ای یو ایف او آر کے تربیتی مشن کے دوران حادثہ
ہلاک ہونے والوں میں 2 فوجی اور ریڈ کراس کے 2 رضاکار شامل
بوسنیا کے شمالی علاقے برچکو میں یورپی یونین کے امن مشن ای یو ایف او آر سے منسلک اٹلی کا فوجی ہیلی کاپٹر چنوک سی ایچ-47 تربیتی پرواز کے دوران حادثے کا شکار ہو گیا۔ اس حادثے میں 4 افراد ہلاک اور 11 زخمی ہو گئے۔ مقامی حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر میں مجموعی طور پر 15 افراد سوار تھے۔ برچکو اسپتال کے ترجمان صالح ابراہیم بیگووچ نے بتایا کہ 3 افراد کی موت جائے حادثہ پر ہی ہو گئی تھی، جبکہ ایک زخمی نے اسپتال پہنچنے کے بعد دم توڑ دیا۔ اٹلی کی وزارت دفاع نے تصدیق کی ہے کہ ہلاک ہونے والوں میں 2 فوجی اہلکار اور ریڈ کراس کے 2 رضاکار شامل ہیں۔
زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا
حادثہ سراجیوو سے تقریباً 180 کلومیٹر شمال میں پیش آیا۔ ریسکیو ٹیموں نے فوری کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو برچکو اسپتال منتقل کیا، جہاں انہیں طبی امداد دی گئی۔ زخمیوں میں سے 3 کی حالت تشویش ناک بتائی گئی، جنہیں بہتر علاج کے لیے تقریباً 50 کلومیٹر دور توزلا کے اسپتال منتقل کرنے کی تیاری کی گئی۔ اسپتال انتظامیہ کے مطابق اس وقت سب سے اہم ترجیح زخمیوں کی جان بچانا ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ایک ویڈیو میں ہیلی کاپٹر کو فضا میں گھومتے اور اپنا توازن کھوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے، جس کے بعد وہ تیزی سے ایک کھلے گھاس کے میدان میں گر جاتا ہے۔ مقامی میڈیا کی جانب سے جاری تصاویر میں حادثے کے بعد ہیلی کاپٹر کا تباہ شدہ ملبہ بھی دکھائی دیا ہے۔
حادثے کی وجوہات جاننے کے لیے تحقیقات شروع
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ہیلی کاپٹر کس وجہ سے گرا۔ ای یو ایف او آر نے حادثے کی جامع اور تکنیکی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ مشن کے مطابق حادثہ ایک کھلے میدان میں پیش آیا، جس میں کسی شہری کو نقصان نہیں پہنچا اور نہ ہی قریبی عمارتوں، گاڑیوں یا املاک کو کوئی نقصان ہوا۔ یہ پرواز معمول کی تربیتی مشق کا حصہ تھی، جس کے دوران عملہ ہنگامی حالات سے نمٹنے، سامان کی منتقلی اور کم بلندی پر پرواز کی مشق کر رہا تھا۔ چنوک سی ایچ-47 ایک بھاری فوجی ہیلی کاپٹر ہے، جس میں دو روٹر ہوتے ہیں۔ اسے فوجی کارروائیوں، طبی انخلا اور انسانی امداد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ حادثے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد جمع کیے جا رہے ہیں۔ حکام پرواز کے ریکارڈ، مواصلاتی نظام، ہیلی کاپٹر کے پرزوں اور ویڈیو فوٹیج کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اس کے علاوہ زندہ بچ جانے والے افراد اور عینی شاہدین کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جا رہے ہیں۔
اٹلی کی قیادت کا اظہارِ افسوس
اٹلی کے وزیر دفاع گائیڈو کروسیٹو نے ہلاک ہونے والوں کے اہل خانہ سے تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ حادثے کی ذمہ داری کا تعین کرنے کے لیے ہر ممکن تعاون کیا جائے گا۔ اٹلی کی وزیر اعظم جارجیا میلونی نے بھی اس سانحے پر دکھ کا اظہار کیا اور ہلاک ہونے والوں کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ حادثے سے متعلق غیر مصدقہ خبریں پھیلانے سے گریز کریں اور سرکاری معلومات کا انتظار کریں۔ تحقیقات مکمل ہونے تک ای یو ایف او آر نے اپنے تربیتی پروازوں کے حفاظتی انتظامات کا بھی جائزہ شروع کر دیا ہے۔






