Wednesday, September 16, 2026 | 02 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • بھارت نے پاکستانی نمائندے کو کیا طلب، بحری جہاز کے رویے پر شدید احتجاج

بھارت نے پاکستانی نمائندے کو کیا طلب، بحری جہاز کے رویے پر شدید احتجاج

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 16 Sept 2026

بھارت نے پاکستانی نمائندے کو کیا طلب، بحری جہاز کے رویے پر شدید احتجاج
بھارت اور پاکستان کے درمیان سمندری حدود میں پیش آنے والے ایک واقعے کے بعد نئی دہلی نے پاکستانی سفارتی نمائندے کو طلب کرکے سخت احتجاج درج کرایا ہے۔ وزارتِ خارجہ نے نئی دہلی میں پاکستان ہائی کمیشن کے (Chargé d'Affaires) کو طلب کیا اور بھارتی بحریہ کے ایک جنگی جہاز کے ساتھ پیش آنے والے تصادم پر اپنا اعتراض ریکارڈ کرایا۔
 
بھارتی وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ واقعہ بین الاقوامی پانیوں میں پیش آیا، تاہم اس میں کسی بڑے نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔ بھارت کا الزام ہے کہ پاکستانی بحریہ کے جہاز نے انتہائی غیر پیشہ ورانہ انداز میں بھارتی بحریہ کے ایک یونٹ کے قریب آکر خطرناک طریقے سے نقل و حرکت کی، جس کے نتیجے میں دونوں جہازوں کے درمیان تصادم ہوا۔
 
بھارتی حکام نے پاکستانی بحریہ کے جہاز کے رویے کو 1991 میں بھارت اور پاکستان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کی شق 10 کی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ اس معاہدے میں دونوں ممالک کی فوجی مشقوں، فوجی نقل و حرکت اور مختلف فوجی ہتھکنڈوں یا Maneuvers سے متعلق پیشگی اطلاع اور احتیاطی اقدامات کا ذکر کیا گیا ہے۔ بھارت کی جانب سے کہا گیا ہے کہ بین الاقوامی پانیوں میں فوجی جہازوں کی نقل و حرکت کے دوران دونوں ممالک کو موجودہ دوطرفہ معاہدوں اور طے شدہ اصولوں کی پابندی کرنی چاہیے، تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
 
پاکستانی ناظم الامور کو طلب کیے جانے کے دوران بھارتی حکام نے ان سے کہا کہ وہ اس معاملے کو متعلقہ پاکستانی حکام تک پہنچائیں۔ بھارت نے خاص طور پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے واقعات کی تکرار روکنے کے لیے دونوں ممالک کی فوجی یونٹس کو سمندر میں انتہائی احتیاط کے ساتھ کام کرنا چاہیے۔ بھارتی حکام نے یہ بھی کہا کہ موجودہ دوطرفہ معاہدوں میں طے شدہ شقوں اور اصولوں کی مکمل پاسداری کی جائے، تاکہ دونوں ممالک کی افواج کے درمیان کسی غیر ضروری تصادم کا خطرہ کم کیا جا سکے۔
 
بھارتی بیان کے مطابق یہ واقعہ 15 ستمبر کی شام شمالی بحیرہ عرب میں پیش آیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ پاکستانی بحریہ کا ایک جہاز معمول کی نگرانی کے مشن پر موجود بھارتی بحریہ کے ایک فرنٹ لائن جنگی جہاز کے قریب تیز رفتاری سے آیا۔ بھارت کے مطابق پاکستانی جہاز کی اس نقل و حرکت کے باعث دونوں بحری جہازوں کے درمیان تصادم ہوا۔ تاہم، ابتدائی معلومات کے مطابق اس واقعے میں کسی جانی نقصان یا بڑے مالی نقصان کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ واقعے کے بعد بھارت کی جانب سے سفارتی سطح پر احتجاج درج کرایا گیا ہے اور پاکستان سے مستقبل میں ایسے واقعات سے بچنے کے لیے احتیاط برتنے اور دوطرفہ معاہدوں کی پابندی کرنے پر زور دیا گیا ہے۔