Friday, October 30, 2026 | 18 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جرائم/حادثات
  • »
  • سپریم کورٹ نے اننت سنگھ کی ضمانت منسوخ کر دی، یکم دسمبر تک سرنڈر کرنے کا حکم

سپریم کورٹ نے اننت سنگھ کی ضمانت منسوخ کر دی، یکم دسمبر تک سرنڈر کرنے کا حکم

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: | Last Updated: 30 Oct 2026

سپریم کورٹ نے اننت سنگھ کی ضمانت منسوخ کر دی، یکم دسمبر تک سرنڈر کرنے کا حکم
عدالت نے کہا کہ قتل کے مقدمے کو محض سیاسی تنازعہ نہیں سمجھا جا سکتا
پولیس کو چار ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت
 
بہار میں جے ڈی یو کے رکن اسمبلی اننت سنگھ کو دلرچند یادو قتل کیس میں بڑا جھٹکا لگا ہے۔ سپریم کورٹ نے جمعہ کو ان کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں یکم دسمبر تک متعلقہ حکام کے سامنے خود کو پیش کرنے، یعنی سرنڈر کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ قتل جیسے سنگین مقدمے کو محض سیاسی تنازعہ قرار دے کر نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے ضمانت سے متعلق حکم پر روک لگاتے ہوئے کہا کہ اس معاملے میں تفتیش ابھی جاری ہے اور مقدمے کی سماعت کے دوران گواہوں کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔ عدالت نے پولیس کو ہدایت دی کہ وہ چار ماہ کے اندر تفتیش مکمل کرے۔ اننت سنگھ نے اپنی بیٹی کی شادی کا حوالہ دیتے ہوئے سرنڈر کرنے کے لیے مزید وقت دینے کی درخواست کی تھی، تاہم عدالت نے انہیں یکم دسمبر تک خود کو حکام کے حوالے کرنے کا حکم دیا۔
 
جے ڈی یو نے اننت سنگھ کو پارٹی سے نکالا
 
سپریم کورٹ کے فیصلے سے پہلے جے ڈی یو بھی اننت سنگھ کے خلاف کارروائی کر چکی ہے۔ پارٹی نے انہیں نکالنے کے ساتھ اسمبلی اسپیکر کو خط لکھ کر ان کی رکنیت ختم کرنے کی درخواست بھی کی ہے۔ اس معاملے پر جے ڈی یو کے نیشنل ایگزیکٹو صدر سنجے کمار جھا نے کہا کہ پارٹی نظم و ضبط کے تحت کام کرتی ہے اور اہم فیصلے باہمی اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں، جنہیں نتیش کمار کی حتمی منظوری حاصل ہوتی ہے۔ ان کے مطابق، پارٹی کے فیصلوں کو ہر رکن کو قبول کرنا ہوتا ہے۔ دراصل، قانون ساز کونسل کے انتخابات کے دوران اننت سنگھ مسلسل جے ڈی یو امیدوار نیرج کمار کے خلاف بیانات دے رہے تھے۔ انہوں نے نیرج کمار کو شکست دینے کے لیے جن سوراج کے امیدوار انوج سنگھ کی حمایت بھی کی تھی۔ تاہم، انتخابی نتائج میں نیرج کمار کامیاب رہے۔ اس کے بعد پارٹی نے اننت سنگھ اور ان کی اہلیہ دونوں کو باہر کا راستہ دکھا دیا۔
 
کیا ہے دلرچند یادو قتل کا معاملہ؟
 
بہار اسمبلی انتخابات کے دوران جے ڈی یو نے اننت سنگھ کو موکاما اسمبلی حلقے سے امیدوار بنایا تھا، جہاں سے وہ کامیاب ہوئے۔ اسی دوران 30 اکتوبر کو انتخابی مہم کے دوران دلرچند یادو کا قتل ہو گیا۔ دلرچند یادو جن سوراج پارٹی کے امیدوار پیوش پریادرشی کے لیے انتخابی مہم چلا رہے تھے۔ اس قتل کے معاملے میں اننت سنگھ پر الزام عائد کیا گیا، جس کے بعد انہیں گرفتار کر لیا گیا۔اب سپریم کورٹ کی جانب سے ضمانت منسوخ کیے جانے کے بعد اننت سنگھ کے لیے قانونی مشکلات بڑھ گئی ہیں۔ عدالت نے پولیس کو چار ماہ میں تفتیش مکمل کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ اب اس معاملے میں آئندہ قانونی کارروائی اور تفتیش کی پیش رفت اہم ہوگی۔