Friday, October 30, 2026 | 18 جمادى الأولى 1448
  • News
  • »
  • جموں وکشمیر
  • »
  • جموں و کشمیر میں ہیلتھ سپلیمنٹس کے معیار پر سوالات، 328 میں سے 136 نمونے جانچ میں ناکام

جموں و کشمیر میں ہیلتھ سپلیمنٹس کے معیار پر سوالات، 328 میں سے 136 نمونے جانچ میں ناکام

Reported By: Munsif News Bureau | Edited By: Md Shahbaz | Last Updated: 30 Oct 2026

جموں و کشمیر میں ہیلتھ سپلیمنٹس کے معیار پر سوالات، 328 میں سے 136 نمونے جانچ میں ناکام
جموں و کشمیر میں ہیلتھ سپلیمنٹس کے معیار سے متعلق تشویش ناک انکشاف سامنے آیا ہے۔ ڈرگ اینڈ فوڈ کنٹرول آرگنائزیشن کے مطابق گزشتہ 6 ماہ کے دوران جمع کیے گئے 328 نیوٹراسیوٹیکل نمونوں میں سے 136 مقررہ معیار پر پورے نہیں اترے۔ یعنی جانچ کے دوران تقریباً ہر دوسرے نمونے میں کوئی نہ کوئی خامی پائی گئی۔ اس انکشاف نے صارفین کی صحت اور ان کے پیسوں کے تحفظ سے متعلق سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ محکمہ کے مطابق مارکیٹ میں دستیاب پاؤڈر، کیپسول اور ساشے کی مزید جانچ بھی کی جا رہی ہے تاکہ ان کی اصل کوالٹی کا پتہ لگایا جا سکے۔
 
کئی مصنوعات میں اجزا کی مقدار کم نکلی
 
محکمہ کے عہدیداروں نے بتایا کہ ناکام نمونوں میں سے کئی مصنوعات میں فعال اجزا کی مقدار لیبل پر درج دعوے سے کم پائی گئی۔ اس کے علاوہ بعض مصنوعات میں ایسے پریزرویٹو بھی موجود تھے جن کا پیکنگ پر کوئی ذکر نہیں کیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق معاملے کی تفصیلی جانچ جاری ہے اور خلاف ورزی ثابت ہونے پر قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق صارفین کسی بھی سپلیمنٹ کی خریداری کے وقت اس کے لیبل پر درج معلومات پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ایسے میں اگر اجزا کی مقدار یا ان کی تفصیلات درست نہ ہوں تو صارفین غلط معلومات کی بنیاد پر مصنوعات خرید سکتے ہیں۔
 
ملک کی دوسری ریاستوں میں بھی سپلیمنٹس کی جانچ تیز
 
یہ مسئلہ صرف جموں و کشمیر تک محدود نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے حکومتِ ہند کے ادارے سی ڈی ایس سی او کی جانچ میں آئرن انجیکشن، ملٹی وٹامنز اور کیلشیم کی بعض مصنوعات کے نمونے بھی معیار پر پورے نہیں اترے۔ اس کے علاوہ ہریانہ سمیت کئی ریاستوں کے فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن محکموں نے بھی نیوٹراسیوٹیکلز کی جانچ کا عمل تیز کر دیا ہے۔
 
پروٹین سپلیمنٹس کی تحقیق میں بھی کئی خامیاں سامنے آئیں
 
اسی سلسلے میں ہیپاٹولوجسٹ ڈاکٹر سیریئک ایبی فلپس کی قیادت میں ایک آزاد تحقیق کی گئی، جس میں ہندوستان میں فروخت ہونے والے 36 مقبول پروٹین سپلیمنٹس کا تجزیہ کیا گیا۔ اپریل 2024 میں طبی جریدے ’میڈیسن‘ میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق کئی مصنوعات میں لیبل پر درج پروٹین کی مقدار اور لیبارٹری میں پائی جانے والی اصل مقدار کے درمیان واضح فرق تھا۔
 
کچھ مصنوعات میں پروٹین کی مقدار درج شدہ مقدار سے زیادہ بھی پائی گئی، جس سے پروٹین یا امینو ایسڈ کی مقدار مصنوعی طور پر بڑھانے کے خدشات سامنے آئے۔ تحقیق میں 4 مصنوعات میں افلاٹوکسِنز بھی پائے گئے، جبکہ بعض نمونوں میں جراثیمی زہریلے مادوں، کیڑے مار ادویات کی باقیات اور بھاری دھاتوں کی موجودگی کا بھی انکشاف ہوا۔ یہ نتائج اس بات کی اہمیت واضح کرتے ہیں کہ ہیلتھ سپلیمنٹس میں درج اجزا اور ان کی مقدار کی باقاعدہ لیبارٹری جانچ ضروری ہے، تاکہ صارفین کو وہی معیار ملے جس کے لیے وہ رقم ادا کرتے ہیں۔