Saturday, September 19, 2026 | 05 ربيع الآخر 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر میں بدعنوانی کے 52 مقدمات، 35 رشوت کے ٹریپ کیسز

جموں و کشمیر میں بدعنوانی کے 52 مقدمات، 35 رشوت کے ٹریپ کیسز

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Afreen Begum | Last Updated: 18 Sept 2026

جموں و کشمیر میں بدعنوانی کے 52 مقدمات، 35 رشوت کے ٹریپ کیسز
جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (ACB) نے ستمبر 2026 تک پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں بدعنوانی کے 52 مقدمات درج کیے ہیں۔ ان میں سے 35 مقدمات رشوت طلب کرنے یا لینے کے الزام میں کیے گئے ٹریپ آپریشنز سے متعلق ہیں، یعنی ملزمان کو مبینہ رشوت لیتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑنے کی کاروائی کی گئی۔
 
اے سی بی کے 2026 کے ریکارڈ کے مطابق، اس سال اب تک درج کل مقدمات میں تقریباً 67 فیصد ٹریپ کیسز ہیں۔ یعنی بدعنوانی کے ہر تین مقدمات میں سے تقریباً دو مقدمات براہِ راست رشوت ستانی سے متعلق ہیں۔ یہ 52 مقدمات جموں و کشمیر کے مختلف اضلاع میں درج کیے گئے ہیں۔ ان میں رشوت ستانی، آمدنی سے زائد اثاثے، اراضی کے ریکارڈ میں غیر قانونی تبدیلی، سرکاری عہدے کے غلط استعمال، مالی بے ضابطگی، غیر قانونی تقرری اور مبینہ تجاوزات جیسے الزامات شامل ہیں۔ جموں میں 31 مقدمات درج ہوئے، جن میں 20 ٹریپ کیسز ہیں۔ کشمیر میں 21 مقدمات درج ہوئے، جن میں 15 ٹریپ کیسز شامل ہیں۔

کن محکموں کے اہلکاروں پر الزامات ہیں؟

اے سی بی کے ٹریپ کیسز میں ریونیو محکمے کے اہلکار، خاص طور پر پٹواری، کئی مرتبہ سامنے آئے ہیں۔ ان پر اراضی کے ریکارڈ میں تبدیلی، سرکاری دستاویزات حاصل کرنے اور دیگر کاموں کے بدلے رشوت طلب کرنے کے الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ پولیس اہلکار، جونیئر انجینئرز، میونسپل اداروں کے اہلکار، محکمہ جنگلات کے ملازمین، خزانے کے عملے اور دیگر سرکاری اہلکار بھی ان مقدمات میں شامل ہیں۔

جموں کے اضلاع میں صورتحال

راجوری میں اے سی بی نے چھ مقدمات درج کیے اور یہ تمام چھ ٹریپ کیسز ہیں۔ ادھم پور میں سات مقدمات درج ہوئے، جن میں چھ ٹریپ کیسز شامل ہیں۔ اے سی بی جموں پولیس اسٹیشن میں پانچ مقدمات درج ہوئے، جن میں چار ٹریپ کیسز ہیں۔ اے سی بی سینٹرل پولیس اسٹیشن میں 11 مقدمات درج ہوئے، جن میں چار ٹریپ کیسز شامل ہیں۔ ڈوڈہ میں دو مقدمات درج ہوئے، لیکن ان میں کوئی بھی ٹریپ کیس نہیں ہے۔

کشمیر میں کہاں کتنے مقدمات؟

سری نگر میں 13 مقدمات درج ہوئے، جن میں نو ٹریپ کیسز ہیں۔ اننت ناگ میں چھ مقدمات درج ہوئے، جن میں پانچ ٹریپ کیسز شامل ہیں۔ بارہمولہ میں دو مقدمات درج ہوئے، جن میں ایک ٹریپ کیس ہے۔

رشوت کی رقم کتنی تھی؟

اے سی بی کے مقدمات میں مبینہ رشوت کی رقم 2 ہزار روپے سے لے کر ایک لاکھ روپے تک ہے۔ ریکارڈ میں 5 ہزار، 8 ہزار، 10 ہزار، 12 ہزار، 15 ہزار، 20 ہزار، 30 ہزار، 40 ہزار اور 70 ہزار روپے کی مبینہ رشوت کے مقدمات بھی شامل ہیں۔ سب سے زیادہ ایک لاکھ روپے کی مبینہ رشوت کا مقدمہ 21 مئی کو اننت ناگ میں درج کیا گیا۔ یہ مقدمہ محکمہ آبپاشی کے ایک ضلع دار اور ایک پٹواری کے خلاف درج ہوا۔ دونوں پر ایک لاکھ روپے رشوت مانگنے اور لینے کا الزام ہے۔ ایک دوسرے معاملے میں پٹوار حلقہ گول کے ایک پٹواری اور اس کے مبینہ ساتھی پر 70 ہزار روپے رشوت لینے کا الزام لگایا گیا۔ اے سی بی نے اس معاملے میں ٹریپ کاروائی کی۔

ستمبر میں بھی ٹریپ کیسز جاری رہے

ستمبر 2026 میں بھی اے سی بی نے کئی مقدمات درج کیے۔ یکم ستمبر کو سری نگر میں 15 ہزار روپے کی مبینہ رشوت کے الزام میں ٹریپ کیس درج کیا گیا۔ 7 ستمبر کو 11 ہزار روپے کی مبینہ رشوت کا مقدمہ درج ہوا۔ 9 ستمبر کو راجوری میں 20 ہزار روپے کی مبینہ رشوت کا مقدمہ سامنے آیا۔

2025 کے مقابلے میں صورتحال

سال 2025 میں اے سی بی نے بدعنوانی کے 78 مقدمات درج کیے تھے۔ ان میں 36 ٹریپ کیسز، 18 آمدنی سے زائد اثاثوں کے مقدمات، 15 سرکاری عہدے کے غلط استعمال کے مقدمات، آٹھ (custodian land) کی مبینہ دھوکہ دہی سے منتقلی کے مقدمات اور ایک غیر قانونی تقرری کا مقدمہ شامل تھا۔ ستمبر 2026 تک اے سی بی 35 ٹریپ کیسز درج کر چکا ہے، جو پورے سال 2025 کے 36 ٹریپ کیسز سے صرف ایک کم ہیں۔ 2025 پورے سال کا اعداد و شمار ہے، جبکہ 2026 کے یہ اعداد و شمار صرف ستمبر تک کے ہیں۔ اس لیے سال کے اختتام تک 2026 کی تعداد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

اے سی بی کے مقدمات صرف رشوت تک محدود نہیں

2026 کے مقدمات سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ اے سی بی صرف رشوت کے معاملات کی تحقیقات نہیں کر رہا۔ اس کے ریکارڈ میں آمدنی سے زائد اثاثے، اراضی کے ریکارڈ میں غیر قانونی تبدیلی، سرکاری عہدے کا غلط استعمال، ترقیاتی کاموں میں مالی بے ضابطگیاں، غیر قانونی تقرریاں اور مبینہ تجاوزات کے مقدمات بھی شامل ہیں۔

ٹریپ کیس کیا ہوتا ہے؟

ٹریپ کیس اس وقت شروع ہوتا ہے جب کسی سرکاری ملازم کے خلاف رشوت مانگنے کی شکایت ملتی ہے۔ شکایت کی تصدیق کے بعد اے سی بی ایک کاروائی کرتی ہے، جس میں مبینہ رشوت لینے والے اہلکار کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس کاروائی کو ٹریپ آپریشن کہا جاتا ہے۔ کاروائی کے بعد ملزم کو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور معاملے کی مزید تفتیش کی جاتی ہے۔