اترپردیش کے میرٹھ میں امت کشیپ قتل کیس میں عدالت نے مقتول کی بیوی رویتا اور اس کے عاشق امر دیپ کو سزائے موت سنائی ہے۔ دونوں کو 7 اکتوبر کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا تھا۔ اپریل 2025 میں امت کی موت کو ابتدا میں سانپ کے ڈسنے کا واقعہ سمجھا گیا، لیکن پوسٹ مارٹم رپورٹ میں انکشاف ہوا کہ اس کی موت دم گھٹنے سے ہوئی تھی۔ پولیس کی تحقیقات کے مطابق، رویتا اور امر دیپ نے مل کر امت کو قتل کرنے کی سازش رچی تھی۔ تقریباً 17 ماہ تک چلے مقدمے کے بعد عدالت نے دونوں کو سزائے موت سنائی۔
میرٹھ میں ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج-12 کی عدالت میں سزا سنانے کے دوران سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔ دونوں مجرم ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے عدالت میں پیش ہوئے۔ امت کی والدہ منیش اور اس کا بھائی بھی عدالت میں موجود تھے۔ سزا کے تعین پر بحث کے دوران استغاثہ نے دونوں کے لیے سزائے موت کا مطالبہ کیا اور اس کیس کا موازنہ مسکان اور ساحل قتل کیس سے کیا، جس میں بیوی پر اپنے عاشق کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کرنے کا الزام تھا۔ دلائل مکمل ہونے کے بعد جج نے رویتا اور امر دیپ سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی سزا کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں۔ دونوں نے کوئی بات کہنے سے انکار کر دیا، جس کے بعد عدالت نے انہیں سزائے موت سنا دی۔
امت کی والدہ منیش نے پہلے ہی الزام لگایا تھا کہ ان کے بیٹے کے قتل کو سانپ کے ڈسنے کا واقعہ ظاہر کرنے کی کوشش کی گئی، تاکہ کسی کو شک نہ ہو۔ تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ میں موت کی وجہ دم گھٹنا سامنے آنے کے بعد معاملے نے نیا رخ اختیار کر لیا۔ پولیس کے مطابق، رویتا کے موبائل فون کے کال ریکارڈز سے امر دیپ کے ساتھ اس کے تعلقات اور مبینہ سازش سے متعلق شواہد ملے۔
مقدمے کے دوران رویتا نے اپنے شوہر کے قتل میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور واقعے کی تفصیلات بیان کیں۔ اس کے مطابق، جب امت سو رہا تھا تو اس نے اس کے ہاتھ پکڑ کر اس کا منہ ڈھانپ دیا، جبکہ امر دیپ نے اس کا گلا گھونٹ دیا۔ رویتا نے یہ بھی بتایا کہ سانپ کا انتظام امر دیپ نے کیا تھا۔ قتل کے بعد بستر پر ایک سانپ چھوڑ دیا گیا، تاکہ امت کی موت سانپ کے ڈسنے سے ہوئی معلوم ہو۔ تاہم، پوسٹ مارٹم رپورٹ نے اس کہانی پر سوال کھڑے کر دیے اور پولیس کی تحقیقات کے بعد دونوں کو قتل کا مجرم قرار دیا گیا۔ اب عدالت نے دونوں کو سزائے موت سنائی ہے۔






