Friday, October 30, 2026 | 18 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • عالمی منظر
  • »
  • اسرائیل میں انتخابی نتائج پر تنازع، نتن یاہو کی جماعت نے عرب قیادت والی جماعتوں پر لگائے سنگین الزامات

اسرائیل میں انتخابی نتائج پر تنازع، نتن یاہو کی جماعت نے عرب قیادت والی جماعتوں پر لگائے سنگین الزامات

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 30 Oct 2026

اسرائیل میں انتخابی نتائج پر تنازع، نتن یاہو کی جماعت نے عرب قیادت والی جماعتوں پر لگائے سنگین الزامات
نتن یاہو کے اتحاد کو صرف 53 نشستیں حاصل ہوئیں
120 رکنی کنیسٹ میں حکومت بنانے کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت
 
اسرائیل میں انتخابات کے نتائج سامنے آنے کے بعد سیاسی ماحول گرم ہو گیا ہے۔ وزیر اعظم بنجامن نتن یاہو کی جماعت نے عرب قیادت والی جماعتوں پر انتخابات میں مبینہ دھاندلی کے الزامات عائد کیے ہیں۔ ان الزامات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ عرب قیادت والی جماعتوں نے ممکنہ طور پر بیرونی مدد حاصل کرکے انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی اور انتخابات چوری کیے۔ تاہم، ان الزامات کے حق میں کسی ثبوت کی تفصیل سامنے نہیں آئی ہے۔ یہ الزامات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب انتخابی حکام کے جاری کردہ حتمی نتائج نے نتن یاہو کے سیاسی مستقبل اور حکومت سازی کے امکانات پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ نتائج کے مطابق، نتن یاہو کے اتحاد کو 120 رکنی اسرائیلی پارلیمنٹ میں صرف 53 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ یہ تعداد گزشتہ پارلیمنٹ میں ان کے اتحاد کی 68 نشستوں کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہے۔
 
اپوزیشن اور عرب جماعتوں کی نشستیں
 
انتخابی نتائج کے مطابق، نتن یاہو کے اتحاد کے مقابلے میں مرکزی اپوزیشن نے 48 نشستیں حاصل کی ہیں، جبکہ عرب قیادت والی جماعتوں نے مجموعی طور پر 19 نشستوں پر کامیابی حاصل کی ہے۔ اس طرح پارلیمنٹ میں مختلف سیاسی گروپوں کی نشستوں کی تقسیم نے حکومت سازی کو مشکل بنا دیا ہے۔ نتن یاہو کی جماعت کی جانب سے عرب قیادت والی جماعتوں پر لگائے گئے الزامات نے انتخابی نتائج کے بعد جاری سیاسی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ خاص طور پر بیرونی مداخلت کا دعویٰ سیاسی حلقوں میں توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ تاہم، صرف الزامات کی بنیاد پر انتخابی عمل میں دھاندلی کو ثابت شدہ حقیقت قرار نہیں دیا جا سکتا۔
 
حکومت سازی کے لیے 61 نشستوں کی ضرورت
 
اسرائیل کی 120 رکنی پارلیمنٹ، جسے کنیسٹ کہا جاتا ہے، میں حکومت بنانے کے لیے کم از کم 61 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ موجودہ نتائج کے مطابق نتن یاہو کا اتحاد اس اکثریت سے آٹھ نشستیں پیچھے ہے، جبکہ مرکزی اپوزیشن بھی تنہا اکثریت حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ ایسے میں حکومت سازی کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنا انتہائی اہم ہو گیا ہے۔ سیاسی اتحادوں اور ممکنہ حمایت کے حوالے سے مذاکرات کا نتیجہ طے کرے گا کہ آئندہ اسرائیل میں حکومت کس کی تشکیل ہوگی۔ نتائج کے بعد نتن یاہو کے اتحاد کی نشستوں میں کمی اور عرب قیادت والی جماعتوں کی کامیابی اسرائیلی سیاست میں ایک اہم تبدیلی کے طور پر دیکھی جا رہی ہے۔ اب سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ آیا نتن یاہو اپنی حکومت برقرار رکھنے کے لیے مطلوبہ حمایت حاصل کر پاتے ہیں یا اپوزیشن کو حکومت بنانے کا موقع ملتا ہے۔