دہلی میں ممکنہ احتجاج کے پیشِ نظر مرکزی وزارتِ داخلہ (MHA) نے قومی دارالحکومت میں مرکزی مسلح پولیس فورسز (CAPF) کی 273 کمپنیوں کی تعیناتی کی مدت میں 31 اکتوبر تک توسیع کر دی ہے۔ یہ اس تعیناتی میں دوسری توسیع ہے۔ سرکاری ذرائع نے جمعہ کو بتایا کہ ان دستوں کو ابتدائی طور پر رواں ماہ کے اوائل میں کاکروچ جنتا پارٹی کے احتجاج کے پیشِ نظر دہلی بلایا گیا تھا۔ میڈیا رپورٹ کے مطابق، وزارتِ داخلہ نے 22 اکتوبر کو دہلی پولیس اور متعلقہ CAPF یونٹوں کو تعیناتی کے سلسلے میں باہمی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھنے کی ہدایات جاری کیں۔ دہلی پولیس نے دارالحکومت میں جاری احتجاج اور مزید مظاہروں کے امکان کا حوالہ دیتے ہوئے CAPF کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق، دہلی پولیس نے وزارتِ داخلہ کو باضابطہ مراسلہ بھیج کر CAPF کی 273 کمپنیوں کی تعیناتی مقررہ مدت کے بعد بھی جاری رکھنے کی اجازت طلب کی تھی۔ اس سے قبل 10 اکتوبر کو CJP کے احتجاج سے نمٹنے کے لیے دہلی میں CAPF اہلکاروں کی بڑے پیمانے پر تعیناتی شروع کی گئی تھی۔ دہلی پولیس کی سابقہ درخواستوں پر وزارتِ داخلہ نے مجموعی طور پر CAPF کی 301 کمپنیوں کی تعیناتی کی منظوری دی تھی۔ ان میں 6 اکتوبر کو طلب کی گئی 221 کمپنیاں اور 8 اکتوبر کو مزید طلب کی گئی 80 کمپنیاں شامل تھیں۔ اب CJP اور دیگر تنظیموں کی جانب سے مزید احتجاج کے خدشے کے پیشِ نظر وزارتِ داخلہ نے CAPF کی 273 کمپنیوں کی تعیناتی میں 31 اکتوبر تک توسیع کی منظوری دے دی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، مظاہرین ایک بار پھر جنتر منتر، الیکشن کمیشن، پارلیمنٹ ہاؤس اور انڈیا گیٹ سمیت اہم مقامات پر احتجاج کر سکتے ہیں۔ اس کے پیشِ نظر دہلی پولیس کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا ہے۔ وزارتِ داخلہ کو بھیجے گئے مراسلے میں سرکاری وزراء کے دفاتر اور رہائش گاہوں کے باہر ممکنہ مظاہروں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دہلی پولیس نے ان خدشات کے پیشِ نظر امن و امان برقرار رکھنے اور کسی بھی ہنگامی صورتِ حال سے مؤثر طریقے سے نمٹنے کے لیے CAPF کی تعیناتی میں توسیع کی درخواست کی تھی۔ وزارتِ داخلہ کی تازہ منظوری کے بعد مرکزی مسلح پولیس فورسز کی 273 کمپنیاں 31 اکتوبر تک دہلی میں تعینات رہیں گی۔







