جموں و کشمیر کے ضلع بڈگام میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں لشکر طیبہ سے وابستہ ایک اہم دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔ حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا دہشت گرد کئی سالوں سے جموں و کشمیر میں مختلف دہشت گردانہ سرگرمیوں اور حملوں کے سلسلے میں مطلوب تھا۔ سکیورٹی حکام نے اس کی شناخت سلیمان شاہ عرف موسیٰ کے طور پر کی ہے، فوج کی چنار کور نے اپنی ابتدائی اطلاع میں ہلاک دہشت گرد کی شناخت باضابطہ طور پر ظاہر نہیں کی۔ بعض رپورٹس میں اسے فوزی موسیٰ کے نام سے بھی شناخت کیا گیا ہے، چنار کور کی جانب سے اس نام کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔
یہ جھڑپ منگل کی رات وسطی کشمیر کے بڈگام ضلع کے بالائی علاقے یوسمرگ کے کورگ علاقے میں شروع ہوئی۔ سکیورٹی فورسز کو علاقے میں دہشت گردوں کی موجودگی سے متعلق مخصوص خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد فوج، جموں و کشمیر پولیس اور سینٹرل ریزرو پولیس فورس (CRPF) نے مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا۔
فوج کے مطابق، تلاشی کے دوران سکیورٹی اہلکاروں نے کچھ مشکوک سرگرمی دیکھی۔ اہلکاروں نے وہاں موجود مشتبہ افراد کو للکارا تو دوسری جانب سے فائرنگ شروع کر دی گئی۔ اس کے بعد سکیورٹی فورسز نے جوابی کاروائی کی اور دونوں جانب سے شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ جھڑپ کے دوران ایک دہشت گرد ہلاک ہو گیا۔
فوج کی چنار کور نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس کے ذریعے بتایا کہ مخصوص خفیہ معلومات کی بنیاد پر کورگ، یوسمرگ کے عمومی علاقے میں مشترکہ تلاشی آپریشن شروع کیا گیا تھا۔ کاروائی کے دوران مشکوک سرگرمی سامنے آنے کے بعد سکیورٹی اہلکاروں نے علاقے میں موجود افراد کو چیلنج کیا، جس کے جواب میں فائرنگ کی گئی۔ اس کے بعد جھڑپ ہوئی اور ایک دہشت گرد مارا گیا۔
آپریشن کے دوران علاقے میں مزید سکیورٹی فورسز کو بھی تعینات کیا گیا۔ بڈگام کے بالائی علاقے میں موجود گھنے جنگلات اور دشوار گزار پہاڑی خطے کے باعث سکیورٹی فورسز نے تلاشی کا دائرہ بڑھایا۔ حکام کے مطابق علاقے میں مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کے پیش نظر سرچ آپریشن جاری رکھا گیا۔ بعض رپورٹس کے مطابق سکیورٹی فورسز نے علاقے میں موجود مزید دہشت گردوں کو تلاش کرنے کے لیے رات بھر آپریشن جاری رکھنے کی تیاری کی تھی۔
موسیٰ کئی حملوں میں مطلوب تھا
حکام کے مطابق سلیمان شاہ عرف موسیٰ پیر پنجال کے دونوں جانب گزشتہ کئی عرصے کے دوران ہونے والی متعدد دہشت گردانہ سرگرمیوں اور حملوں کے سلسلے میں سکیورٹی فورسز کو مطلوب تھا۔ بتایا گیا ہے کہ وہ اس ماہ کے آغاز میں یوسمرگ کی پہاڑیوں میں ہونے والی ایک جھڑپ کے دوران سکیورٹی حصار سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا تھا۔
موسیٰ کے قریبی ساتھی یاسر کو 5 ستمبر کو اسی علاقے میں ہونے والی جھڑپ کے دوران ہلاک کر دیا گیا تھا۔ یاسر کو جموں و کشمیر پولیس نے لشکر طیبہ سے وابستہ پاکستانی شہری قرار دیا تھا۔ پولیس اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق یاسر بڈگام کے یوسمرگ کے بالائی علاقے میں ہونے والے ایک مشترکہ آپریشن کے دوران ہلاک ہوا تھا۔
یاسر کی ہلاکت کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کی تلاش بھی تیز کر دی تھی۔ رپورٹس کے مطابق یاسر سلیمان موسیٰ کی قیادت والے لشکر طیبہ کے گروپ کا حصہ تھا۔ سکیورٹی فورسز نے یاسر کی ہلاکت کے وقت ایک یا دو دیگر دہشت گردوں کی تلاش بھی جاری رکھی تھی، جن کے جنگلاتی علاقے میں چھپے ہونے کا امکان تھا۔
یاسر کی ہلاکت کا آپریشن
5 ستمبر کو بڈگام کے بالائی علاقے یوسمرگ میں سکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کی موجودگی کی اطلاع پر مشترکہ سرچ آپریشن شروع کیا تھا۔ اس کاروائی میں فوج کی اسپیشل فورسز اور 53 راشٹریہ رائفلز سمیت دیگر سکیورٹی فورسز شامل تھیں۔ آپریشن کے دوران ڈرونز اور دیگر نگرانی کے آلات بھی استعمال کیے گئے تاکہ جنگلاتی اور پہاڑی علاقے میں دہشت گردوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا سکے۔
تلاشی کے دوران سکیورٹی فورسز کا دہشت گردوں سے سامنا ہوا اور فائرنگ کا تبادلہ شروع ہو گیا۔ کاروائی کے دوسرے دن یاسر ہلاک ہوا۔ جموں و کشمیر پولیس نے بعد میں اس کی شناخت ایک پاکستانی شہری اور لشکر طیبہ سے وابستہ دہشت گرد کے طور پر کی۔
رپورٹس کے مطابق، یاسر گزشتہ چند سالوں کے دوران سکیورٹی فورسز اور شہریوں پر ہونے والے متعدد حملوں میں ملوث تھا۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق اس نے کم از کم پانچ حملوں کی منصوبہ بندی یا ان پر عمل درآمد میں کردار ادا کیا تھا، جن میں فوج کے 12 اہلکار، ایک بھارتی فضائیہ کا اہلکار اور 9 شہری ہلاک ہوئے تھے۔ ان حملوں میں 4 مئی 2024 کو پونچھ میں بھارتی فضائیہ کے قافلے پر حملہ بھی شامل تھا، جس میں ایک فضائیہ اہلکار ہلاک اور چار زخمی ہوئے تھے۔
موسیٰ کی ہلاکت سے متعلق حکام کا کہنا ہے کہ یہ کاروائی جموں و کشمیر میں سرگرم لشکر طیبہ کے نیٹ ورک کے خلاف اہم پیش رفت ہے۔ بعض حکام نے اسے جموں و کشمیر میں لشکر طیبہ کی سرگرمیوں کے لیے بڑا دھچکا قرار دیا ہے۔ آپریشن کے دوران مزید تلاشی جاری رہنے کی وجہ سے سکیورٹی فورسز کی جانب سے مکمل تفصیلات بعد میں سامنے آنے کی توقع ہے۔
سکیورٹی فورسز نے علاقے میں نگرانی مزید بڑھا دی ہے اور جنگلاتی علاقے میں سرچ آپریشن جاری رکھا گیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ کاروائی کا مقصد علاقے میں موجود دیگر دہشت گردوں کا سراغ لگانا اور کسی بھی ممکنہ خطرے کو ختم کرنا ہے۔ آپریشن کے دوران مزید دہشت گردوں کی موجودگی کے امکان کے پیش نظر علاقے کی ناکہ بندی اور تلاشی جاری رکھی گئی۔
بڈگام اور یوسمرگ کے بالائی علاقے دشوار گزار پہاڑی اور گھنے جنگلات پر مشتمل ہیں، جس کی وجہ سے سکیورٹی آپریشن میں فورسز کو مشکل جغرافیائی حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے کاروائی کے دوران اضافی فورسز کی تعیناتی، ڈرونز کے ذریعے نگرانی اور علاقے کی مسلسل تلاشی پر توجہ دی جاتی ہے۔
تازہ کاروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے میں تلاشی کا عمل جاری رکھا ہوا ہے، جبکہ حکام مزید تفصیلات سامنے آنے کے بعد ہلاک دہشت گرد کی شناخت اور اس کی سرگرمیوں سے متعلق مزید معلومات فراہم کر سکتے ہیں۔ فی الحال چنار کور نے ہلاک دہشت گرد کا نام باضابطہ طور پر جاری نہیں کیا، جبکہ سکیورٹی حکام کی جانب سے اس کی شناخت سلیمان شاہ عرف موسیٰ کے طور پر کی گئی ہے۔







