چائے کے ایک کپ کی ادائیگی ہو، سبزیاں خریدنی ہوں، آن لائن شاپنگ کرنی ہو، کسی دوست کو پیسے بھیجنے ہوں یا بجلی کا بل ادا کرنا ہو، اب یہ تمام کام موبائل فون کے ذریعے چند سیکنڈ میں کیے جا سکتے ہیں۔ دکان پر کیو آر کوڈ اسکین کرتے ہی ادائیگی مکمل ہو جاتی ہے۔ بھارت میں ڈیجیٹل ادائیگی کا یہ طریقہ اتنا عام ہو چکا ہے کہ بہت سے لوگ اب اپنے ساتھ نقد رقم رکھنا بھی ضروری نہیں سمجھتے۔ بھارت کے یونائیفائیڈ پیمنٹس انٹرفیس (UPI) کی مقبولیت اب دنیا بھر میں بڑھ رہی ہے۔ مرکزی وزیر خزانہ نرملا سیتارمن کے مطابق، یو پی آئی دنیا کا سب سے بڑا ریئل ٹائم ادائیگی کا نظام بن چکا ہے، جس کے ذریعے ہر ماہ 24 ارب سے زیادہ لین دین ہوتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار ملک میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کے بڑھتے ہوئے استعمال کو ظاہر کرتے ہیں۔
وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اتوار، 25 اکتوبر کو اڈیشہ کے شہر بھونیشور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے یو پی آئی کی کامیابی کا ذکر کیا۔ یہ تقریب ریزرو بینک آف انڈیا (RBI) کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سیکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کے افتتاح کے موقع پر منعقد ہوئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ یو پی آئی نے فوری ڈیجیٹل ادائیگیوں کو آسان بنا دیا ہے۔ اس کے ذریعے صارفین ایک بینک اکاؤنٹ سے دوسرے اکاؤنٹ میں رقم منتقل کرنے کے ساتھ دکان داروں اور تاجروں کو بھی آسانی سے ادائیگی کر سکتے ہیں۔
یو پی آئی کا آغاز 2016 میں ہوا تھا۔ ابتدا میں ڈیجیٹل ادائیگیوں کا استعمال محدود تھا، لیکن وقت کے ساتھ صارفین اور کاروباری اداروں نے اسے تیزی سے اپنایا۔ اب لوگ روزمرہ کی چھوٹی سے چھوٹی خریداری کے لیے بھی یو پی آئی کا استعمال کرتے ہیں۔حکومت کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2025-26 میں یو پی آئی کے ذریعے مجموعی طور پر 24,162 کروڑ لین دین ہوئے، جن کی کل مالیت تقریباً 314 لاکھ کروڑ روپے رہی۔ اس کے مقابلے میں، مالی سال 2016-17 میں صرف 1.78 کروڑ لین دین ریکارڈ کیے گئے تھے۔ جولائی 2026 میں یو پی آئی کے ذریعے 2,366 کروڑ لین دین ہوئے، جن کی مجموعی مالیت 29.88 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی۔ یہ اعداد و شمار گزشتہ برسوں کے دوران یو پی آئی کے استعمال میں ہونے والے نمایاں اضافے کو ظاہر کرتے ہیں۔
یو پی آئی کی مقبولیت کی سب سے بڑی وجہ اس کا آسان اور تیز طریقہ کار ہے۔ صارفین کو ہر بار بینک کی تفصیلات درج کرنے یا نقد رقم ساتھ رکھنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ کیو آر کوڈ اسکین کرکے یا وصول کنندہ کی یو پی آئی آئی ڈی اور موبائل نمبر کے ذریعے رقم بھیج سکتے ہیں۔ اس نظام سے چھوٹے دکان داروں اور کاروباری افراد کو بھی فائدہ پہنچا ہے۔ انہیں ادائیگی کے لیے چھوٹے نوٹوں اور سکوں کا انتظام نہیں کرنا پڑتا، جبکہ رقم براہ راست ان کے بینک اکاؤنٹ میں جمع ہو جاتی ہے۔
یو پی آئی اب صرف بھارت تک محدود نہیں رہا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق، یہ متحدہ عرب امارات، فرانس، بھوٹان، سری لنکا، نیپال، سنگاپور، ماریشس، قطر، کمبوڈیا، یونان اور مالدیپ سمیت 11 ممالک میں دستیاب ہے۔ یو پی آئی کے بڑھتے ہوئے استعمال نے ڈیجیٹل ادائیگیوں کو عام لوگوں کی روزمرہ زندگی کا حصہ بنا دیا ہے۔ اس نظام نے نہ صرف رقم کی منتقلی اور ادائیگی کو آسان بنایا ہے، بلکہ کاروبار اور مالی لین دین کے طریقوں میں بھی نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے۔







