ایشیائی کھیلوں میں رہائش کے بحران پر تشویش کے پیشِ نظر، وزارتِ کھیل نے یہاں مقیم ہندوستانی برادری سے رابطہ کیا ہے تاکہ کھلاڑیوں کی رہائش کے سلسلے میں مدد حاصل کی جا سکے؛ یہ اقدام اس خدشے کے تحت اٹھایا گیا ہے کہ ہفتے کے روز شروع ہونے والے اس بڑے براعظمی مقابلے کے دوران کمروں کی کمی کا مسئلہ حل نہ ہو سکا۔
کھلاڑیوں کی شکایت کی
ہندوستان سمیت کئی کھلاڑیوں نے رہائش کی فراہمی میں تاخیر کی شکایت کی ہے۔ اخراجات بچانے کی خاطر کھلاڑیوں کے لیے کوئی مخصوص 'ایتھلیٹس ولیج' (کھلاڑیوں کی بستی) نہیں بنایا گیا، جس کے باعث رہائش کا انتظام کنٹینر نما جھونپڑیوں، لنگر انداز کروز شپ اور کچھ ہوٹلوں میں بکھرا ہوا ہے۔
ہندوستان کے 'شیف ڈی مشن' (وفد کے سربراہ) سہدیو یادو نے جمعہ کو انکشاف کیا کہ منتظمین کی جانب سے مختص رہائش نہ ملنے کے بعد تقریباً 35 ہندوستانی کھلاڑیوں کو ہوٹلوں میں منتقل کرنا پڑا۔ چونکہ مقابلوں کے شیڈول کے مطابق مزید کھلاڑیوں کی یہاں آمد متوقع ہے، اس لیے صورتحال مزید سنگین ہو سکتی ہے۔
حکومت کی حکمت عملی
مرکزی وزارت کھیل ایشیائی کھیلوں کے لیے جاپان کے ناگویا میں پہنچنے والے ہندوستانی کھلاڑیوں کو درپیش رہائش کے مسائل پر قابو پانے کے لیے ایک ٹھوس منصوبہ تیار کر رہاہے۔ اس کے ایک حصے کے طور پر اس نے تین جہتی حکمت عملی تیار کی ہے۔ ناگویا میں رہنے والے تقریباً 2000 این آر آئی بھی اس منصوبے میں شامل ہوئے ہیں تاکہ ہنگامی صورت حال میں ہندوستانی کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو پناہ فراہم کی جا سکے۔
کھلاڑیوں کو رہائش کا مسئلہ
تفصیلات کے مطابق، ہندوستان کی وزارت کھیل، اسپورٹس اتھارٹی آف انڈیا (ایس اے آئی)، شیف ڈی مشن اور ناگویا میں این آر آئیز مشترکہ طور پر اس پروگرام کی نگرانی کر رہے ہیں۔ یہ اقدامات ناگویا پہنچنے کے بعد کچھ ہندوستانی ایتھلیٹس کو رہائش کے مسائل کا سامنا کرنے کے پیش نظر اٹھائے گئے ہیں تاکہ مستقبل میں اس طرح کے مسائل کا اعادہ نہ ہو۔
سہ رخی حکمت عملی
اس سہ رخی حکمت عملی کے ایک حصے کے طور پر، پہلے درجے میں، ائیرپورٹ پر عملے کے دو ارکان کو دستیاب کرایا گیا ہے۔ وہ ہندوستان سے آنے والے کھلاڑیوں اور آفیشلز کی نقل و حرکت کو مربوط کریں گے۔ دوسرے درجے میں ایتھلیٹ ویلکم سنٹر میں عملہ کے تین ارکان ہوں گے۔ وہ کھلاڑیوں کی رہائش اور دیگر انتظامات میں مدد کریں گے۔
2ہزار این آر آئیز سےرابطہ
تیسرا مرحلہ سب سے اہم ہے۔ اس کے ایک حصے کے طور پر، ناگویا میں تقریباً 2000 این آر آئیز کے ساتھ ایک سپورٹ نیٹ ورک قائم کیا گیا ہے۔ رہائش سے متعلق کسی بھی سنگین مسئلہ کی صورت میں ہندوستانی کھلاڑیوں اور عہدیداروں کو ان این آر آئیز کے گھروں میں عارضی پناہ دی جائے گی۔ اس پلان کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ہوائی اڈے سے لے کر رہائش کے مرکز تک کہیں بھی کوئی پریشانی نہ ہو۔ عہدیداروں نے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ کھلاڑیوں کو رہائش کے مسائل سے پریشان نہ ہوں اور وہ اپنے کھیلوں پر پوری توجہ دے سکیں۔
کھلاڑیوں کو سڑکوں پر انتظار کرنا پڑا
ایشین گیمز میں میڈلز کی تلاش میں جانے والے بھارتی نشانے بازوں کا مشکلات سے استقبال کیا گیا۔ ہمارے شوٹرز نے جس دن جاپان میں قدم رکھا اس دن آمدورفت میں تاخیر کی وجہ سے سڑکوں پر انتظار کیا۔اطلاعات کے مطابق مزید یہ کہ سہولیات کی کمی اور ٹریننگ میں رکاوٹ ہندوستانی ٹیم کے لیے چیلنجز ہیں۔
شوٹرز کی ہندوستانی ٹیم 15 ستمبر کو 18ویں ایشیائی کھیلوں کے لیے جاپان روانہ ہوئی تھی۔ رات 11 بجے کسٹم کلیئرنس ملنے کے بعد وہ ایکریڈیٹیشن سینٹر پہنچے۔ وہاں پندرہ منٹ انتظار کرنے کے بعد بس آ گئی اور انہوں نے سوچا کہ اگلا مرحلہ ایشین گیمز کے شہر ناگویا جانا ہے۔ لیکن حیرت انگیز طور پر سفری سہولیات کی کمی کی وجہ سے اولمپک چیمپئن مانو بھاکر اور کامن ویلتھ چیمپئن ایشا سنگھ سمیت 35 بھارتی شوٹرز کی ٹیم سڑکوں پر انتظار کرتی رہی۔
صرف سات کمرے
وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گئے کہ اتنے لوگوں کو صرف سات کمرے دیے گئے۔ ہندوستانی اولمپک ایسوسی ایشن نے، جس کو اس بات کا علم ہوا، نے فوری ردعمل ظاہر کیا۔ آئی او اے نے نشانہ بازوں کی سہولت کے لیے 400 میٹر دور 18 کمرے بک کرائے تھے۔ بھارتی نشانے باز جو اس بات پر خوش تھے کہ یہ مسئلہ حل ہو گیا ہے، انہیں تربیتی مرکز جانے میں رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں صبح 7 بجے بس میں سوار ہونا تھا اور 8:20 بجے ٹریننگ سینٹر پہنچنا تھا۔
مہمان نوازی کہاں ہے
لیکن، چونکہ صرف ایک بس کا انتظام کیا گیا تھا، اس لیے سب ایک ہی وقت میں نہیں جا سکتے تھے۔ کوچ اور کچھ شوٹر قطار میں گھنٹوں انتظار کرتے رہے جب تک کہ اگلی بس نہیں آتی۔ اس طرح.. ناگویا میں رہائش کی سہولت سے لے کر پریکٹس کے لیے بھی انتظار کرنا پڑنے کی صورت حال تک، کھلاڑی غیر متوقع صورتحال سے پریشان ہیں کہ مہمان نوازی کہاں ہے۔






