کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما سورو داس اور آشوتوش رانکا جیل میں ہیں، جبکہ پارٹی ان کی رہائی کے لیے مسلسل کوششیں کر رہی ہے۔ اس دوران پارٹی کے بانی ابھیجیت ڈپکے نے مظاہرین سے اپیل کی ہے کہ وہ تہوار کے موسم میں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ وقت گزاریں اور فی الحال احتجاج سے دور رہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پارٹی کے رہنما دیوالی تک کسی احتجاج کا منصوبہ نہیں بنا رہے ہیں۔ ابھیجیت ڈپکے نے سورو داس اور آشوتوش رانکا کو تحریک کے حقیقی رہنما قرار دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے تحریک میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان کی گرفتاری کے بعد بھی پارٹی ان کی رہائی کے لیے سرگرم ہے اور اس سلسلے میں مسلسل کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ابھیجیت ڈپکے نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ شیئر کرتے ہوئے گزشتہ احتجاجی مظاہروں میں حصہ لینے والے افراد کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ مظاہروں کے دوران کارکنوں اور حامیوں کو بہت مشکل وقت سے گزرنا پڑا۔ اس دوران نہ صرف مظاہرین کو پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑا، بلکہ ان کے خاندان بھی متاثر ہوئے۔ انہوں نے مظاہرین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اہلِ خانہ کی مشکلات کو سمجھیں اور تہوار کے اس موسم میں ان کے ساتھ وقت گزاریں۔ ڈپکے کے مطابق، احتجاج میں شرکت کرنے والوں کے خاندانوں کو بھی اس صورتِ حال کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔ ایسے میں ضروری ہے کہ مظاہرین اپنے گھر والوں کے ساتھ وقت گزاریں اور انہیں بھی توجہ دیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے ان ناقدین پر بھی تنقید کی جنہوں نے پارٹی کے احتجاج کا موازنہ نیپال، بنگلہ دیش اور فرانس میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں سے کیا تھا۔ ان کے مطابق، پارٹی کی تحریک کے بارے میں اس طرح کا موازنہ کرنے والوں کو احتجاج کے دوران پیش آنے والی مشکلات اور حالات کو بھی سمجھنا چاہیے۔ ڈپکے نے اپنی سوشل میڈیا پوسٹ میں مظاہرین کی حمایت کو سراہتے ہوئے ان کی قربانیوں کا ذکر کیا اور اس بات پر زور دیا کہ تحریک میں شامل افراد کے ساتھ ان کے خاندانوں کی مشکلات کو بھی نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔
ابھیجیت ڈپکے کے اعلان کے مطابق، کاکروچ جنتا پارٹی کے رہنما دیوالی تک احتجاج نہیں کریں گے۔ اس فیصلے سے مظاہرین کو تہوار کے دوران اپنے خاندانوں کے ساتھ وقت گزارنے کا موقع ملے گا۔ تاہم، سورو داس اور آشوتوش رانکا کی رہائی کے لیے پارٹی کی کوششیں جاری رہیں گی۔ فی الحال پارٹی کی توجہ ان دونوں رہنماؤں کی رہائی اور مظاہرین کے ساتھ رابطہ برقرار رکھنے پر ہے۔ دیوالی کے بعد احتجاج کے بارے میں کیا فیصلہ کیا جائے گا۔







