوری سے متعلق واضح قواعد بنائے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ ہوائی جہازوں کی پوری مدتِ استعمال کے دوران باقاعدہ معائنے اور دیکھ بھال کا نظام بھی مقرر کیا گیا ہے۔ ایئرلائنز اور طیارہ آپریٹرز کے لیے ضروری ہوگا کہ وہ طے شدہ وقفوں پر جہازوں کا معائنہ کرائیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا بیڑا ہر وقت محفوظ اور پرواز کے قابل رہے۔
پائلٹوں اور دیگر عملے کی لائسنسنگ کے قواعد سخت
نئے نظام میں پائلٹوں، طیاروں کی تیاری اور مرمت کرنے والے انجینئروں اور ایئر ٹریفک کنٹرولروں کے لیے اہلیت اور لائسنسنگ کی شرائط بھی واضح کی گئی ہیں۔ ان کے تحت تربیت، امتحانات، تجربے اور طبی فٹنس کے معیارات مقرر کیے گئے ہیں۔ اس کے ساتھ لائسنس کی تجدید، معطلی اور منسوخی کے لیے بھی قواعد وضع کیے گئے ہیں۔ پرواز کی منصوبہ بندی، حفاظتی چیک لسٹس اور معیاری طریقۂ کار پر بھی خصوصی توجہ دی گئی ہے۔ پائلٹوں اور کیبن عملے کے لیے ڈیوٹی اور آرام کے مقررہ اوقات پر عمل کرنا لازمی ہوگا، تاکہ تھکاوٹ کے باعث پیدا ہونے والے خطرات کو کم کیا جا سکے۔
ٹکٹ کی پوری قیمت اور اضافی چارجز بتانا ہوگا
نئے ضوابط میں مسافروں کے لیے ٹکٹنگ کے نظام میں بھی اہم تبدیلی کی گئی ہے۔ یکم جنوری 2027 سے ایئرلائنز کو ہر ٹکٹ کی مجموعی قیمت کے ساتھ اس کی مکمل تفصیل فراہم کرنا ہوگی۔ اس تفصیل میں بنیادی کرایہ، ٹیکس، مختلف فیسیں، ٹکٹ منسوخ کرنے کے چارجز اور رقم کی واپسی کی پالیسی واضح طور پر درج کرنا لازمی ہوگا۔ اس کا مقصد مسافروں کو ٹکٹ کی اصل قیمت سے آگاہ کرنا اور قیمتوں کے تعین میں شفافیت لانا ہے۔ حکومت کے مطابق ہوائی کرایوں کی نگرانی بدستور ڈائریکٹوریٹ جنرل آف سول ایوی ایشن (DGCA) کے دائرۂ اختیار میں رہے گی۔ یہ ادارہ مارکیٹ کی صورتحال اور حفاظتی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے نگرانی جاری رکھے گا۔
ایئرپورٹس کی سکیورٹی اور ہنگامی انتظامات پر بھی توجہ
نئے ضوابط میں ہوائی اڈوں کے لائسنس، بنیادی ڈھانچے، عملے کی ضروریات اور آپریشنل معیار سے متعلق بھی واضح ہدایات شامل کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ سکیورٹی، آگ بجھانے کے انتظامات اور ہنگامی حالات سے نمٹنے کی تیاری کو بھی لازمی تقاضوں میں شامل کیا گیا ہے۔ حکومت کے مطابق نئے ضوابط کا مقصد ملک کے شہری ہوابازی کے نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا اور مسافروں سے لے کر ہوائی جہازوں اور ہوائی اڈوں تک، ہر سطح پر حفاظت اور شفافیت کو بہتر بنانا ہے۔






