اننت سنگھ نے کہا: عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے
عدالت میں پیش ہو کر اپیل دائر کروں گا
بہار کے سابق رکن اسمبلی اننت سنگھ نے سپریم کورٹ کی جانب سے سرنڈر کرنے کی ہدایت پر اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے جے ڈی یو کے رکن قانون ساز کونسل نیرج کمار پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے انہیں ایک سازش کے تحت اس معاملے میں پھنسایا ہے۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اننت سنگھ نے کہا کہ انہیں عدلیہ پر پورا بھروسہ ہے اور وہ عدالت کے سامنے پیش ہو کر اپیل دائر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا، مجھے اس معاملے میں جے ڈی یو کے نیرج کمار نے پھنسایا ہے۔ تاہم مجھے نہیں لگتا کہ اس کے پیچھے حکومت کا ہاتھ ہے۔ دوسری جانب جے ڈی یو کے ایم ایل سی نیرج کمار نے بھی سپریم کورٹ کی ہدایت پر ردعمل دیا۔ انہوں نے طنزیہ انداز میں کہا، یہ ان کا اپنا معاملہ ہے، ہم ایسے لوگوں پر توجہ نہیں دیتے۔
بیٹی کی شادی کے بعد عدالت میں پیش ہوں گے اننت سنگھ
اننت سنگھ کی جانب سے درخواست دائر کرنے والی وکیل شلپی چودھری نے بتایا کہ اننت سنگھ کی بیٹی کی شادی ہونے والی ہے اور وہ شادی کے بعد عدالت کے سامنے پیش ہو جائیں گے۔ وکیل کے مطابق سپریم کورٹ نے فی الحال ان کی ضمانت منسوخ نہیں کی ہے، بلکہ انہیں عدالت کے سامنے سرنڈر کرنے کی ہدایت دی ہے۔ عدالت نے تفتیشی ایجنسی کو چار ماہ کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کا حکم بھی دیا ہے۔ اس کے بعد معاملے کو دوبارہ سماعت کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں یہ طے ہوگا کہ اننت سنگھ کی ضمانت منسوخ کی جانی چاہیے یا نہیں۔
67 مجرمانہ مقدمات کا معاملہ بھی زیرِ بحث
وکیل شلپی چودھری کے مطابق سپریم کورٹ نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اننت سنگھ کے خلاف 67 مجرمانہ مقدمات درج ہونے کے باوجود انہیں ہائی کورٹ سے ضمانت کیسے مل گئی۔ عدالت نے اس معاملے پر سخت موقف اختیار کیا ہے۔ ادھر درخواست گزار کے وکیل امرکانت پٹیل نے بتایا کہ اننت سنگھ کے خلاف قتل، اقدامِ قتل، اغوا اور بھتہ خوری جیسے سنگین الزامات کے تحت مقدمات درج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہر مقدمے کی موجودہ صورتحال جاننا بھی ضروری ہے۔ امرکانت پٹیل کے مطابق اننت سنگھ کے خلاف مجموعی طور پر 67 مقدمات درج ہیں۔ اننت سنگھ نے انتخابات کے دوران جمع کرائے گئے اپنے حلف نامے میں بھی ان مقدمات اور ان کی موجودہ حیثیت کی تفصیلات پیش کی تھیں۔ اب اس معاملے میں سب کی نظریں اننت سنگھ کے سرنڈر کرنے اور آئندہ عدالتی کارروائی پر لگی ہوئی ہیں۔






