Friday, October 09, 2026 | 26 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • سیاست
  • »
  • ووٹ چوری کے الزامات پر انڈیا اتحاد کی آج اہم میٹنگ، مزید احتجاج کی حکمت عملی پر غور

ووٹ چوری کے الزامات پر انڈیا اتحاد کی آج اہم میٹنگ، مزید احتجاج کی حکمت عملی پر غور

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 09 Oct 2026

ووٹ چوری کے الزامات پر انڈیا اتحاد کی آج اہم میٹنگ، مزید احتجاج کی حکمت عملی پر غور
الیکشن کمیشن کے خلاف اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کے درمیان انڈیا اتحاد کے ارکانِ پارلیمنٹ آج دہلی کے سمودھان سدن میں اہم میٹنگ کریں گے۔ ذرائع کے مطابق، میٹنگ سہ پہر 3 بجے سینٹرل ہال میں منعقد ہوگی۔ اس میں انتخابی عمل، ووٹر لسٹوں پر نظرثانی اور مبینہ ’ووٹ چوری‘ کے الزامات کے معاملے پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ آئندہ احتجاجی پروگرام اور حکومت و الیکشن کمیشن کے سامنے اپنے مطالبات رکھنے کے طریقوں پر بھی غور متوقع ہے۔ اپوزیشن جماعتیں گزشتہ کچھ عرصے سے انتخابی عمل اور ووٹر لسٹوں میں تبدیلیوں کے حوالے سے اپنے اعتراضات اٹھا رہی ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ ووٹر لسٹوں پر نظرثانی کے عمل میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں، جن کی وضاحت ضروری ہے۔ اپوزیشن رہنما اس معاملے پر چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں۔ تاہم، ان الزامات اور اعتراضات پر متعلقہ حکام کا موقف بھی اہم ہے۔
 
اطلاعات کے مطابق، انڈیا اتحاد نے صدر جمہوریہ دروپدی مرمو سے ملاقات کے لیے وقت مانگا ہے۔ اپوزیشن جماعتیں انتخابی عمل سے متعلق اپنے خدشات اور مطالبات صدر جمہوریہ کے سامنے رکھنا چاہتی ہیں۔ اگر ملاقات کے لیے وقت نہیں ملتا تو اتحاد کے رہنما احتجاج کے دوسرے طریقوں پر غور کر سکتے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ احتجاجی مقامات میں سیوا تیرتھ، راشٹرپتی بھون، نائب صدر جمہوریہ کی رہائش گاہ اور وزیر اعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کی رہائش گاہیں بھی زیرِ غور آ سکتی ہیں۔ تاہم، ان مقامات پر احتجاج کیا جائے گا یا نہیں، اس بارے میں ابھی حتمی فیصلہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اس معاملے میں آج کی میٹنگ کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
 
چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے خلاف جاری احتجاج کے پیش نظر نئی دہلی میں الیکشن کمیشن کے ہیڈکوارٹر کے اطراف سیکیورٹی انتظامات سخت کر دیے گئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق، علاقے میں اضافی سیکیورٹی اہلکار تعینات کیے گئے ہیں اور ممکنہ احتجاج کے پیش نظر صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔ انڈیا اتحاد کی میٹنگ میں آئندہ احتجاجی پروگرام، صدر جمہوریہ سے ملاقات اور انتخابی عمل سے متعلق شکایات کو آگے بڑھانے کی حکمت عملی پر بات ہو سکتی ہے۔ اپوزیشن جماعتیں چاہتی ہیں کہ ووٹر لسٹوں اور انتخابی عمل سے متعلق ان کے اعتراضات پر وضاحت دی جائے۔ دوسری جانب، آج کی میٹنگ کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ اتحاد آئندہ دنوں میں کس نوعیت کا احتجاجی لائحہ عمل اختیار کرتا ہے۔